رموز بے خودی

این ترا از خویشتن آگه کند

این ترا از خویشتن آگه کند

آشنای کار و مرد ره کند

ترجمہ

یہی چیز تجھے اپنے آپ سے آشنا کرتی ہے، اور تجھے کام سے واقف اور راستے کا آدمی بنا دیتی ہے۔

تشریح

یہ شعر پچھلے سوال کا مثبت جواب ہے۔ اگر تاریخ صرف داستان، قصہ اور افسانہ نہیں، تو پھر وہ کیا ہے؟ اقبال کہتے ہیں: “این ترا از خویشتن آگه کند”۔ یعنی تاریخ تمہیں تمہاری خودی سے آشنا کرتی ہے۔ اس کا پہلا کام یہی ہے کہ وہ وجود کے اندر بھولی ہوئی نسبتوں کو جگاتی ہے۔ انسان اور ملت دونوں اپنے ماضی کے آئینے میں اپنے حال کو بہتر سمجھتے ہیں۔ جب انہیں معلوم ہوتا ہے کہ وہ کن اصولوں سے بنے، کن راستوں سے گزرے، اور کن مقاصد کے لیے جیے، تو ان کی خود شناسی زیادہ واضح اور زندہ ہو جاتی ہے۔

دوسرا کام یہ ہے کہ تاریخ “آشنای کار و مرد ره” بنا دیتی ہے۔ یعنی وہ آدمی کو صرف باخبر نہیں کرتی، کار آشنا بھی بناتی ہے۔ اسے راستہ دکھاتی ہے، منزلوں کے آداب سکھاتی ہے، اور اسے اہلِ عمل کی صف میں کھڑا کرتی ہے۔ اقبال کے نزدیک تاریخ کا مقصد محض ماضی پر غور کرنا نہیں، بلکہ حال کے کام اور مستقبل کی راہ کے لیے بصیرت پیدا کرنا ہے۔ جو تاریخ سے صحیح طور پر جڑتا ہے، وہ نہ صرف اپنے آپ کو بہتر پہچانتا ہے بلکہ جدوجہد، ذمہ داری، اور کارزارِ حیات میں اپنی جگہ بھی بہتر سمجھتا ہے۔

تاریخ اور خود شناسی:

اپنے آپ سے آشنا ہونا اس وقت آسان ہوتا ہے جب آدمی اپنے وجود کے پیچھے موجود تسلسل کو سمجھے۔ تاریخ یہی کام کرتی ہے۔ وہ بتاتی ہے کہ تمہاری شکل صرف آج کی پیداوار نہیں، بلکہ ایک مسلسل بننے والی حقیقت ہے۔

ملت کے لیے بھی یہی سچ ہے۔ اپنی اجتماعی تاریخ کو سمجھ کر ہی وہ اپنے مقصد، اپنی قوت، اور اپنی کم زوریوں کی صحیح پہچان حاصل کر سکتی ہے۔

آشنای کار:

کار سے مراد عمل، ذمہ داری، اور میدانِ حیات ہے۔ تاریخ آدمی کو یہ سکھاتی ہے کہ زندگی کے کام کو کیسے سمجھا جائے، اس کے اندر کن آزمائشوں کا سامنا ہوتا ہے، اور کن اصولوں سے استقامت پیدا ہوتی ہے۔

اس لیے تاریخ محض نظری علم نہیں، عملی بصیرت بھی ہے۔ جو اسے صحیح طرح پڑھتا ہے وہ صرف جانتا نہیں، بہتر طور پر کام بھی کرتا ہے۔

مردِ رہ:

“مردِ رہ” وہ ہے جو راستے کی حقیقت سے آشنا ہو، سفر کی صعوبتیں جانتا ہو، اور منزل کے شوق کے ساتھ چلنا بھی جانتا ہو۔ اقبال تاریخ کو ایسی تربیت گاہ بناتے ہیں جو انسان کو راہ کا آدمی بناتی ہے، محض سامع نہیں۔

یہ نکتہ ملی زندگی کے لیے بہت اہم ہے۔ جو قوم اپنی تاریخ سے روشنی لیتی ہے، وہ راستے کی قوم بنتی ہے؛ جو اس سے بے خبر رہتی ہے، وہ بار بار بھٹکتی ہے۔

آج کے لیے سبق:

آج اگر تاریخ سے ربط صرف امتحانی معلومات تک محدود رہ جائے تو اس کا اصل فائدہ ضائع ہو جاتا ہے۔ اقبال چاہتے ہیں کہ تاریخ انسان اور ملت دونوں کو زندہ خود آگہی اور عملی بصیرت دے۔ یہی اس کی اصل افادیت ہے۔

یہ شعر ہمیں دعوت دیتا ہے کہ تاریخ کو محض حفظ نہ کریں، اس سے آشنا ہوں۔ اسے اپنی خودی، اپنے کام، اور اپنی راہ کے فہم سے جوڑیں۔ اقبال کے نزدیک تاریخ کی سچی قراءت انسان کو خود شناس بھی بناتی ہے اور مردِ رہ بھی۔

مثال

جیسے ایک شاگرد اپنے استادوں اور پیش روؤں کے تجربات کو جان کر نہ صرف اپنا فن سمجھتا ہے بلکہ اس راہ پر چلنے کا طریقہ بھی سیکھتا ہے، ویسے ہی تاریخ آدمی کو خود شناس اور مردِ رہ بناتی ہے۔

خلاصہ

اقبال اس شعر میں تاریخ کی اصل افادیت واضح کرتے ہیں: وہ انسان اور قوم کو اپنی خودی سے آشنا کرتی ہے اور انہیں عمل و راہ کے فہم سے مزین کرتی ہے۔ یہی تاریخ کی زندہ تربیتی قوت ہے۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button