وان دگر مولای ابرار جهان
وان دگر مولای ابرار جهان
قوت بازوی احرار جهان
ترجمہ
اور دوسرا پوری دنیا کے نیکوں کا مولا ہے، اور آزاد لوگوں کے بازو کی قوت ہے۔
تشریح
اس شعر میں اقبال حضرت امام حسین علیہ السلام کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔ اگر پچھلے اشعار میں حضرت امام حسن علیہ السلام کو جمعیت اور صلح کی روشنی کے طور پر پیش کیا گیا تھا، تو یہاں حضرت امام حسین علیہ السلام کو حریت، جرأت، اور حق کے لیے استقامت کی قوت کے طور پر سامنے لایا گیا ہے۔ “مولای ابرار جهان” کہہ کر اقبال ان کے مقام کو صرف ایک تاریخی امام کی حیثیت سے نہیں بلکہ نیکی، صدق، اور وفاداری کے عالمی نمونے کے طور پر پیش کرتے ہیں۔
“قوت بازوی احرار جهان” نہایت گہری تعبیر ہے۔ احرار وہ لوگ ہیں جو باطل کے سامنے جھکتے نہیں، اپنی روح کو فروخت نہیں کرتے، اور حق کے لیے قربانی سے نہیں ڈرتے۔ ایسے لوگوں کے بازو کو قوت حضرت امام حسین علیہ السلام سے ملتی ہے، کیونکہ ان کی سیرت نے حریت کو مجرد خیال نہیں رہنے دیا بلکہ خون، صبر، اور قربانی کی زبان میں زندہ حقیقت بنا دیا۔ اقبال کے نزدیک حضرت فاطمہ الزہراء کی امومت کا یہ دوسرا عظیم جلوہ ہے کہ ان کے دامن سے وہ ہستی اٹھتی ہے جو آزاد انسان کے ضمیر کو ہمیشہ کے لیے بیدار کر دیتی ہے۔
مولای ابرار:
ابرار سے مراد نیک، سچے، اور خدا ترس لوگ ہیں۔ حضرت امام حسین علیہ السلام کو ان کا مولا کہنا اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ان کی سیرت اہلِ صدق کے لیے معیار اور رہنما ہے۔
یہ قیادت محض منصب کی نہیں بلکہ اخلاقی عظمت کی قیادت ہے۔ اقبال اسی لیے ان کے مقام کو عالم گیر رنگ دیتے ہیں۔
احرار کے بازو کی قوت:
آزاد لوگ صرف جسمانی طاقت سے آزاد نہیں ہوتے، بلکہ اپنے ضمیر، فیصلے، اور مقصد میں آزاد ہوتے ہیں۔ ایسے انسانوں کو سب سے زیادہ قوت اس مثال سے ملتی ہے جو حق کے لیے ہر قربانی گوارا کر لے۔
حضرت امام حسین علیہ السلام کی سیرت اسی قوت کا سرچشمہ ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ حریت صرف دعویٰ نہیں، بلکہ سچائی پر ثابت قدم رہنے کا نام ہے۔
امومت کا دوسرا ثمر:
اقبال یہاں پھر حضرت فاطمہ الزہراء کی طرف لوٹتے ہیں، اگرچہ نام لے کر نہیں۔ ان کے فرزندوں میں ایک طرف جمعیت اور حلم کا رنگ ہے، دوسری طرف حریت اور جرأت کا۔
یہی جامع امومت ہے کہ ایک ہی آغوش سے دو مختلف مگر مکمل اسلامی کمالات ظاہر ہوں۔ حضرت فاطمہ الزہراء اسی معنی میں کامل اسوہ بن جاتی ہیں۔
آج کے لیے سبق:
آج آزادی کا لفظ بہت استعمال ہوتا ہے، مگر بہت سی آزادیوں کے پیچھے مقصد کی روشنی نہیں ہوتی۔ اقبال ہمیں ایسی حریت کی طرف متوجہ کرتے ہیں جو حق، وفا، اور قربانی سے روشن ہو۔
یہ شعر ہمیں سکھاتا ہے کہ حضرت امام حسین علیہ السلام صرف ماضی کی عظیم ہستی نہیں، بلکہ ہر آزاد ضمیر کے لیے قوت کا منبع ہیں۔ اور یہ بھی کہ ایسی عظمت کے پس منظر میں ماں کی تربیت کی روشنی کھڑی ہوتی ہے۔
مثال
جیسے کسی پہاڑ کی بلندی مسافر کو دور سے حوصلہ دیتی ہے کہ راستہ ممکن ہے، ویسے ہی حضرت امام حسین علیہ السلام کی سیرت ہر حق طلب اور آزاد انسان کے لیے استقامت کی قوت بنتی ہے۔
خلاصہ
اقبال اس شعر میں حضرت امام حسین علیہ السلام کو نیکوں کے مولا اور آزاد انسانوں کی قوت قرار دیتے ہیں۔ ان کی حریت اور استقامت حضرت فاطمہ الزہراء کی امومت کا ایک عظیم اور جاوداں ثمر ہے۔