ای خرت لنگ از ره دشوار زیست
ای خرت لنگ از ره دشوار زیست
غافل از هنگامهٔ پیکار زیست
ترجمہ
تیری سواری اس دشوار راہ کے لیے لنگڑی رہ گئی، کیونکہ وہ معرکے کی گہما گہمی سے غافل زندگی میں پلی۔
تشریح
اس شعر میں اقبال اچانک لہجہ بدل کر سخت تنبیہ کرتے ہیں۔ اب وہ ان قوموں اور افراد کے مقابل اس شخص کو دکھاتے ہیں جو زندگی کے سخت راستے کے لیے تیار نہیں۔ “خَر” یا سواری یہاں صرف جانور نہیں بلکہ انسان کے وہ وسائل، وہ مزاج، اور وہ تربیت ہیں جن کے سہارے وہ دشوار راہوں میں سفر کرتا ہے۔ اگر یہ سواری “لنگ” ہو، یعنی کمزور، ناتربیت یافتہ، سست، یا ناموزوں ہو، تو آدمی مشکل راستے میں بہت پیچھے رہ جاتا ہے۔ اقبال بتاتے ہیں کہ یہ لنگ پن اتفاقی نہیں؛ یہ اس لیے پیدا ہوتا ہے کہ اس سواری نے “هنگامهٔ پیکار” یعنی جدوجہد، مقابلے، خطرے اور سخت میدان کی زندگی دیکھی ہی نہیں۔
یہ شعر فردی اور ملی دونوں سطحوں پر پڑھا جا سکتا ہے۔ ایک فرد اگر اپنی طبیعت، اپنے ارادے، اور اپنے اوزار کو کبھی سختی میں نہ ڈالے تو وہ بڑے کام کے وقت تھک جائے گا۔ اسی طرح ایک ملت اگر صرف آسانیوں، محفوظ معمولات، یا غفلت کی فضا میں پلی ہو تو جب زمانہ مشکل مرحلہ لائے گا تو اس کی سواری لنگڑی ثابت ہوگی۔ اقبال چاہتے ہیں کہ انسان اپنے وجود کو راہِ دشوار کے مطابق تربیت دے۔ جسے معرکے کی خبر ہی نہ ہو، وہ معرکے میں کیسے چلے گا؟
لنگ سواری:
سواری انسان کی حرکت کا وسیلہ ہے۔ اقبال کے ہاں یہ عقل، تربیت، ارادہ، نظم، اور وہ اجتماعی یا فردی آلات بھی ہو سکتے ہیں جن کے ذریعے آدمی منزل کی طرف بڑھتا ہے۔ اگر یہی سواری ناقص ہو تو مقصد سچا ہونے کے باوجود سفر کمزور پڑ جاتا ہے۔
لنگ پن سے مراد صرف قوت کی کمی نہیں، تیاری کی کمی بھی ہے۔ ایک غیر آزمودہ وجود مشکل راستوں میں جلد جواب دے دیتا ہے۔ اقبال اسی ناتوانی پر ضرب لگا رہے ہیں۔
ره دشوار:
زندگی کا بڑا راستہ آسان نہیں۔ علم کا میدان ہو، تہذیب کی تعمیر ہو، آزادی کا حصول ہو، یا خودی کی تربیت، ہر جگہ ایک “ره دشوار” موجود ہے۔ اقبال اس حقیقت کو چھپاتے نہیں۔ ان کے نزدیک عظمت آسانیوں سے نہیں، دشواریوں سے پیدا ہوتی ہے۔
اس لیے جو وجود صرف نرم میدانوں میں جینا سیکھے، وہ سخت راستوں پر کمزور پڑ جاتا ہے۔ اقبال ایسی مصنوعی آسودگی کو خطرہ سمجھتے ہیں، کیونکہ وہ طاقت کا دھوکا پیدا کرتی ہے۔
هنگامهٔ پیکار سے غفلت:
معرکے کی خبر نہ ہونا انسان کو کمزور بنا دیتا ہے۔ پیکار صرف جنگ نہیں، زندگی کی سنجیدہ کشمکش بھی ہے۔ مقابلہ، ذمہ داری، خطرہ، اور حق کے لیے کھڑے ہونے کی کیفیت، یہ سب پیکار کے مظاہر ہیں۔ اقبال کہتے ہیں کہ جس نے ایسی فضا میں زندگی نہ گزاری ہو، اس کی سواری لڑکھڑائے گی۔
یہی وجہ ہے کہ اقبال تربیت کو محض کتابی نہیں مانتے۔ اصل تربیت وہ ہے جو انسان کو معرکے کے لائق بنائے۔ اگر وہ مرحلہ نہ آئے تو وجود کی کم زوری چھپی رہ جاتی ہے۔
آج کے لیے سبق:
آج امت کی بہت سی کم زوریاں اسی وجہ سے ہیں کہ ہم نے بعض میدانوں میں سہولت، تاخیر، اور نقل پر قناعت کر لی۔ نتیجہ یہ ہے کہ جب مشکل وقت آتا ہے تو ہمارے ادارے، ہمارے نظم، ہماری معیشت، اور ہمارے ذہن سب لنگ ثابت ہوتے ہیں۔ اقبال اس صورتِ حال کو بہت پہلے شعری زبان میں بیان کر رہے تھے۔
یہ شعر ہمیں خبردار کرتا ہے کہ مشکل راستے کے لیے مشکل تربیت چاہیے۔ معرکے سے غافل زندگی آسان لگ سکتی ہے، مگر وہ بڑی منزلوں کے قابل سواری پیدا نہیں کرتی۔ اقبال کے نزدیک زندہ قوم وہ ہے جو اپنے آپ کو رہِ دشوار کے لیے تیار کرے۔
مثال
جیسے ایک کھلاڑی اگر کبھی سخت مشق نہ کرے تو مقابلے کے دن اس کے پاؤں جواب دے دیتے ہیں، ویسے ہی غیر آزمودہ فرد یا قوم مشکل وقت میں لنگڑی پڑ جاتی ہے۔
خلاصہ
اقبال اس شعر میں بتاتے ہیں کہ سخت راستے کے لیے کمزور اور غیر آزمودہ سواری کافی نہیں۔ جو وجود معرکے کی فضا سے غافل رہے، وہ بڑے سفر میں پیچھے رہ جاتا ہے۔
