گویدش تو بندۂ دیگر نہ ئی
گویدش تو بندۂ دیگر نہ ئی
زیں بتان بی زبان کمتر نہ ئی
ترجمہ
وہ (رہنما) اس سے کہتا ہے کہ تو کسی اور کا بندہ نہیں ہے، اور تو ان بے زبان بتوں سے کمتر نہیں ہے۔
تشریح
علامہ اقبال اس شعر میں کامل رہنما کی اس تعلیم کو بیان کرتے ہیں جو انسان کو اس کی اصل عظمت اور وقار یاد دلاتی ہے۔ شعر کے مطابق:
تو کسی اور کا بندہ نہیں:
اقبال کہتے ہیں کہ رہنما انسان سے کہتا ہے کہ تو کسی اور کا بندہ اور غلام نہیں ہے۔ یعنی تیری بندگی صرف ایک اللہ کے لیے ہے، کسی مخلوق یا جھوٹے معبود کے لیے نہیں۔
یہ تعلیم انسان کو اس کی اصل حیثیت یاد دلاتی ہے کہ وہ صرف اپنے خالق کے سامنے جھکنے والا ہے، کسی اور کے سامنے نہیں۔
بتوں سے کمتر نہ ہونا:
شاعر کہتے ہیں کہ رہنما اسے سمجھاتا ہے کہ تو ان بے زبان بتوں سے کمتر نہیں ہے، پھر تو ان کے سامنے کیوں جھکتا ہے۔ یعنی انسان اشرف المخلوقات ہے اور ان بے جان معبودوں سے کہیں بلند ہے۔
یہ استدلال انسان کے اندر عزتِ نفس اور خود آگاہی پیدا کرتا ہے کہ وہ اپنی عظمت کو پہچانے اور پستی کی طرف نہ جھکے۔
عزتِ نفس کی بحالی:
اقبال یہ باور کراتے ہیں کہ رہنما انسان کو اس کی کھوئی ہوئی عزتِ نفس اور اس کی اصل عظمت واپس دلاتا ہے۔
خود آگاہی کی تعلیم:
یہی خود آگاہی اور یہی احساسِ عظمت ہے جو انسان کو جھوٹے معبودوں کی غلامی سے نکال کر ایک باوقار بندگی کی طرف لے آتا ہے۔
مثال
جیسے کوئی دانا استاد کسی باصلاحیت شخص کو یاد دلائے کہ تو ان بے وقعت چیزوں سے کہیں بڑھ کر ہے، تو کیوں ان کے آگے جھکتا ہے، ویسے ہی رہنما انسان کو اس کی اصل عظمت یاد دلاتا ہے۔
خلاصہ
اس شعر کا پیغام یہ ہے کہ کامل رہنما انسان کو اس کی اصل عظمت اور عزتِ نفس یاد دلاتا ہے کہ وہ بے جان معبودوں سے بلند ہے، اس لیے صرف ایک خدا کے سامنے جھکے۔

