بیم جاں سرمایۂ آب و گلش
بیم جاں سرمایۂ آب و گلش
ہم ز باد تند می لرزد دلش
ترجمہ
جان کا خوف اس (خام فرد) کی مٹی اور وجود کا سرمایہ ہے، اور تیز ہوا سے بھی اس کا دل کانپ اٹھتا ہے۔
تشریح
علامہ اقبال اس شعر میں خام اور غیر تربیت یافتہ فرد کی بزدلی اور خوف زدگی کو بیان کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک ایسا فرد ہر لمحہ ڈر اور اندیشے میں گھرا رہتا ہے۔ شعر کے مطابق:
جان کا خوف بطور سرمایہ:
اقبال کہتے ہیں کہ اس فرد کا سب سے بڑا سرمایہ اس کی جان کا خوف ہے۔ یعنی وہ ہر وقت اپنی جان بچانے اور محفوظ رہنے کی فکر میں رہتا ہے۔
یہی خوف اس کی سوچ اور اس کے اعمال پر حاوی رہتا ہے، اور وہ کوئی بڑا یا خطرے والا قدم اٹھانے سے گھبراتا ہے۔
معمولی خطرے سے لرزنا:
شاعر کہتے ہیں کہ تیز ہوا کے جھونکے سے بھی اس کا دل کانپ اٹھتا ہے۔ یعنی وہ اتنا کمزور اور بزدل ہے کہ معمولی سی مشکل یا خطرہ بھی اسے ہلا دیتا ہے۔
یہ بزدلی اس کی اندرونی کمزوری اور یقین کی کمی کی علامت ہے، جو اسے ہر آزمائش کے سامنے بے بس کر دیتی ہے۔
خوف کی غلامی:
اقبال یہ باور کراتے ہیں کہ خام فرد خوف کا غلام ہوتا ہے، اور یہی خوف اسے بڑے کام کرنے اور بلند مقاصد حاصل کرنے سے روکتا ہے۔
جرأت کی ضرورت:
اس کمزوری کا علاج یقین، حوصلہ اور تربیت ہے، جو فرد کو خوف سے نکال کر جرأت اور استقامت عطا کرتی ہے۔
مثال
جیسے ایک کمزور اور ڈرپوک شخص ہلکی سی آہٹ پر بھی گھبرا جاتا ہے اور کوئی خطرہ مول لینے سے کتراتا ہے، ویسے ہی خام فرد ہر معمولی مشکل کے سامنے لرز اٹھتا ہے۔
خلاصہ
اس شعر کا پیغام یہ ہے کہ خام اور غیر تربیت یافتہ فرد خوف کا غلام ہوتا ہے اور معمولی خطرے سے بھی لرز اٹھتا ہے، اور اسے جرأت کے لیے یقین اور تربیت درکار ہے۔
