گرچه هر دم کاهد ، افزاید گلش
گرچه هر دم کاهد ، افزاید گلش
«من همانستم که بودم» در دلش
ترجمہ
اگرچہ اس کی مٹی ہر دم گھٹتی بڑھتی اور بدلتی رہتی ہے، مگر اس کے دل میں یہی احساس رہتا ہے کہ میں وہی ہوں جو پہلے تھا۔
تشریح
اس شعر میں اقبال خودی کے تسلسل کا نہایت گہرا فلسفیانہ بیان پیش کرتے ہیں۔ “گلش” سے مراد اس کا خاکی پیکر، اس کی جسمانی اور ظاہری حالت، یا اس کی مادی ترکیب ہے، جو ہر لمحہ تغیر پذیر ہے۔ انسان کا بدن بدلتا رہتا ہے، احوال بدلتے رہتے ہیں، عمر کے مدارج بدلتے ہیں، خواہشیں اور حالات بھی رد و بدل سے گزرتے ہیں؛ مگر اس سب کے باوجود دل کے اندر ایک احساس باقی رہتا ہے: “میں وہی ہوں”۔ یہی استمراری احساس خودی کی اصل شہادت ہے۔
اقبال کے نزدیک شخصیت کی حقیقت صرف جسمانی بقا میں نہیں بلکہ شعوری تسلسل میں ہے۔ اگر ہر تبدیلی کے ساتھ انسان بالکل دوسرا ہو جاتا تو “میں” کا شعور قائم نہ رہتا۔ مگر ایسا نہیں ہوتا۔ بچپن، جوانی، پختگی اور بڑھاپے کے باوجود انسان اپنے باطن میں ایک بنیادی استمرار محسوس کرتا ہے۔ یہی استمرار اسے ذمہ دار، صاحبِ یاد، اور صاحبِ تاریخ بناتا ہے۔ اسی اصول کو اقبال ملت پر بھی منطبق کرتے ہیں: قوم کے حالات، صورتیں اور ادوار بدلتے رہتے ہیں، مگر اگر اس کی خودی زندہ ہو تو وہ اپنے اندر یہ احساس رکھتی ہے کہ وہ ایک ہی تاریخی ذات کا تسلسل ہے۔
ظاہری تغیر:
زندگی میں ہر چیز بدلتی ہے۔ جسم بدلتا ہے، مزاج سنورتا ہے، علم بڑھتا ہے، خواہشیں کم و بیش ہوتی ہیں، اور ماحول انسان پر نئے اثرات ڈالتا ہے۔ اقبال اس تغیر کا انکار نہیں کرتے؛ وہ اسے تسلیم کرتے ہیں۔
مگر سوال یہ ہے کہ ان سب تبدیلیوں کے باوجود وحدتِ شخصیت کیسے باقی رہتی ہے؟ یہی وہ سوال ہے جس کا جواب اقبال “من همانستم” کے احساس میں دیتے ہیں۔
دل کا استمرار:
ظاہری مٹی بدلتی ہے، مگر دل کے اندر ایک بنیادی شناخت باقی رہتی ہے۔ یہ شناخت جامد نہیں، زندہ ہے؛ بدلتے ہوئے احوال کو سمیٹتی ہے مگر ان میں گم نہیں ہوتی۔ اقبال اسی زندہ مرکز کو خودی کہتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ انسان اپنے ماضی کو اپنا ماضی سمجھتا ہے اور اپنے کل کے لیے خود ذمہ داری محسوس کرتا ہے۔ اگر باطن میں یہ استمرار نہ ہو تو اخلاق، وفا، تاریخ اور مقصد سب کم زور پڑ جائیں۔
فرد سے ملت تک:
جیسے فرد اپنے بچپن اور جوانی کے فرق کے باوجود اپنے آپ کو ایک ہی ذات سمجھتا ہے، ویسے ہی ملت بھی زمانوں کی تبدیلی کے باوجود اپنی ایک تاریخی خودی محفوظ رکھ سکتی ہے۔ اس کے لباس، زبان کے لہجے، سیاسی حالات یا تمدنی صورتیں بدل سکتی ہیں، مگر اس کے اندر ایک ربطِ باطن باقی رہ سکتا ہے۔
اقبال کی ملی فکر میں یہ نکتہ بنیادی ہے، کیونکہ وہ ملت کی حیات کو افراد کے مجموعے سے زیادہ ایک جیتی جاگتی تاریخی خودی سمجھتے ہیں۔ یہ شعر اسی فلسفے کی فردی مثال ہے۔
آج کے لیے سبق:
آج انسان بدلتے حالات کے دباؤ میں کبھی کبھی یہ سمجھ بیٹھتا ہے کہ اس کی اصل شخصیت ہی ٹوٹ گئی ہے۔ ہر نیا تجربہ اسے نئی تعریف دیتا ہے، اور وہ اپنے اندر کسی ثابت مرکز کو محسوس نہیں کر پاتا۔ اقبال اس کیفیت میں امید اور ترتیب دونوں دیتے ہیں۔
یہ شعر ہمیں یاد دلاتا ہے کہ تغیر سے گھبرانا نہیں چاہیے، مگر تغیر کے اندر اپنا باطنی ربط بھی بچا کر رکھنا چاہیے۔ خودی کی پختگی یہی ہے کہ آدمی بدلتے ہوئے احوال کے اندر بھی اپنے دل سے کہہ سکے: میں وہی ہوں، مگر پہلے سے زیادہ بیدار۔ اقبال کے نزدیک یہی زندہ استمرار شخصیت کا اصل جوہر ہے۔
مثال
جیسے ایک انسان بچپن کی تصویر دیکھ کر جانتا ہے کہ چہرہ بدل گیا، عمر بدل گئی، مگر وہ خود اسی ایک زندگی کا تسلسل ہے، ویسے ہی خودی تغیر کے اندر بھی اپنی وحدت قائم رکھتی ہے۔
خلاصہ
اقبال اس شعر میں بتاتے ہیں کہ جسمانی اور ظاہری تغیر کے باوجود دل کے اندر خودی کا تسلسل باقی رہتا ہے۔ یہی “میں وہی ہوں” کا احساس شخصیت کو دوام، ذمہ داری اور تاریخی ربط عطا کرتا ہے۔