رموز بے خودی

بر لبش آهی جگر تابی رسید

بر لبش آهی جگر تابی رسید

در میان سینه ی او دل تپید

ترجمہ

ان کے لبوں پر ایک دل گداز آہ آئی، اور ان کے سینے میں دل شدت سے دھڑکا۔

تشریح

یہ شعر پدرانہ رنج کی گہرائی کو مزید نمایاں کرتا ہے۔ اقبال کہتے ہیں کہ والد کے لبوں پر ایک جگر تاب آہ آئی اور ان کے سینے میں دل تپید۔ اس تصویر میں نہ شور ہے، نہ غصے کی شدت، نہ چیخ و پکار؛ صرف ایک آہ ہے اور ایک دھڑکتا ہوا دل۔ یہی خاموش درد اس واقعے کو زیادہ پر اثر بنا دیتا ہے۔ آدابِ محمدیہ کی تربیت کا ایک اہم پہلو یہی ہے کہ اصل اصلاح ہمیشہ سخت آواز سے نہیں، بلکہ درد مند دل سے بھی ہو سکتی ہے۔

“آهی جگر تابی” اس کیفیت کا نام ہے جس میں دکھ محض لفظ نہیں رہتا بلکہ دل کے اندر سے اٹھ کر لبوں تک آتا ہے۔ یہ آہ ایک ایسے باپ کی آہ ہے جو صرف اپنے بیٹے کی غلطی نہیں دیکھ رہا، بلکہ اس غلطی کے مستقبل کو بھی دیکھ رہا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ اگر مزاج کی یہ کجی نہ سنبھلی تو آگے چل کر حسنِ سیرت کا وہ سرمایہ کمزور ہو جائے گا جو ایک مسلمان کی اصل عزت ہے۔ اس لیے اس کا دل تپکتا ہے۔

خاموش درد کی تاثیر:

بعض اوقات خاموش دکھ بلند ملامت سے کہیں زیادہ اثر رکھتا ہے۔ سخت ڈانٹ سننے والا شخص کبھی دفاعی ہو سکتا ہے، مگر جب وہ کسی مہربان دل کی آہ سنتا ہے تو اس کے اندر دفاع کے بجائے ندامت جاگتی ہے۔ اقبال اسی نفسیاتی حقیقت کی طرف اشارہ کر رہے ہیں۔ والد کی یہ آہ دراصل تربیت کا ایک ایسا تیر ہے جو شور کے بغیر بھی دل کے مرکز تک پہنچتا ہے۔

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اخلاقی تربیت میں صرف حکم کافی نہیں، دل بھی چاہیے۔ جو دل خود درد سے آشنا نہ ہو وہ دوسرے کے اندر اخلاق کی گرمی پوری طرح منتقل نہیں کر سکتا۔ اقبال کے والد کی شخصیت اسی باطنی گرمی کی نمائندہ نظر آتی ہے۔

دل کا تپیدنا:

“در میان سینه ی او دل تپید” سے پتا چلتا ہے کہ یہ رنج سطحی نہیں تھا۔ ایک سچے مربی کے لیے شاگرد یا اولاد کا اخلاقی انحراف صرف بیرونی واقعہ نہیں، دل پر گزرنے والا معاملہ ہوتا ہے۔ یہی کیفیت نبوی تربیت کی یاد بھی دلاتی ہے، جہاں امت کی گمراہی، رنج، جہالت اور محرومی پر دل میں حقیقی درد ہوتا تھا۔ اقبال کا سارا استدلال یہی ہے کہ ملی حسنِ سیرت اس وقت پیدا ہوگا جب ہمارے تعلقات میں یہ زندہ درد باقی ہو۔

اگر والدین، اساتذہ، قائدین اور اہلِ دین صرف ضابطہ بن جائیں، دل نہ رہیں، تو تربیت کا جوہر کمزور ہو جاتا ہے۔ لیکن جب ان کے اندر حقیقی شفقت ہو تو ان کی خاموش آہ بھی کردار سازی کا وسیلہ بن سکتی ہے۔

آج کے لیے سبق:

آج تربیت کے میدان میں ایک بڑی کمی یہ ہے کہ یا تو سختی بہت ہے اور دل کم، یا نرمی بہت ہے مگر سنجیدگی کم۔ اقبال اس شعر میں ایک تیسرا راستہ دکھاتے ہیں: درد مند سنجیدگی۔ ایسی سنجیدگی جو غلطی کو غلطی سمجھے، مگر اس پر صرف غصہ نہ کرے؛ اس کے بجائے دل کی حرارت سے اصلاح کی راہ نکالے۔

یہ شعر ہمیں یہ بھی سکھاتا ہے کہ اگر ہم اپنے کسی عمل سے کسی مخلص دل سے ایسی آہ اٹھا رہے ہیں تو یہ لمحہ رک کر سوچنے کا ہے۔ بہت ممکن ہے وہ آہ ہماری زندگی کا اخلاقی موڑ بن سکتی ہو۔

مثال

جیسے کسی شفیق طبیب کی خاموش تشویش مریض کو اپنی بیماری کا احساس زیادہ دلاتی ہے، ویسے ہی ایک مخلص دل کی آہ انسان کو اپنی اخلاقی خطا کا گہرا شعور دے سکتی ہے۔

خلاصہ

اقبال اس شعر میں دکھاتے ہیں کہ سچی تربیت کا دل خاموش مگر تپتا ہوا ہوتا ہے۔ ایک درد مند مربی کی آہ کبھی کبھی بلند ملامت سے بڑھ کر انسان کے باطن کو بدلنے کی قوت رکھتی ہے۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button