از سر سود و زیان سودا مزن
از سر سود و زیان سودا مزن
گام جز بر جادهٔ آبا مزن
ترجمہ
نفع و نقصان کے حساب میں اپنی اصل مت کھو، اور اپنے بزرگوں کی راہ کے سوا کسی اور راستے پر قدم نہ رکھ۔
تشریح
اس شعر میں اقبال مسلمان عورت کو ایک بڑے تہذیبی اور روحانی فیصلے کی طرف متوجہ کرتے ہیں۔ “سود و زیان” یہاں صرف مالی منفعت اور نقصان نہیں بلکہ وہ سارا حسابی ذہن ہے جو ہر چیز کو فوری فائدے، وقتی سہولت، یا ظاہری کامیابی کے پیمانے سے ناپتا ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ زندگی کے ایسے فیصلوں میں اپنی اصل “سودا” مت کر بیٹھو۔ یعنی اگر کوئی راستہ بظاہر فائدہ دے مگر اس کے بدلے حیا، خاندان، ایمان، یا تہذیبی شرافت کمزور ہو تو یہ حقیقی سودا نہیں، خسارہ ہے۔ اقبال عورت کو اس سوداگرانہ ذہنیت سے بچانا چاہتے ہیں جو ہر چیز کو بازار کے منطقے میں بدل دیتی ہے۔
دوسرے مصرعے میں “جادهٔ آبا” کا ذکر دراصل روایت پر اندھی تقلید کی دعوت نہیں، بلکہ اس اصل راستے کی طرف واپسی ہے جو دین، وقار، نسبتی شرافت، اور آزمودہ تہذیبی حکمت سے بنا ہے۔ آبا سے مراد وہ صالح سلسلہ ہے جس نے ایمان، پاکیزگی، اور گھریلو شرافت کو نسلوں تک منتقل کیا۔ اقبال کہتے ہیں کہ جب زمانہ دھوکا دے، بازار لبھائے، اور نئے راستے بہت دلکش دکھائی دیں تو مسلمان عورت کو اپنے قدم اس راستے پر رکھنے چاہییں جس کی بنیاد ایمان اور باوقار تجربے پر ہے۔ یہ راستہ انسان کو صرف ماضی سے نہیں بلکہ اپنی اصل شناخت سے جوڑتا ہے۔
سود و زیان کی نفسیات:
جب انسان ہر چیز کو نفع کے پیمانے سے دیکھنے لگتا ہے تو کچھ دیر بعد اصول، محبت، اور وفاداری بھی قیمتوں میں بدلنے لگتے ہیں۔ اقبال اسی خطرے سے خبردار کرتے ہیں۔
عورت اگر اپنے مقام کو صرف فائدے اور سہولت کے ترازو میں تولنے لگے تو وہ اس امانت کو کھو سکتی ہے جو اس کے ذریعے نسلوں تک پہنچتی ہے۔
جادهٔ آبا کا مطلب:
یہ راہ محض رسوم کا نام نہیں بلکہ تجربہ شدہ خیر، ایمانی توازن، اور خاندان و معاشرے کی آزمودہ حفاظت کا راستہ ہے۔
اقبال اس راہ کی طرف اس لیے بلاتے ہیں کہ جدید زمانے کی بے شمار دلکشیوں کے مقابلے میں یہ راستہ دل کو مرکز اور کردار کو وقار دیتا ہے۔
روایت اور زندگی:
صحیح روایت مردہ بوجھ نہیں بلکہ جیتی ہوئی حکمت ہوتی ہے۔ وہ انسان کو یہ بتاتی ہے کہ کن اصولوں نے نسلوں کو سنبھالا اور کن لغزشوں نے انہیں توڑا۔
عورت اگر حضرت فاطمہ الزہراء اور صالح ماؤں کے تسلسل سے جڑی رہے تو اس کی جدت بھی بے اصل نہیں ہوگی، بلکہ باوقار اور بامعنی ہوگی۔
آج کے لیے سبق:
آج بہت سے فیصلے صرف معاشی فائدے، سماجی قبولیت، یا وقتی آسودگی کے پیمانوں سے کیے جاتے ہیں۔ مگر اگر اس عمل میں خاندانی نظام، حیا، یا دینی حرارت گھٹ جائے تو اصل خسارہ وہیں ہو چکا ہوتا ہے۔
یہ شعر یاد دلاتا ہے کہ مسلمان عورت کی راہ وہی محفوظ ہے جس میں ایمان، حیا، اور صالح اسلاف کے آزمودہ چراغ کی روشنی شامل ہو۔
مثال
جیسے کوئی مسافر وقتی شارٹ کٹ لے کر دلدل میں اتر جائے، ویسے ہی فوری فائدے کے لالچ میں اصل راستہ چھوڑنے والا انسان بظاہر قریب مگر حقیقت میں زیادہ دور جا پڑتا ہے۔
خلاصہ
اقبال اس شعر میں عورت کو وقتی نفع و نقصان کے فریب سے بچنے اور صالح آبا کے ایمانی و تہذیبی راستے پر قائم رہنے کی تلقین کرتے ہیں۔