تو همی دانی که آئین تو چیست؟
تو همی دانی که آئین تو چیست؟
زیر گردون سر تمکین تو چیست؟
ترجمہ
کیا تو جانتا ہے کہ تیرا اصل آئین کیا ہے؟ اور اس آسمان کے نیچے تیری وقار بھری فرمانبرداری اور ثابت قدمی کا سرچشمہ کیا ہے؟
تشریح
علامہ اقبال اس شعر میں امتِ مسلمہ سے ایک سیدھا، بیدار کرنے والا اور احتساب طلب سوال کرتے ہیں۔ وہ کسی سطحی تعارف سے مطمئن نہیں ہوتے بلکہ پوچھتے ہیں: کیا تم واقعی جانتے ہو کہ تمہارا آئین کیا ہے؟ اور یہ بھی کہ اس کائنات کے نیچے تمہارے وقار، تمہارے نظم، تمہاری اطاعت اور تمہاری اجتماعی سنجیدگی کی اصل بنیاد کیا ہے؟ اس سوال میں تنبیہ بھی ہے اور رہنمائی بھی۔ اقبال بتا رہے ہیں کہ جو ملت اپنے آئین سے ناواقف ہو، وہ اپنے مقام، اپنی قوت اور اپنی ذمہ داری سب سے ناواقف ہو جاتی ہے۔ شعر کے مطابق:
سوال کی اہمیت:
بعض اوقات قومیں اپنے نام، تاریخ اور جذبات سے تو اچھی طرح واقف ہوتی ہیں، مگر ان اصولوں سے ناواقف رہتی ہیں جو ان کی زندگی کو واقعی منظم کرتے ہیں۔ اقبال اسی غفلت پر ضرب لگاتے ہیں۔ وہ مسلمان سے پوچھتے ہیں کہ کیا تم نے اپنے آئین کو صرف سن رکھا ہے یا اسے پہچانا بھی ہے؟ کیا تم جانتے ہو کہ تمہاری اجتماعی حیات کا اصل رشتہ کس چیز سے قائم ہے؟
یہ سوال امت کو ظاہری دعووں سے نکال کر باطنی تحقیق کی طرف لے جاتا ہے۔ کیونکہ جسے اپنی بنیاد معلوم نہ ہو، وہ ہر بیرونی دباؤ اور ہر اندرونی خواہش کے سامنے متزلزل ہو جاتا ہے۔
آئین کی معرفت:
آئین کو جاننا صرف اتنا نہیں کہ انسان چند اصطلاحات دہرا لے یا چند مذہبی نشانات پر فخر کر لے۔ اصل معرفت یہ ہے کہ وہ سمجھے کہ اس کے وجود کی سمت، اس کے فیصلوں کا معیار، اس کے خیر و شر کا پیمانہ اور اس کے اجتماعی ربط کا مرکز کیا ہے۔ اقبال کے نزدیک مسلمان کی یہ معرفت وحی سے بندھی ہوئی ہے۔ اگر وہ اس آئین کو کھو بیٹھے تو پھر وہ دوسروں کے بنائے ہوئے اصولوں کے تابع ہو جاتا ہے۔
اسی لیے یہ شعر دراصل شناخت کا سوال ہے۔ تم کون ہو؟ کس ضابطے کے پابند ہو؟ اور کس حق کے سامنے اپنا سر جھکاتے ہو؟
سرِ تمکین کا مفہوم:
“سر تمکین” ایک نہایت خوبصورت ترکیب ہے۔ اس میں محض جھکنا مراد نہیں، بلکہ وقار کے ساتھ جھکنا، حق کے سامنے مطیع ہونا، اور اسی اطاعت سے استحکام پانا مراد ہے۔ تمکین میں سکون، وقار، ثبات اور باقاعدہ اطاعت سب شامل ہیں۔ اقبال پوچھتے ہیں کہ زیرِ گردوں تمہاری یہ تمکین کس بنیاد پر ہے؟
اس کا مطلب یہ ہے کہ مسلمان کی اطاعت غلامی نہیں ہونی چاہیے بلکہ حق کے سامنے ایک باوقار سپردگی ہونی چاہیے۔ اگر یہ سرِ تمکین خدا کے آئین سے بندھا نہ ہو تو یا تو تکبر پیدا ہوتا ہے یا ذلت، مگر حقیقی تمکین نہیں۔
کائنات میں مقام:
“زیر گردون” کہہ کر اقبال انسان کو اس پوری دنیا کے تناظر میں رکھ دیتے ہیں۔ اس وسیع کائنات کے نیچے تمہاری حیثیت کیا ہے؟ تمہارے کھڑے ہونے، جھکنے، فیصلہ کرنے اور جینے کا معیار کیا ہے؟ یہ سوال انسان کو خود مرکزیت سے نکال کر رب مرکزیت کی طرف لے جاتا ہے۔
جب انسان اپنی تمکین کا سرچشمہ وحی کو بنا لیتا ہے تو وہ دنیا میں رہتے ہوئے بھی دنیا کا غلام نہیں رہتا۔ اس کی اطاعت پھر مصلحت کی نہیں، حق کی اطاعت بن جاتی ہے۔
آج کے لیے سبق:
آج مسلمان کے سامنے بے شمار متبادل آئین موجود ہیں: قوم پرستی، بازار، طاقت، میڈیا، نفس، اور وقتی سیاسی بیانیے۔ اگر وہ ان کے شور میں اپنا اصل آئین بھول جائے تو اس کی تمکین بھی کھوکھلی ہو جاتی ہے۔ اقبال کا یہ شعر دعوت دیتا ہے کہ مسلمان پھر سے یہ سوال اپنے آپ سے کرے: میرا اصل ضابطہ کیا ہے؟ میری زندگی کس حق کے تابع ہے؟
یہ سوال اگر سچائی سے پوچھا جائے تو اس کا جواب اگلے ہی شعر میں اقبال دے دیتے ہیں: وہ زندہ کتاب، قرآنِ حکیم۔
مثال
جیسے کوئی سپاہی اگر یہ نہ جانتا ہو کہ وہ کس پرچم کے تحت کھڑا ہے تو اس کی بہادری بھی بے سمت ہو جاتی ہے، ویسے ہی مسلمان اگر اپنے آئین کی معرفت کھو دے تو اس کی طاقت اور اطاعت دونوں کمزور پڑ جاتی ہیں۔
خلاصہ
اقبال اس شعر میں مسلمان کو اپنی اصل بنیاد پہچاننے کی دعوت دیتے ہیں۔ وہ پوچھتے ہیں کہ تیرا آئین کیا ہے اور تیری باوقار اطاعت کا سرچشمہ کیا ہے۔ یہ شعر امت کو یاد دلاتا ہے کہ شناخت، ثبات اور تمکین کا راز اپنے ربانی آئین کی شعوری معرفت میں ہے۔