فرد تا اندر جماعت گم شود
فرد تا اندر جماعت گم شود
قطرہ وسعت طلب قلزم شود
ترجمہ
فرد جب جماعت میں گم ہو جاتا ہے تو وہ اُس قطرے کی مانند ہو جاتا ہے جو وسعت کا طلب گار ہو کر سمندر بن جاتا ہے۔
تشریح
علامہ اقبال اس شعر میں فرد کے جماعت میں ضم ہونے کو فنا نہیں بلکہ بقا، وسعت اور کمال قرار دیتے ہیں۔ ان کے نزدیک اپنی ذات کو ملت کے بڑے مقصد میں شامل کر دینا ہی اصل میں فرد کی تکمیل ہے۔ شعر کے مطابق:
جماعت میں گم ہونے کا مفہوم:
یہاں گم ہونے سے مراد فرد کی نفی یا اس کی شخصیت کا مٹ جانا نہیں، بلکہ اپنی خودی اور صلاحیتوں کو جماعت کے اجتماعی مقصد میں شامل کر دینا ہے۔
فرد اپنی انا کی تنگی اور خود غرضی سے نکل کر ملت کی وسعت میں داخل ہو جاتا ہے، اور یوں اس کا دائرہ محدود سے لامحدود ہو جاتا ہے۔
قطرے کا سمندر بننا:
قطرہ اگر الگ تھلگ رہے تو دھوپ میں دیر تک باقی نہیں رہتا اور جلد فنا ہو جاتا ہے۔ مگر جب وہ سمندر میں شامل ہوتا ہے تو سمندر کی وسعت، گہرائی اور بقا کا حصہ بن جاتا ہے۔
اسی طرح فرد ملت میں شامل ہو کر مٹنے کے بجائے ایک دائمی اور وسیع حیثیت پا لیتا ہے۔ اس کی قربانی دراصل اس کی سب سے بڑی کامیابی بن جاتی ہے۔
وسعت کی طلب:
یہ گم ہونا فرد کی اپنی طلب، شعور اور انتخاب سے ہوتا ہے، کسی مجبوری سے نہیں۔ وسعت کی یہی آرزو فرد کو محدود دائرے سے نکال کر ایک بلند مقصد سے جوڑ دیتی ہے۔
فنا میں بقا کا فلسفہ:
اقبال کے نزدیک یہی خودی کی معراج ہے کہ فرد بظاہر جماعت میں فنا ہو کر حقیقت میں ہمیشہ کے لیے زندہ اور بامعنی ہو جائے۔
مثال
جیسے ایک سپاہی اپنی ذات کو فوج کے نظم و اجتماع میں شامل کر کے محض ایک تنہا شخص نہیں رہتا بلکہ ایک بڑی اور ناقابلِ شکست طاقت کا حصہ بن جاتا ہے، ویسے ہی فرد ملت میں ضم ہو کر اپنی اصل قوت اور وقار کو پا لیتا ہے۔
خلاصہ
اس شعر میں اقبال بتاتے ہیں کہ فرد کا ملت میں ضم ہونا اس کی موت نہیں بلکہ اس کی بقا اور وسعت ہے، جیسے قطرہ سمندر میں شامل ہو کر خود سمندر بن جاتا ہے۔
