تو که مقصود خطاب انظری
تو که مقصود خطاب انظری
پس چرا این راه چون کوران بری
ترجمہ
تو وہ ہے جو “دیکھ” کے خطاب کا اصل مخاطب ہے، پھر تو یہ راستہ اندھوں کی طرح کیوں طے کر رہا ہے؟
تشریح
اس شعر میں اقبال انسان کو اس کی اصل علمی و روحانی منزلت یاد دلاتے ہیں۔ “مقصودِ خطابِ انظری” ایک نہایت بلند تعبیر ہے۔ گویا کائنات، وحی، اور حقیقت کی طرف سے جو پکار آتی ہے کہ “دیکھو، غور کرو، سمجھو”، اس کا اصل مخاطب انسان ہی ہے۔ اسے آنکھ دی گئی، عقل دی گئی، دل دیا گیا، اور تدبر کی صلاحیت دی گئی۔ اگر ان سب کے باوجود وہ دنیا کے اندر اندھوں کی طرح چل رہا ہو، چیزوں سے فائدہ تو اٹھا رہا ہو مگر انہیں سمجھ نہیں رہا، راستے پر گامزن تو ہو مگر شعور کے بغیر، تو یہ اس کی اصل منزلت کے خلاف ہے۔
اقبال کا سوال نہایت تیز ہے: “پس چرا این راه چون کوران بری”۔ یعنی اگر تو دیکھنے کے لیے پیدا ہوا ہے، سوال کرنے کے لیے بنایا گیا ہے، اور حقائق کا شعوری وارث ہے، تو پھر یہ بے بصیرت زندگی کیوں؟ یہ شعر صرف حسی اندھاپے کی بات نہیں کرتا بلکہ فکری، اخلاقی، اور تہذیبی اندھاپے کی بھی بات کرتا ہے۔ ایسی زندگی جو روایت دہرائے مگر سمجھے نہیں، راستہ چلے مگر مقصد نہ جانے، چیزیں استعمال کرے مگر حکمت نہ لے، وہ اندھوں کی چال ہے۔ اقبال انسان سے اس کم تر اندازِ حیات پر احتجاج کرتے ہیں۔
خطابِ “انظری”:
یہ خطاب دیکھنے، غور کرنے، اور دھیان سے سمجھنے کی دعوت ہے۔ اقبال کے ہاں کائنات خود بھی ایک خطاب ہے اور وحی بھی۔ دونوں انسان سے یہی مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ آنکھ کھولے اور حقیقت سے شعوری رشتہ قائم کرے۔ اس لیے انسان محض جینے کے لیے نہیں، سمجھ کر جینے کے لیے بھی ہے۔
یہ بات انسان کو باقی مخلوقات سے ممتاز کرتی ہے۔ وہ صرف ماحول کا حصہ نہیں، اس کا قاری بھی ہے۔ اگر وہ یہ امتیاز کھو دے تو اپنی بلند ترین امانت سے غفلت برتتا ہے۔
اندھوں کی طرح چلنا:
چون کوراں چلنے کا مطلب ہے رواج کی پیروی کرنا مگر اس کے معنی نہ سمجھنا، حالات کے پیچھے بہنا مگر ان کی جہت نہ پہچاننا، اور دنیا کی قوتوں سے متاثر ہونا مگر ان کے قوانین کو نہ جاننا۔ اقبال ایسی زندگی کو انسان کے شایانِ شان نہیں سمجھتے۔
یہ تنقید صرف فرد تک محدود نہیں۔ پوری قومیں بھی اندھوں کی طرح چل سکتی ہیں جب وہ دوسروں کے نقشے اٹھا لیں، اپنا شعوری مرکز کھو دیں، یا علم و تدبر کی محنت چھوڑ کر صرف ردِ عمل میں زندہ رہیں۔ اقبال یہی قومی اندھاپا بھی چاک کرنا چاہتے ہیں۔
بصیرت کی ذمہ داری:
اگر دیکھنا ایک نعمت ہے تو اس کے ساتھ ذمہ داری بھی جڑی ہے۔ انسان سے صرف اتنا نہیں پوچھا جائے گا کہ وہ چلا یا نہیں، بلکہ یہ بھی کہ وہ کیسے چلا۔ کیا اس نے راستے کی علامات پڑھی تھیں؟ کیا اس نے دنیا سے حکمت لی تھی؟ کیا اس نے اپنے مقصد کو پہچان کر قدم اٹھایا تھا؟ اقبال کے نزدیک یہی بصیرت کا امتحان ہے۔
اسی لیے وہ اس شعر میں عذر قبول نہیں کرتے۔ جو خطاب کا مقصود ہے اسے غفلت کا حق نہیں۔ یہ جملہ انسان کو اس کی اصل علمی حرمت اور اس کی عملی ذمہ داری دونوں یاد دلاتا ہے۔
آج کے لیے سبق:
آج معلومات کی کثرت کے باوجود بصیرت کی کمی ہو سکتی ہے۔ انسان بہت کچھ دیکھتا ہے مگر سمجھتا کم ہے، بہت کچھ سنتا ہے مگر پرکھتا کم ہے، بہت کچھ استعمال کرتا ہے مگر اس کی حکمت سے بے خبر رہتا ہے۔ اقبال کا یہ شعر ہمیں جھنجھوڑتا ہے کہ محض آنکھ کافی نہیں، نظر بھی چاہیے۔
یہ شعر امت کو یاد دلاتا ہے کہ وہ جس دین، جس کتاب، اور جس عقل کی وارث ہے، اس کے ساتھ اندھی چال اس کے شایانِ شان نہیں۔ اسے اپنے زمانے، اپنے وسائل، اور اپنے مقصد کو دیکھ کر چلنا ہوگا۔ اقبال کے نزدیک یہی حقیقی بیداری ہے۔
مثال
جیسے نقشہ ہاتھ میں ہونے کے باوجود اگر کوئی شخص راستہ بغیر دیکھے چلے تو غلطی اسی کی ہوگی، ویسے ہی عقل اور وحی رکھنے والا انسان اگر بے بصیرت جئے تو اس کی محرومی زیادہ شدید ہو جاتی ہے۔
خلاصہ
اقبال اس شعر میں انسان کو اس کی اصل بصیرتی حیثیت یاد دلاتے ہیں۔ جو دیکھنے اور سمجھنے کے خطاب کا مخاطب ہو، اس کے لیے بے شعوری اور اندھی چال قابلِ قبول نہیں۔
