رموز بے خودی

گیر او را تا نه او گیرد ترا

گیر او را تا نه او گیرد ترا

همچو می اندر سبو گیرد ترا

ترجمہ

اسے پکڑ لے قبل اس کے کہ وہ تجھے پکڑ لے اور مے کی طرح سبو کے اندر تجھے مقید کر لے۔

تشریح

اس شعر میں اقبال دنیا کے ساتھ صحیح تعلق کا ایک عملی اصول دیتے ہیں: دنیا کو اپنے مقصد کے تابع کرو، ورنہ وہ تمہیں اپنی گرفت میں لے لے گی۔ “گیر او را” میں حکم کا لہجہ ہے، یعنی فعال بنو، قابو پانے والے بنو، اپنی بصیرت اور ارادے کے ساتھ جہان کے میدان میں داخل ہو۔ اس کے مقابل “نه او گیرد ترا” میں خطرہ بتایا گیا ہے: اگر تم نے اسے نہ سنبھالا تو وہ تمہیں سنبھال لے گی، یعنی تمہارے شعور، تمہارے مقاصد، تمہارے وقت، تمہاری خواہشوں اور تمہاری شناخت کو اپنے سانچے میں قید کر لے گی۔

“همچو می اندر سبو” کی تشبیہ بہت خوب صورت اور بلیغ ہے۔ مے جب سبو میں ہوتی ہے تو اس برتن کی قید میں ہوتی ہے؛ وہ اپنی روانی کے باوجود ظرف کے حدود سے باہر نہیں نکلتی۔ اقبال کہتے ہیں کہ اگر انسان دنیا کے ساتھ بیدارانہ تعلق نہ رکھے تو وہ بھی اسی طرح ایک ظرف کے اندر بند ہو جاتا ہے۔ فرق یہ ہے کہ یہاں سبو مادی لذت، عادت، نظام، خواہش، یا جمود کا ظرف ہو سکتا ہے۔ دنیا پھر اس کے ارادے کو محدود کر دیتی ہے، اس کی نگاہ کو چھوٹا کر دیتی ہے، اور اس کی خودی کو اپنے قالب میں جما دیتی ہے۔

پکڑنے کا مفہوم:

دنیا کو “پکڑنا” اقبال کے ہاں دنیا پرستی نہیں بلکہ دنیا پر اختیار حاصل کرنا ہے۔ یعنی اس کے اسباب کو سمجھنا، اس کی قوتوں کو مقصد کے تابع کرنا، اور اس کے اندر رہتے ہوئے بھی اس کا اسیر نہ بننا۔ یہ ایک فعال، باوقار اور خوددار رویہ ہے۔

اس کے برعکس دنیا کے ہاتھ میں آ جانا یہ ہے کہ انسان صرف ردِ عمل میں جئے، حالات اسے چلائیں، لذتیں اسے باندھیں، اور غالب نظام اس کی فکر کا قالب بن جائے۔ اقبال اس محکومیت کے خلاف خبردار کرتے ہیں۔

سبو کی قید:

سبو ایک ظرف ہے، اور ہر ظرف کسی شے کو ایک حد میں رکھتا ہے۔ اقبال کا اشارہ یہ ہے کہ دنیا کے بھی اپنے سانچے ہیں۔ اگر انسان بے خبر ہو تو وہ انہی سانچوں میں بند ہو جاتا ہے: کبھی مال کے سانچے میں، کبھی مرتبے کے، کبھی قومی غرور کے، کبھی عادت کے، کبھی کسی غالب تہذیب کے۔ پھر اس کی خودی آزاد نہیں رہتی۔

یہ قید بظاہر آرام دہ بھی لگ سکتی ہے، جیسے مے سبو میں محفوظ دکھائی دیتی ہے۔ مگر حفاظت اور قید کے درمیان باریک فرق ہے۔ اقبال چاہتے ہیں کہ مسلمان اس فرق کو سمجھے۔

خودی کی آزادی:

اس شعر کا اصل مقصد خودی کی حفاظت ہے۔ اگر دنیا کو مقصد کے تابع نہ کیا جائے تو وہ خودی کو محدود کر دیتی ہے۔ انسان پھر اپنا مرکز باہر ڈھونڈنے لگتا ہے، اور اس کی ہمت، فکر، وقت اور محبتیں سب خارجی سانچوں میں قید ہو جاتی ہیں۔ اقبال یہی نہیں چاہتے۔

لہٰذا وہ حکم دیتے ہیں کہ دنیا کو لو، برتو، سمجھو، سنبھالو، مگر اس میں گم نہ ہو۔ یہ گرفتِ دنیا دراصل گرفتِ نفس اور گرفتِ مقصد کے بعد ہی ممکن ہوتی ہے۔ جس کے اندر مرکز ہو، وہی باہر کے میدان کو سنبھال سکتا ہے۔

آج کے لیے سبق:

آج دنیا کی گرفت پہلے سے کہیں زیادہ باریک اور شدید ہے۔ بازار، میڈیا، عادتیں، اسکرینیں، مقابلے، لذتیں، خوف، اور مسلط تصورات سب انسان کو خاموشی سے اپنے سبو میں بند کر لیتے ہیں۔ اقبال کا یہ شعر آج بھی بالکل زندہ ہے: اگر تم نے دنیا کو بیداری کے ساتھ نہ تھاما تو وہ تمہیں تھام لے گی۔

یہ شعر امت کو صرف اخلاقی نصیحت نہیں بلکہ تہذیبی حکمت دیتا ہے۔ دنیا کو رد نہ کرو، مگر اس کے سانچوں میں ڈھل بھی نہ جاؤ۔ اسے اپنے مقصد، اپنے ایمان اور اپنی خودی کے تابع لو۔ اقبال کے نزدیک یہی آزادی، یہی حکمت، اور یہی تسخیر ہے۔

مثال

جیسے سوار اگر لگام اپنے ہاتھ میں نہ رکھے تو گھوڑا اسے جہاں چاہے لے جائے، ویسے ہی انسان اگر دنیا کی لگام نہ تھامے تو دنیا اسے اپنے سانچے میں قید کر لیتی ہے۔

خلاصہ

اقبال اس شعر میں سکھاتے ہیں کہ دنیا کو مقصد کے تابع کر کے اپنے اختیار میں لو، ورنہ وہ تمہیں اپنی قید میں لے لے گی۔ خودی کی آزادی اسی بیدار گرفت سے محفوظ رہتی ہے۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button