ملت از تکریم ارحام است و بس
ملت از تکریم ارحام است و بس
ورنه کار زندگی خام است و بس
ترجمہ
ملت کی پختگی اور بقا ارحام یعنی ماؤں کے مقام کی تعظیم سے قائم ہوتی ہے، ورنہ زندگی کا پورا کام ناپختہ اور ادھورا رہ جاتا ہے۔
تشریح
اقبال اس شعر میں اپنے پورے استدلال کو نہایت دو ٹوک صورت میں بیان کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ملت کی اصل بنیاد محض سیاسی نظم، معاشی قوت، یا عددی کثرت نہیں، بلکہ “تکریم ارحام” ہے۔ ارحام سے مراد وہ مائیں اور وہ رحمی نسبتیں ہیں جن کے ذریعے نسل آگے بڑھتی ہے اور انسان کا ابتدائی اخلاقی و تہذیبی سانچہ بنتا ہے۔ اقبال کے نزدیک اگر کوئی قوم اپنے اس سرچشمے کی عزت نہیں کرتی تو اس کی اجتماعی زندگی کے باقی تمام دعوے کھوکھلے رہ جاتے ہیں۔
دوسرے مصرعے میں “کار زندگی خام است” اس حقیقت کو اور زیادہ نمایاں کرتا ہے۔ خامی سے مراد صرف کمی نہیں بلکہ ناپختگی، بے ترتیبی، اور عدمِ کمال ہے۔ یعنی جس معاشرے میں امومت، پرورش، اور رحم کی نسبتوں کو عزت حاصل نہ ہو وہاں زندگی کی عمارت مکمل ہونے سے پہلے ہی کم زور رہ جاتی ہے۔ باہر سے نظام موجود ہو سکتے ہیں، مگر اندر سے انسان پختہ نہ ہوں تو ملت کی جان کم زور رہتی ہے۔ اقبال یہی بتا رہے ہیں کہ ملت کی اصل گرمی اور پائیداری اسی سرچشمے سے پیدا ہوتی ہے جسے لوگ اکثر نجی اور معمولی سمجھ لیتے ہیں۔
تکریم ارحام کا مفہوم:
یہ صرف رسمی احترام یا زبانی عقیدت کا نام نہیں۔ تکریم کا مطلب ہے ماؤں کے مقام کو حقیقی طور پر سمجھنا، ان کے کردار کو مرکز میں رکھنا، اور اس تربیتی مشقت کی قدر کرنا جس سے انسان بنتا ہے۔
ارحام کی نسبت اس بات کی یاد دہانی بھی ہے کہ انسانی زندگی ربط، تعلق، اور پرورش کے ایک مسلسل نظام سے نکلتی ہے۔ ملت اسی وقت مضبوط ہوتی ہے جب وہ اپنے اس انسانی سرچشمے کو حقیر نہ سمجھے۔
ملت کی حقیقی بنیاد:
قومیں صرف قوانین، سرحدوں، یا اداروں سے نہیں جیتیں۔ ان سب کے پیچھے ایک اخلاقی انسان درکار ہوتا ہے جو وفا، ذمہ داری، رحم، اور ضبط سے آشنا ہو۔ یہ پہلا سبق عموماً ماں کی آغوش میں ملتا ہے۔
اسی لیے اقبال ملت کی بنیاد کو امومت کے ساتھ جوڑتے ہیں۔ اگر فرد ہی اندر سے ناپختہ ہو تو اجتماعی ڈھانچے دیر تک قائم نہیں رہتے۔
خام زندگی کیا ہے:
خام زندگی وہ ہے جس میں قوت تو ہو مگر تہذیب نہ ہو، حرکت تو ہو مگر سمت نہ ہو، اور اجتماع تو ہو مگر دلوں کا ربط نہ ہو۔ اقبال کے نزدیک امومت کا احترام نہ ہونے کی صورت میں یہی خامی پیدا ہوتی ہے۔
ایسی زندگی ظاہری کامیابیاں حاصل کر سکتی ہے، مگر وہ گہرائی، پائیداری، اور اخلاقی وقار پیدا نہیں کر سکتی جو ایک زندہ ملت کی نشانی ہے۔
آج کے لیے سبق:
آج ہم ملت کی تعمیر کا ذکر عموماً تعلیمی پالیسی، معیشت، اور سیاسی قوت کے حوالے سے کرتے ہیں، مگر اقبال ہمیں اس پہلی منزل کی طرف متوجہ کرتے ہیں جہاں انسان کی اصل اخلاقی بنیاد رکھی جاتی ہے۔
یہ شعر سکھاتا ہے کہ اگر معاشرہ امومت کی تعظیم، ماں کی تربیتی قوت، اور خاندانی ربط کی حرمت کو نظر انداز کرے گا تو اس کی زندگی پختگی تک نہیں پہنچے گی۔ ملت کی اصل پائیداری رحم کی نسبتوں کے احترام سے پیدا ہوتی ہے۔
مثال
جیسے درخت کو صرف شاخوں کی کثرت نہیں بلکہ جڑ کی مضبوطی پائیدار بناتی ہے، ویسے ہی ملت کو صرف ظاہری قوت نہیں بلکہ امومت اور رحمی رشتوں کی عزت مضبوط بناتی ہے۔
خلاصہ
اقبال کے نزدیک ملت کی حقیقی تعمیر ماؤں اور رحمی رشتوں کی تعظیم سے ہوتی ہے۔ اگر یہ بنیاد کم زور ہو تو زندگی کی پوری عمارت ناپختہ اور خام رہ جاتی ہے۔
