رموز بے خودی

مسلم استی دل به اقلیمی مبند

مسلم استی دل به اقلیمی مبند

گم مشو اندر جهان چون و چند

ترجمہ

اگر تو مسلمان ہے تو اپنے دل کو کسی ایک خطے سے نہ باندھ، اور اس دنیا کے چون و چند میں کھو نہ جا۔

تشریح

اقبال اس شعر میں ملتِ اسلامیہ کے دل کو جغرافیے کی تنگی اور مادّی دنیا کے الجھاؤ سے آزاد کرنے کی دعوت دیتے ہیں۔ پچھلے اشعار میں وہ بتا چکے ہیں کہ مسلم کی اصل نسبت کسی اقلیم سے نہیں بلکہ اسلام سے ہے، اور یہ بھی کہ ہماری گم شدگی کی بڑی وجہ یہی ہے کہ ہم نے خود کو خاکدان میں کھو دیا ہے۔ اب وہ علاج بتاتے ہیں: اگر تم واقعی مسلمان ہو تو اپنے دل کو کسی ایک خطے، قوم، زبان یا سرحدی شناخت میں قید مت کرو، اور دنیا کے لامتناہی سوالات، مقابلوں، مصلحتوں اور مادی پیچیدگیوں میں خود کو ضائع نہ ہونے دو۔ شعر کے مطابق:

مسلم استی:

یہ محض ایک اطلاع نہیں، ایک بیدار کن صدا ہے۔ اقبال گویا انسان سے اس کی اصل پہچان یاد کروا رہے ہیں۔ مسلم ہونا صرف ایک نسبی یا سماجی لیبل نہیں، بلکہ ایک روحانی عہد ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ انسان کا مرکز خدا، رسول، حق، عدل اور امت کی وسیع نسبت سے قائم ہو۔ جب اقبال “مسلم استی” کہتے ہیں تو وہ اس پوشیدہ عظمت کو جگاتے ہیں جو مسلمان کے دل میں سونا نہیں چاہیے۔

پہچان کی درستی کے بغیر عمل کی سمت بھی درست نہیں ہوتی۔

دل کو اقلیم سے نہ باندھنا:

دل اقبال کے ہاں وفا اور مرکزیت کی جگہ ہے۔ اگر دل کسی ایک اقلیم سے بندھ جائے تو انسان کی نگاہ محدود ہو جاتی ہے۔ وہ خیر کو صرف اپنے خطے میں، عزت کو صرف اپنی قوم میں، اور حق کو صرف اپنے فائدے میں ڈھونڈنے لگتا ہے۔ اقبال جغرافیہ کی نفی نہیں کرتے، مگر اس کی خدائی کے خلاف کھڑے ہوتے ہیں۔ وطن سے محبت ہو سکتی ہے، مگر دل کی آخری وفاداری اسلام کے ساتھ رہنی چاہیے۔

دل جتنا بڑا ہوگا، انسان کا عدل بھی اتنا بڑا ہوگا۔

چون و چند کا مفہوم:

“چون و چند” سے مراد اس دنیا کے وہ بے شمار سوال، حساب، مصلحتیں، نفع و نقصان، اور عقلی پیچیدگیاں ہیں جن میں انسان اصل مقصد بھول جاتا ہے۔ ہر زمانے میں کچھ نہ کچھ ایسا ہوتا ہے جو آدمی کو بنیادی وفاداری سے ہٹا کر ضمنی بحثوں اور مادی مفادات میں الجھا دیتا ہے۔ اقبال کہتے ہیں کہ ان الجھنوں میں اس طرح نہ کھو جاؤ کہ تمہیں اپنے ہونے کا سبب ہی یاد نہ رہے۔

عقل کی ضرورت ہے، مگر ایسی عقل جو مرکز بھلا دے، رہنمائی کے بجائے بھٹکاؤ بن جاتی ہے۔

ملت کی وسعت اور فرد کی حفاظت:

یہ شعر صرف اجتماعی خطاب نہیں بلکہ فردی نجات کا نسخہ بھی ہے۔ جب آدمی اپنی اصل وفاداری کو وسیع تر روحانی دائرے میں رکھتا ہے تو وہ چھوٹی چھوٹی دنیاوی کشمکشوں سے بچ جاتا ہے۔ وہ اپنے شہر، ملک، طبقے یا وقتی مفاد کی قید میں پورا انسان بننے کی جگہ چھوٹا انسان نہیں بنتا۔ اقبال کے نزدیک مسلم کا دل اگر اسلام کے افق سے جڑا رہے تو دنیا کی کثرت اس کی خودی کو ٹکڑے نہیں کر سکتی۔

مرکزِ وفا صحیح ہو تو بکھرے ہوئے حالات بھی انسان کو بکھیر نہیں پاتے۔

آج کے لیے سبق:

آج مسلمان قومی سیاست، نسلی تعصب، طبقاتی مفاد، لسانی مقابلے اور مسلسل معلوماتی شور میں الجھا ہوا ہے۔ ہر طرف چون و چند ہی چون و چند ہے: کون جیتا، کون ہارا، کس کا فائدہ، کس کا نقصان۔ اقبال اس ہجوم میں دل کو بچانے کی تعلیم دیتے ہیں۔ اپنی ذمہ داریاں ادا کرو، اپنے وطن کی خیر خواہی بھی رکھو، مگر اپنے دل کو اس درجے میں مقید مت ہونے دو کہ امت، حق اور خدا کی بڑی نسبت اوجھل ہو جائے۔

اسلامی خودی کی پہلی حفاظت یہی ہے کہ وہ اپنی وسعت کو مقامی ہنگاموں کے ہاتھ بیچ نہ دے۔

مثال

ایک شخص اپنے ملک کا خیر خواہ ہو، مگر جب انصاف، انسانی حرمت یا دینی اصول کا سوال آئے تو صرف قومی مفاد کے نام پر حق کو قربان نہ کرے۔ یہی اس بات کی علامت ہے کہ اس کا دل اقلیم سے اوپر کسی بڑی وفاداری سے جڑا ہوا ہے۔

خلاصہ

اقبال مسلمان کو یاد دلاتے ہیں کہ اس کے دل کی اصل نسبت کسی ایک خطے سے نہیں ہونی چاہیے۔ دنیا کے چون و چند میں کھو جانے کے بجائے اسے اپنی وسیع اسلامی وفاداری اور مرکزی روحانی شناخت کو محفوظ رکھنا چاہیے۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button