رموز بے خودی

در رہ حق تیز تر گردد تکش

در رہ حق تیز تر گردد تکش

گرم تر از برق خون اندر رگش

ترجمہ

راہِ حق میں اس کی دوڑ اور جدوجہد تیز تر ہو جاتی ہے، اور اس کی رگوں میں دوڑنے والا خون بجلی سے بھی زیادہ گرم ہو جاتا ہے۔

تشریح

علامہ اقبال اس شعر میں توحید کے اس زندہ اور متحرک اثر کو بیان کرتے ہیں جو بندے کے اندر سستی کے بجائے حرارت، جمود کے بجائے حرکت، اور تماشائی پن کے بجائے مجاہدانہ زندگی پیدا کرتا ہے۔ یہاں مومن کی روحانی کیفیت کو قوت، جوش اور تیزی کے استعاروں میں پیش کیا گیا ہے۔ شعر کے مطابق:

راہِ حق میں تیزی کا معنی:

“تک” سے مراد دوڑ، کوشش یا تیز قدمی ہے۔ اقبال کے نزدیک حق کا راستہ اختیار کرنا صرف نظری طور پر کسی سچائی کو قبول کر لینے کا نام نہیں، بلکہ اس کے تقاضوں کے لیے سرگرم ہو جانے کا نام ہے۔ جب انسان کے دل میں توحید زندہ ہوتی ہے تو وہ نیکی، عدل، اصلاح اور خدمت کے کاموں میں سست نہیں رہتا۔ اس کے اندر ایک باطنی جلدی اور آمادگی پیدا ہوتی ہے۔

یہ تیزی بےصبری نہیں بلکہ بیداری ہے۔ اسے معلوم ہوتا ہے کہ زندگی مختصر ہے اور ذمہ داری بڑی، اس لیے اس کا قدم ڈھیلا نہیں پڑتا۔

خون کی گرمی کا استعارہ:

“گرم تر از برق خون اندر رگش” میں شاعر نے انتہائی شدت کے ساتھ داخلی حرارت کو بیان کیا ہے۔ بجلی سرعت اور توانائی کی علامت ہے، اور خون زندگی کی۔ جب اقبال کہتے ہیں کہ اس کے خون میں بجلی سے بھی زیادہ گرمی ہے تو مراد یہ ہے کہ اس کے اندر یقین، ہمت اور جذبۂ عمل اس درجے پر پہنچ جاتے ہیں کہ وہ مردہ یا بےحس نہیں رہتا۔

یہی حرارت انسان کو خوف اور مصلحت پرستی کے جال سے نکال کر اقدام کی قوت دیتی ہے۔

روحانی حرارت اور اخلاقی اقدام:

اقبال کا مقصود محض جذباتی ابال نہیں ہے۔ وہ ایسی گرمی چاہتے ہیں جو اخلاقی ہو، مقصدی ہو، اور حق کے تابع ہو۔ اگر حرارت ہو مگر سمت نہ ہو تو وہ فساد بن سکتی ہے، مگر جب یہ گرمی توحید سے پیدا ہو تو وہ عدل، استقامت اور قربانی میں ظاہر ہوتی ہے۔

یعنی مومن کی قوت دوسروں پر چڑھائی کے لیے نہیں، بلکہ حق کے قیام، کمزور کی مدد اور اپنی ذمہ داری ادا کرنے کے لیے بیدار ہوتی ہے۔

سستی کے خلاف پیغام:

یہ شعر اس ذہنیت کی تردید بھی کرتا ہے جو دین کو صرف خلوت، سکون یا دنیا سے بےتعلقی کے معنی میں سمجھتی ہے۔ اقبال کے نزدیک سچا دین انسان کو بےجان نہیں بناتا، بلکہ اس کی زندگی میں شدتِ احساس اور قوتِ عمل پیدا کرتا ہے۔ توحید آدمی کو بزدل، تھکا ہوا یا تماشائی نہیں رہنے دیتی۔

اسی لیے اقبال کی نگاہ میں مومن خاموش پتھر نہیں بلکہ جاگتی ہوئی قوت ہے۔

ملت کی بیداری:

جو قوم حق کے راستے میں اپنی رفتار کھو دیتی ہے وہ دوسروں کے پیچھے چلنے لگتی ہے۔ اقبال چاہتے ہیں کہ امت کے رگ و پے میں وہی حرارت واپس آئے جو اسے علمی، اخلاقی اور عملی میدانوں میں زندہ کر دے۔ توحید یہ حرارت مہیا کرتی ہے، کیونکہ وہ بندے کو اپنے رب، اپنے مقصد اور اپنی ذمہ داری سے جوڑ دیتی ہے۔

پس فرد کا گرم خون دراصل ملت کی اجتماعی بیداری کا پیش خیمہ بن سکتا ہے۔

مثال

جب کسی انسان کو یہ یقین ہو جائے کہ ایک کام سچا، ضروری اور اس کے ذمہ ہے، تو وہ اس میں ٹال مٹول نہیں کرتا۔ جیسے ایک ذمہ دار ڈاکٹر ہنگامی حالت میں فوراً متحرک ہو جاتا ہے، اسی طرح حق شناس انسان بھی توحید کے شعور سے عمل میں تیزی اختیار کرتا ہے۔

خلاصہ

اقبال کے نزدیک توحید بندے کی رگوں میں ایسی حرارت اور اس کے قدموں میں ایسی تیزی پیدا کرتی ہے کہ وہ حق کے راستے میں بیدار، سرگرم اور ثابت قدم ہو جاتا ہے۔ یہی روحانی گرمی اس کی عملی زندگی کو معنی اور طاقت دیتی ہے۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button