بوسه تا بر پای این معبود زد
بوسه تا بر پای این معبود زد
نقد حق را بر عیار سود زد
ترجمہ
جب اس نئے معبود کے قدموں پر بوسہ دیا گیا تو حق کی اصل دولت کو نفع کے پیمانے پر پرکھا جانے لگا۔
تشریح
اقبال اس شعر میں بتاتے ہیں کہ جب انسان ریاست، طاقت یا مفاد کے بنائے ہوئے نئے بت کے سامنے جھکنے لگتا ہے تو صرف عبادت کا رخ نہیں بدلتا، بلکہ حق کی قیمت لگانے کا پیمانہ بھی بدل جاتا ہے۔ “نقد حق” سے مراد وہ اصل متاع ہے جو سچائی، عدل، دیانت، وفا اور اخلاقی اصولوں کی صورت میں انسان کے پاس ہوتی ہے۔ مگر جب نفع کا معیار حاکم ہو جائے تو انہی قدروں کو بھی اس بنیاد پر جانچا جانے لگتا ہے کہ ان سے کیا فائدہ ملتا ہے۔ شعر کے مطابق:
بوسه بر پای معبود:
کسی چیز کے قدم چومنا انتہائی تعظیم، اطاعت اور باطنی سپردگی کی علامت ہے۔ اقبال کا مطلب یہ ہے کہ نئی سیاست کے معبود کو صرف ایک نظریہ نہیں سمجھا گیا، بلکہ دلوں نے اس کے سامنے جھکنا شروع کر دیا۔ یعنی لوگ اندر سے اس بات پر راضی ہو گئے کہ اب سچائی اور باطل کا فیصلہ اسی نئے مرکز کے مطابق ہوگا۔ جب دل جھک جائے تو ظلم بھی ضرورت لگنے لگتا ہے اور حق بھی بوجھ معلوم ہونے لگتا ہے۔
سجدہ صرف پیشانی سے نہیں ہوتا، پیمانوں کے بدل جانے سے بھی ہوتا ہے۔
نقدِ حق:
نقد فوری دولت کو کہتے ہیں، یعنی ہاتھ میں موجود اصل متاع۔ اقبال یہاں حق کو نقد کہتے ہیں، کیونکہ حق کوئی مؤخر وعدہ نہیں، بلکہ زندگی کی اصل دولت ہے۔ سچائی، دیانت، انصاف، رحم اور امانت وہ حقیقی سرمائے ہیں جن پر فرد اور تہذیب دونوں کی بقا قائم رہتی ہے۔ اگر یہ متاع ہاتھ سے نکل جائے تو آدمی بظاہر کامیاب ہو کر بھی اندر سے مفلس ہو جاتا ہے۔
حق وہ دولت ہے جو کھونے کے بعد پتہ چلتی ہے کہ زندگی کی اصل قیمت اسی میں تھی۔
عیارِ سود:
سود یہاں صرف مالی منفعت نہیں بلکہ ہر وہ فوری فائدہ ہے جس کے لیے آدمی اصول کو قربان کرنے لگے۔ عیار یعنی پیمانہ۔ اقبال کہتے ہیں کہ جب اس نئے معبود کی پرستش شروع ہوئی تو حق کو بھی منفعت کی کسوٹی پر پرکھا جانے لگا۔ گویا سوال یہ نہ رہا کہ کون سی بات سچی اور عادلانہ ہے، بلکہ یہ رہ گیا کہ کون سی بات زیادہ فائدہ دیتی ہے۔ یہی تہذیبی زوال کا ایک بنیادی نشان ہے۔
فائدہ پیمانہ بن جائے تو حق بھی بازار کی جنس معلوم ہونے لگتا ہے۔
حق اور نفع کی کشمکش:
اقبال نفع کے وجود سے انکار نہیں کرتے، مگر وہ اسے حق کا خادم دیکھنا چاہتے ہیں، حاکم نہیں۔ اگر نفع حق کے تابع رہے تو معیشت، سیاست اور معاشرہ سب متوازن رہ سکتے ہیں۔ مگر جب نفع حاکم بن جائے تو جھوٹ، بدعہدی، جبر اور دھوکا سب قابلِ جواز بننے لگتے ہیں۔ اسی لیے اقبال کے نزدیک عیارِ سود پر حق کو تولنا، دراصل حق کی توہین ہے۔
حق کو نفع سے ناپنا ویسا ہی ہے جیسے روشنی کو سائے کے فائدے سے جانچنا۔
آج کے لیے سبق:
آج کی دنیا میں اکثر یہی منطق کام کر رہی ہے کہ جو چیز زیادہ نتیجہ دے، زیادہ ووٹ دلوائے، زیادہ طاقت دے، زیادہ منڈی کھولے یا زیادہ اثر پیدا کرے، وہی درست ہے۔ اقبال اس پیمانے کو چیلنج کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اگر ہم نے حق کو بھی منافع، مفاد اور فوری کامیابی کے پیمانے پر تولنا شروع کر دیا تو پھر کوئی اصول سلامت نہیں رہے گا۔ فرد، ریاست اور تہذیب کو نفع کی ضرورت ہے، مگر ایسا نفع جو حق کو مجروح نہ کرے۔
اسلامی خودی سود کو رد نہیں کرتی، مگر اسے حق کے تخت پر نہیں بٹھاتی۔
مثال
اگر کوئی ریاست یا فرد یہ کہے کہ چونکہ جھوٹ بولنے یا ظلم کرنے سے وقتی فائدہ مل جائے گا، اس لیے وہ درست ہے، تو وہ دراصل نقدِ حق کو عیارِ سود پر تول رہا ہے اور اپنے نئے معبود کے قدم چوم رہا ہے۔
خلاصہ
اقبال کے مطابق جب نئی ریاست پرست سیاست کو معبود بنا لیا گیا تو حق کو بھی نفع کے پیمانے سے جانچا جانے لگا۔ یہی تبدیلی اصولی زندگی کو مفاد پرست زندگی میں بدل دیتی ہے۔