رموز بے خودی

مثل آبا غرق اندر سجده شو

مثل آبا غرق اندر سجده شو

آنچنان گم شو که یکسر سجده شو

ترجمہ

اپنے آباء کی طرح سجدے میں ڈوب جا، اور اس طرح گم ہو جا کہ سراپا سجدہ ہی بن جائے۔

تشریح

اس شعر میں اقبال پچھلی ہدایت کو مزید گہرا کرتے ہیں۔ احرام کی کیفیت کے بعد اب وہ مسلمان کو سجدے کی گہرائی میں اترنے کی دعوت دیتے ہیں۔ “مثل آبا” کا مطلب صرف نسلی آباء نہیں بلکہ وہ اسلاف بھی ہیں جنہوں نے بندگی کو محض رسم نہیں رکھا بلکہ اپنے وجود کا مرکز بنا لیا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی روایت، انبیاء کی اطاعت، صحابہ کا اخلاص، اور ابتدائی اہلِ ایمان کی سچی بندگی اس لفظ میں سمٹ آتی ہے۔ اقبال کہتے ہیں کہ ان کے مانند سجدے میں غرق ہو جاؤ۔ یعنی صرف پیشانی زمین پر رکھنے تک محدود نہ رہو؛ دل، ارادہ، خواہش، انا اور خوف سب کو ایک ہی رخ میں ڈال دو۔

“آنچنان گم شو کہ یکسر سجده شو” شعر کا نہایت بلند روحانی نکتہ ہے۔ یہاں “گم ہو جانا” فناے نفس کے معنی میں ہے، مگر ایسی فنا نہیں جو عمل سے الگ کر دے، بلکہ ایسی جو بندگی کو خالص کر دے۔ جب انا، خود نمائی، دعویٰ، اور باطل مرکزوں کی کشش کم ہو جاتی ہے تو انسان محض سجدہ کرنے والا نہیں رہتا، اس کی پوری شخصیت سجدہ بننے لگتی ہے۔ اس کی سوچ میں انکسار، اس کے عمل میں اطاعت، اس کے تعلقات میں ادب، اور اس کے فیصلوں میں خدا کی طرف رجوع پیدا ہوتا ہے۔ اقبال کے نزدیک یہی وہ مقام ہے جہاں سے فرد بھی بدلتا ہے اور ملت بھی۔

سجدہ بطور بندگی:

سجدہ اسلامی عبادت کا سب سے بلند اظہاری لمحہ ہے۔ اس میں انسان اپنی پیشانی، جو شرف اور امتیاز کی علامت ہے، خاک پر رکھتا ہے۔ گویا وہ اعلان کرتا ہے کہ میری اصل عزت میرے رب کے سامنے جھکنے میں ہے۔ اقبال اسی حقیقت کو ملت کی حیات سے جوڑتے ہیں۔ جس قوم کے افراد حقیقی سجدے سے آشنا ہوں، ان کی خودی بکھرتی نہیں بلکہ پاک ہوتی ہے۔

یہ سجدہ صرف نماز کے ایک رکن تک محدود نہیں۔ اس کا باطنی مطلب یہ ہے کہ انسان حق کے سامنے جھکے اور باطل کے سامنے نہ جھکے۔ جو اللہ کے حضور سجدہ سیکھ لیتا ہے وہ دنیا کے جھوٹے معبودوں کے سامنے سیدھا کھڑا ہونا بھی سیکھ لیتا ہے۔

اسلاف کی راہ:

“مثل آبا” میں اقبال محض ماضی پر فخر نہیں دلاتے بلکہ ماضی کے طریقے کی طرف بلاتے ہیں۔ اسلاف کی قوت ان کی تعداد، لباس یا سیاسی شان میں نہیں تھی؛ ان کی اصل قوت ان کی بندگی میں تھی۔ وہ سجدہ کرتے تھے تو ان کے اندر سے خوف نکلتا تھا، تعلقات درست ہوتے تھے، اور مقصد روشن ہوتا تھا۔ اسی لیے ان کے اندر ایسی جرات پیدا ہوئی جو تاریخ بدل گئی۔

اقبال چاہتے ہیں کہ مسلمان اسلاف کے نام لینے کے بجائے اس حالت کو دوبارہ اپنے اندر پیدا کرے۔ ورثہ صرف یاد کرنے سے زندہ نہیں رہتا، اختیار کرنے سے زندہ رہتا ہے۔

گم ہو کر ملنا:

ظاہر میں “گم ہو جانا” کم زوری معلوم ہو سکتا ہے، مگر اقبال کے ہاں یہ اصل میں ملنے کا راستہ ہے۔ جب انسان اپنی خود پرستی سے گم ہوتا ہے تو اپنی حقیقت پاتا ہے۔ جب وہ سجدے میں ڈوبتا ہے تو اس کی خودی ضائع نہیں ہوتی بلکہ تصفیہ پاتی ہے۔ یہی اقبال کا معروف راز ہے کہ خدا کے سامنے جھکنے سے انسان پست نہیں ہوتا، بلند ہوتا ہے۔

“یکسر سجدہ شو” ایک نہایت گہرا مطالبہ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بندگی تمہارے وجود کے ایک حصے تک محدود نہ رہے۔ تمہاری عقل، محبت، سیاست، تہذیب، معیشت، اور اجتماعی شعور سب میں سجدے کی روح اترنی چاہیے۔

آج کے لیے سبق:

آج سجدہ بہت جگہ ایک رسم کے طور پر تو باقی ہے، مگر اس کی روح کم زور پڑتی دکھائی دیتی ہے۔ اگر سجدہ ہمیں باطل کے سامنے جھکنے سے نہ بچائے، اگر وہ ہمارے اندر انکسار، طہارت، جرأت اور مرکزیت پیدا نہ کرے، تو ہمیں اپنے سجدے کے باطن پر غور کرنا چاہیے۔ اقبال کا شعر اسی باطن کو جگاتا ہے۔

یہ شعر فرد اور امت دونوں کے لیے نسخہ ہے۔ جو فرد سراپا سجدہ بنے گا وہ اندر سے سیدھا ہوگا، اور جو امت سجدے کی روح پائے گی وہ تاریخ میں پھر سے وقار کے ساتھ اٹھ سکے گی۔ اقبال اس واپسی کا دروازہ سجدے سے کھولتے ہیں۔

مثال

جیسے دریا میں اترنے والا آدمی کنارے پر کھڑا رہ کر تیرنا نہیں سیکھتا، ویسے ہی بندگی کے راز صرف سجدے کے باطن میں اترنے سے کھلتے ہیں، محض ظاہری حرکت سے نہیں۔

خلاصہ

اقبال اس شعر میں مسلمان کو اسلاف کی طرح سچے سجدے میں ڈوب جانے کی دعوت دیتے ہیں۔ جب انسان انا سے خالی ہو کر بندگی میں سراپا سجدہ بن جاتا ہے تو اس کی خودی بھی پاک ہوتی ہے اور اس کی اجتماعی طاقت بھی بیدار ہوتی ہے۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button