رموز بے خودی

زادن او مرگ دنیای کهن

زادن او مرگ دنیای کهن

مرگ آتشخانه و دیر و شمن

ترجمہ

اس کی ولادت پرانی دنیا کی موت تھی، اور آتش خانوں، خانقاہ نما بت کدوں اور شمنی نظاموں کے خاتمے کا آغاز تھی۔

تشریح

علامہ اقبال یہاں ولادتِ محمدی کو ایک ایسی کائناتی اور تہذیبی موڑ کے طور پر بیان کرتے ہیں جس نے پرانی جاہلی دنیا کے خاتمے کا آغاز کر دیا۔ یہ صرف ایک بچے کی پیدائش نہ تھی، بلکہ ایک عہد کی موت اور نئے عہد کی ولادت تھی۔ شعر کے مطابق:

پرانی دنیا کی موت:

“دنیای کهن” سے مراد محض ماضی کا زمانہ نہیں، بلکہ وہ پورا تہذیبی نظام ہے جس میں شرک، طبقاتی غرور، انسان پرستی، مذہبی بازار، سلطنتی استبداد اور غلامی رچی ہوئی تھی۔ اقبال کہتے ہیں کہ محمدی ولادت نے اسی دنیا کی عمر پوری کر دی۔ پرانی ساختیں بظاہر باقی رہیں، مگر ان کی روح مرنے لگی۔

گویا بعثت سے پہلے ہی ولادت میں انقلاب کا وعدہ پوشیدہ تھا۔

آتش خانہ، دیر، شمن:

یہ الفاظ مختلف مذہبی اور تہذیبی نظاموں کی علامتیں ہیں جن میں حق کا مرکز دھندلا چکا تھا اور انسان جھوٹے مراکز میں الجھا ہوا تھا۔ اقبال ان سب کو ایک ہی صف میں لا کر دکھاتے ہیں کہ مسئلہ صرف عقیدے کا فرق نہیں تھا، بلکہ حقیقت سے دوری اور انسان کی آزادی کے خلاف ساخت کا قائم رہنا تھا۔

محمدی توحید نے ان سب مراکز کی خود مختار خدائی کو چیلنج کیا۔

ولادت بطور اعلان:

یہاں ولادت صرف ایک حیاتیاتی واقعہ نہیں، بلکہ تاریخ میں الٰہی ارادے کے ورود کی علامت ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے آنے سے پہلے ہی ایک نئی روشنی کا مقدمہ قائم ہو گیا تھا۔ اس لیے اقبال “زادن او” کو ایک ایسا لمحہ سمجھتے ہیں جس میں مستقبل کی آزادی، مساوات اور اخوت کا پورا امکان بند تھا۔

یوں محمدی ولادت خود اپنے اندر نبوی انقلاب کا بیج رکھتی ہے۔

موت اور احیا کا ربط:

قدیم باطل نظاموں کی موت منفی خبر نہیں، بلکہ نئی انسانی زندگی کی شرط ہے۔ جب تک پرانی جاہلیت کے مراکز نہ مریں، نئی توحیدی زندگی پوری طرح جگہ نہیں پا سکتی۔ اقبال اسی لیے مرگِ کهن کو بشارت کے طور پر پیش کرتے ہیں، نوحے کے طور پر نہیں۔

یہی محمدی پیغام کا حسن ہے: وہ پرانے باطل کو مارتا ہے تاکہ نئی انسانیت جی سکے۔

آج کے لیے رہنمائی:

آج بھی ہر دور میں “دنیای کهن” نئی شکلوں میں لوٹتی رہتی ہے: طاقت کی پرستش، قومی تکبر، مذہبی بازار، طبقات کی خدائی، اور بے رحم نظام۔ اقبال یاد دلاتے ہیں کہ محمدی پیغام ہر دور میں انہی بوسیدہ خدائیوں کی موت کا نام ہے۔

اگر ہم واقعی اس ولادت کے وارث ہیں، تو ہمیں اپنی دنیا کے باطل مراکز کو بھی اسی توحیدی روشنی میں پرکھنا ہوگا۔

مثال

کبھی کسی بڑے سچے نظریے کی آمد سے پرانا فاسد نظام فوراً ختم نہیں ہوتا، مگر اس کی اخلاقی بنیاد ٹوٹ جاتی ہے۔ وہ چلتا ہوا بھی مرنے لگتا ہے۔ یہی “مرگِ دنیای کهن” کی ایک سادہ مثال ہے۔

خلاصہ

اقبال کے مطابق ولادتِ محمدی پرانی جاہلی دنیا کی موت کا آغاز تھی۔ محمدی توحید نے باطل مذہبی و تہذیبی مراکز کی خدائی توڑ کر نئی انسانی زندگی کے لیے جگہ بنائی۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button