رموز بے خودی

تا خدا صاحبدلی پیدا کند

تا خدا صاحبدلی پیدا کند

کو ز حرفی دفتری املا کند

ترجمہ

(یہ حالت اس وقت تک رہتی ہے) جب تک خدا کوئی صاحبِ دل (کامل رہنما) پیدا نہ کرے، جو ایک ہی حرف سے ایک پورا دفتر لکھوا دے۔

تشریح

علامہ اقبال اس شعر میں خام فرد اور بکھری ہوئی انسانیت کی تربیت اور تکمیل کے لیے ایک کامل رہنما یعنی صاحبِ دل کی ضرورت کو بیان کرتے ہیں، جو نبوت کی طرف اشارہ ہے۔ شعر کے مطابق:

صاحبِ دل کی آمد:

اقبال کہتے ہیں کہ خام فرد کی یہ کمزوری اور بے عملی اس وقت تک رہتی ہے جب تک اللہ تعالیٰ کوئی صاحبِ دل، یعنی کامل رہنما اور نبی، پیدا نہ فرمائے۔

یہی صاحبِ دل اپنی روحانی قوت سے بکھرے ہوئے اور خام افراد کو جمع کر کے انہیں ایک مقصد اور نظام عطا کرتا ہے۔

ایک حرف سے دفتر لکھوانا:

شاعر کہتے ہیں کہ وہ صاحبِ دل ایسا ہوتا ہے جو ایک ہی حرف سے ایک پورا دفتر لکھوا دیتا ہے۔ یعنی وہ ایک چھوٹی سی بات یا اشارے سے عظیم انقلاب اور وسیع تعمیر برپا کر دیتا ہے۔

اس کی رہنمائی میں معمولی افراد بھی عظیم کارنامے سرانجام دینے لگتے ہیں، اور ایک بکھرا ہوا مجمع ایک منظم ملت بن جاتا ہے۔

رہنما کی تخلیقی قوت:

اقبال یہ باور کراتے ہیں کہ کامل رہنما کی قوت اتنی عظیم ہوتی ہے کہ وہ خام مواد سے ایک شاہکار تخلیق کر دیتا ہے۔

نبوت کی اہمیت:

اس شعر میں اقبال اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ ملت کی تربیت اور تکمیل نبوت کے ذریعے ہوتی ہے، جو بکھرے افراد کو ایک عظیم امت میں بدل دیتی ہے۔

مثال

جیسے ایک ماہر استاد اپنے ایک اشارے اور رہنمائی سے ایک عام شاگرد کو بڑا عالم بنا دیتا ہے، ویسے ہی کامل رہنما اپنی روحانی قوت سے خام افراد کو ایک عظیم ملت میں بدل دیتا ہے۔

خلاصہ

اس شعر کا پیغام یہ ہے کہ خام افراد کی تربیت اور تکمیل ایک کامل رہنما یعنی نبی کے ذریعے ہوتی ہے، جو اپنی قوت سے بکھرے افراد کو ایک منظم اور عظیم ملت بنا دیتا ہے۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button