امیی پاک از هوی گفتار او
امیی پاک از هوی گفتار او
شرح رمز ماغوی گفتار او
ترجمہ
اس پاک اُمّی کا کلام خواہشِ نفس سے پاک ہے، اور اس کی گفتگو “ما غوی” کے راز کی شرح ہے۔
تشریح
یہ شعر نبیِ اکرم ﷺ کے مقامِ صدق اور نبوی گفتار کی پاکیزگی کو نہایت بلند انداز میں بیان کرتا ہے۔ اقبال “امیی پاک” کہہ کر رسولِ کریم ﷺ کی اُمّیت اور طہارت دونوں کو جمع کرتے ہیں۔ یہاں اُمّیت کسی کمی کی طرف اشارہ نہیں کرتی، بلکہ اس معجزے کی طرف اشارہ ہے کہ آپ ﷺ کی تعلیم، حکمت، دعوت اور کلام کسی دنیاوی مکتبے یا فلسفیانہ نظام کے محتاج نہ تھے۔ آپ ﷺ کا منبع وحی تھا، اور اسی لیے آپ ﷺ کا کلام “از ہوی” یعنی خواہشِ نفس، ذاتی غرض، یا نفسانی میلان سے پاک تھا۔
“شرح رمز ماغوی گفتار او” میں اقبال قرآن کی اس معنوی فضا کی طرف اشارہ کرتے ہیں جو رسول ﷺ کے صدق، سلامتِ راہ اور حق آشنا کلام کی گواہی دیتی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ آپ ﷺ کی گفتگو خود اس قرآنی حقیقت کی شرح ہے کہ یہ راہ گمراہی، خواہش پرستی اور خود ساختہ گفتار کی راہ نہیں، بلکہ ہدایت، امانت اور ربانی روشنی کی راہ ہے۔ اقبال اس شعر کے ذریعے امت کو یہ سمجھاتے ہیں کہ جب وہ “علومِ امئی” کی بات کرے تو اسے یاد رکھنا چاہیے کہ یہ علوم ایک ایسے نبی ﷺ سے ملے ہیں جن کا کلام نفس کی آلودگی سے پاک اور حق کی روشنی سے معمور تھا۔
اُمّیت کی معنویت:
اقبال کے ہاں اُمّیت ایک روحانی شرف ہے۔ اس میں یہ راز ہے کہ حق کی آخری ہدایت کسی فلسفیانہ مکتبے، درباری درس گاہ، یا دنیاوی اقتدار کے ذریعے نہیں آئی، بلکہ ایک ایسے رسول ﷺ کے ذریعے آئی جن کا دل براہِ راست وحی کی امانت کا حامل تھا۔ اس لیے ان کی تعلیم کا وزن اور سچائی کسی اکتسابی فخر پر نہیں، ربانی عطا پر قائم ہے۔
یہی وجہ ہے کہ امت کے لیے نبوی علم کا تعلق محض تاریخی معلومات سے نہیں، ایمانی اعتماد سے بھی ہے۔ جس منبع سے علم ملا ہے، وہی اس علم کی صداقت کی سب سے بڑی دلیل ہے۔
ہوی سے پاک گفتار:
خواہشِ نفس سے پاک گفتار کا مطلب یہ ہے کہ اس میں خود غرضی، موقع پرستی، باطل مصلحت، یا نفس کی آمیزش نہیں۔ نبوی کلام کا حسن یہی ہے کہ وہ انسان کو اللہ سے جوڑتا ہے، خود اپنے گرد نہیں باندھتا۔ اقبال کے نزدیک یہی سچی رہبری کی پہچان ہے۔ جو رہبر اپنے نفس کی طرف بلائے وہ تاریک کرتا ہے، اور جو اللہ کی طرف بلائے وہ ہدایت دیتا ہے۔
امت کے لیے اس میں بڑا سبق ہے۔ اگر وہ نبوی پیغام کی وارث ہے تو اس کی اپنی دعوت، قیادت اور زبان کو بھی حتی المقدور ہوی سے پاک ہونا چاہیے۔ ورنہ وراثت کا دعویٰ کم زور پڑ جائے گا۔
“ما غوی” کا رمز:
اقبال کا اشارہ اس قرآنی ماحول کی طرف ہے جہاں رسولِ اکرم ﷺ کے حق پر ہونے، نہ بھٹکنے، اور نہ نفسانی گمراہی میں پڑنے کی شہادت دی گئی۔ “گفتار او” کو “شرح” کہنا یہ بتاتا ہے کہ نبوی سیرت اور نبوی بیان خود قرآن کے معانی کو جیتے جاگتے وجود میں بدل دیتے ہیں۔ یعنی وحی کتاب میں بھی ہے اور رسول ﷺ کے عملی و قولی اسوہ میں بھی روشن ہے۔
یہ ایک نہایت اہم دینی نکتہ ہے۔ امت اگر قرآن کے معانی کو زندہ طور پر سمجھنا چاہے تو اسے نبوی گفتار اور اسوہ کی طرف رجوع کرنا ہوگا۔ اقبال اسی ربط کو پھر سے بیدار کرتے ہیں۔
آج کے لیے سبق:
آج کے فکری انتشار میں بہت سی آوازیں خود کو رہنمائی کا منبع بتاتی ہیں، مگر ان میں خواہش، مفاد، تعصب یا وقتی نظریات کی آمیزش ہوتی ہے۔ اقبال اس شعر میں امت کو اصل میزان یاد دلاتے ہیں: وہ کلام اور وہ علم معتبر ہے جو نبوی منبع سے جڑا ہو، نفس کی آلودگی سے پاک ہو، اور حق کی طرف رہنمائی کرتا ہو۔
یہ شعر محبتِ رسول ﷺ کو علمی ذمہ داری سے بھی جوڑتا ہے۔ صرف عقیدت کافی نہیں؛ نبوی گفتار کی پاکیزگی کو اپنی دعوت، اپنے علم، اور اپنے کردار کا معیار بنانا بھی لازم ہے۔ اقبال کی یہی تربیت امت کو باطن کی صفائی اور منہج کی صحت دونوں عطا کرتی ہے۔
مثال
جیسے صاف چشمے کا پانی اس لیے قابلِ اعتماد ہوتا ہے کہ اس میں آلودگی شامل نہیں ہوتی، ویسے ہی نبوی کلام اس لیے ہدایت بخش ہے کہ وہ خواہشِ نفس کی آمیزش سے پاک ہے۔
خلاصہ
اقبال اس شعر میں نبیِ اکرم ﷺ کے کلام کی طہارت اور ربانی صداقت کو بیان کرتے ہیں۔ نبوی گفتار خواہشِ نفس سے پاک ہے اور قرآن کے ہدایتی راز کی زندہ شرح بن کر امت کے لیے میزانِ حق فراہم کرتی ہے۔