همچنان آئین میلاد امم
همچنان آئین میلاد امم
زندگی بر مرکزی آید بهم
ترجمہ
اسی طرح قوموں کی پیدائش کا بھی یہی قانون ہے کہ زندگی کسی ایک مرکز پر جمع ہو جاتی ہے۔
تشریح
اس شعر میں اقبال پچھلی تمام گفتگو کو ایک بڑے اجتماعی نتیجے تک پہنچاتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ جس طرح فردی حیات کے اندر جمعیت، گرہ، خلعت، دل اور انجمن کا نظام موجود ہے، اسی طرح قوموں کی ولادت کا بھی ایک قانون ہے: زندگی کسی مرکز پر آ کر جمع ہوتی ہے۔ یہ مصرعہ ملی حیات کے پورے باب کی کنجی ہے۔ اقبال ملت کو محض افراد کے ہجوم کے طور پر نہیں دیکھتے، بلکہ ایک ایسی زندہ حقیقت سمجھتے ہیں جو اپنے بکھرے ہوئے عناصر کو کسی مرکزی نسبت کے گرد جمع کر کے قوم بنتی ہے۔ اگر زندگی پھیل تو جائے مگر جمع نہ ہو، تو قوتیں منتشر رہتی ہیں؛ اگر جمع ہو جائے تو تاریخ، تہذیب، ربط، شعور اور دوام پیدا ہوتا ہے۔
“میلاد امم” کا مطلب محض عددی وجود میں آ جانا نہیں، بلکہ حقیقی قومی ولادت ہے۔ ایک آبادی ہمیشہ قوم نہیں ہوتی۔ زبان، نسل، جغرافیہ یا وقتی مفاد کچھ دیر کے لیے لوگوں کو اکٹھا کر سکتے ہیں، مگر اقبال کے نزدیک “ملت” اس وقت بنتی ہے جب زندگی اپنے باطنی سوز، اپنے اخلاقی ربط، اور اپنے مشترک شعور کے ساتھ کسی مرکزی نشان یا مرکزِ معنویت پر جمع ہو۔ اسی لیے وہ “زندگی بر مرکزی آید بهم” فرماتے ہیں۔ یہ اجتماع کسی بیرونی جبر کا نہیں، فطرتِ حیات کا قانون ہے۔ زندگی جب اپنے آپ کو پہچانتی ہے تو بکھرے ہوئے دائروں سے نکل کر کسی مرکز کے گرد اپنی صورت بناتی ہے۔
میلادِ امم کا قانون:
اقبال یہاں قوموں کی پیدائش کو ایک حیاتیاتی اور روحانی عمل کے طور پر دیکھتے ہیں۔ قوم بننا محض ریاستی انتظام یا سیاسی سمجھوتہ نہیں۔ ایک قوم اس وقت پیدا ہوتی ہے جب اس کے افراد کے درمیان ایسا ربط پیدا ہو جو محض وقتی مفاد سے آگے ہو۔ وہ ربط تاریخ، عبادت، اخلاق، مقصد، شعور اور احساس میں ظاہر ہوتا ہے۔ مگر یہ سب کسی نقطۂ جمع کے بغیر قائم نہیں رہتے۔ اسی لیے “مرکز” قومی ولادت کی شرط بن جاتا ہے۔
یہاں “آئین” کا لفظ بھی اہم ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ کوئی حادثاتی یا استثنائی بات نہیں، بلکہ ایک ضابطہ اور فطری قانون ہے۔ ملت اگر واقعی زندہ ہو تو وہ مرکز ڈھونڈے گی، اور اگر مرکزِ حقیقی پا لے تو پائیدار ہو جائے گی۔ جو قومیں اپنے مرکز سے کٹ جاتی ہیں، ان کی زندگی یا تو منتشر ہو جاتی ہے یا بیرونی سانچوں میں گھل کر اپنی اصل کھو دیتی ہے۔
زندگی کا جمع ہونا:
جمع ہونا صرف اکٹھا ہونا نہیں، بلکہ مربوط ہونا ہے۔ اقبال کے نزدیک زندگی جب مرکز پر آتی ہے تو اس کی قوتیں ہم آواز ہو جاتی ہیں۔ اس کے افراد ایک دوسرے کو صرف جانتے نہیں، ایک بڑے مقصد میں پہچانتے ہیں۔ ان کا ماضی بھی مربوط ہوتا ہے، حال بھی بامعنی ہوتا ہے، اور مستقبل بھی مشترک صورت اختیار کرتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں آبادی ملت میں بدلتی ہے۔
یہ نکتہ فردی نفسیات سے بھی ملتا ہے۔ جیسے فرد کی شخصیت اس وقت مضبوط ہوتی ہے جب اس کی خواہشیں، خیالات اور اعمال کسی مرکزی شعور کے تابع ہوں، ویسے ہی قوم مضبوط اس وقت ہوتی ہے جب اس کی بکھری ہوئی قوتیں کسی مرکز کے تحت جمع ہوں۔ اقبال فرد سے ملت تک ایک ہی قانون جاری دیکھتے ہیں: زندگی کی صحت کا راز مرکزیت اور نظم میں ہے۔
مرکز کی نوعیت:
مرکز سے مراد یہاں محض جغرافیائی مقام نہیں بلکہ محسوس اور معنوی ربط کا ایسا نقطہ ہے جو پوری جماعت کو ایک ہی شعور میں جوڑ دے۔ یہ مرکز یاد کا بھی ہو سکتا ہے، عبادت کا بھی، تہذیب کا بھی، اور اخلاقی سمت کا بھی۔ اقبال آگے اس مرکز کو بیت الحرام کی صورت میں واضح کریں گے، مگر اس شعر میں وہ پہلے اصول قائم کرتے ہیں کہ مرکز کے بغیر میلادِ امم مکمل نہیں ہوتا۔
یہی وجہ ہے کہ ایک قوم محض قانون، دستور یا نظمِ حکومت سے نہیں بنتی۔ ان سب کو روح دینے والا بھی کوئی مرکز ہونا چاہیے۔ اگر قانون ہو مگر دل نہ جڑے ہوں، اگر نظم ہو مگر شعور منتشر ہو، تو جمعیت عارضی رہتی ہے۔ اقبال مرکز کو قانونی نہیں، حیاتی حقیقت کے طور پر سمجھتے ہیں۔
آج کے لیے سبق:
آج کی دنیا میں قومیں اکثر صرف سیاسی سرحدوں یا معاشی مفاد سے خود کو قائم رکھنا چاہتی ہیں۔ اقبال کا یہ شعر یاد دلاتا ہے کہ ایسی جمعیت دیر پا نہیں ہوتی اگر اس کے پیچھے کوئی زندہ مرکز نہ ہو۔ مسلمان کے لیے خاص طور پر یہ سوال اور اہم ہے، کیونکہ اس کی ملی حیات محض نسلی یا وطنی بندھن پر قائم نہیں۔ اسے ایسا مرکز چاہیے جو اس کے ایمان، اس کی تاریخ، اس کے شعور اور اس کے باطن کو ایک ساتھ باندھ سکے۔
یہ شعر ہمیں اپنی ذاتی اور اجتماعی زندگی دونوں میں یہ پوچھنے پر مجبور کرتا ہے کہ ہماری جمعیت کس چیز پر قائم ہے۔ اگر ہمارا مرکز کمزور ہے تو ہمارا اجتماع بھی کمزور ہوگا۔ اگر مرکز بیدار اور زندہ ہے تو بکھری ہوئی زندگی بھی نئی صورت اختیار کر سکتی ہے۔ اقبال کے نزدیک قوموں کی پیدائش باہر سے نہیں، مرکز کے گرد زندگی کے جمع ہونے سے ہوتی ہے۔
مثال
جیسے لوہے کے منتشر ذرات ایک طاقت ور مقناطیس کے گرد ترتیب پا کر ایک واضح شکل اختیار کر لیتے ہیں، ویسے ہی قومی زندگی بھی کسی مرکز پر جمع ہو کر ملت بنتی ہے۔
خلاصہ
اقبال اس شعر میں واضح کرتے ہیں کہ قوموں کی حقیقی ولادت اس وقت ہوتی ہے جب زندگی کسی مرکز پر آ کر مربوط ہو جاتی ہے۔ ملت محض ہجوم نہیں، ایک مرکز یافتہ جمعیت ہے۔