نقش گیر این و آن اندیشه اش
نقش گیر این و آن اندیشه اش
غیر جوئی غیر بینی پیشه اش
ترجمہ
اس کی سوچ اس اور اس کی تصویریں قبول کرتی رہتی ہے، اور دوسروں کو ڈھونڈنا اور دوسروں ہی کو دیکھنا اس کا چلن ہوتا ہے۔
تشریح
اس شعر میں اقبال ابتدائی شعور کی بیرونی وابستگی کو واضح کرتے ہیں۔ “نقش گیر” یعنی ایسی سطح جو ہر طرف سے نقوش قبول کرتی ہو۔ بچے کی فکر ابھی اپنی مضبوط صورت قائم نہیں کر سکی، اس لیے جو چیز سامنے آتی ہے وہ اس پر اثر ڈال دیتی ہے۔ اس کی اندیشہ سازی ابھی اندر کے کسی پختہ مرکز سے نہیں بلکہ باہر کے مناظر، آوازوں، چہروں اور تجربات سے بنتی ہے۔ اسی لیے اقبال کہتے ہیں کہ “غیر جوئی” اور “غیر بینی” اس کا پیشہ ہے۔ یعنی وہ ابھی اپنے اندر کے مرکز سے زیادہ باہر کے وجودات میں کھویا ہوا ہے۔
یہ نکتہ ملی زندگی پر بھی پوری طرح منطبق ہوتا ہے۔ نوخیز ملتیں اکثر اپنی صورت دوسروں کے آئینے میں ڈھونڈتی ہیں۔ وہ خود اپنی اصل قدر، اپنی روایت، اپنے مزاج اور اپنی تخلیقی قوت کو پہچاننے سے پہلے باہر کی چمک دمک، باہر کے نمونے، اور باہر کے تصورات سے متاثر ہوتی ہیں۔ اقبال اس حالت کو صرف مذمت کے طور پر بیان نہیں کرتے، بلکہ شعور کے ایک مرحلے کے طور پر دکھاتے ہیں۔ مگر ساتھ ہی اشارہ دیتے ہیں کہ اگر یہ کیفیت دائمی ہو جائے تو خودی کبھی مرکز حاصل نہیں کر سکتی۔
نقوش قبول کرنے والی فکر:
بچے کا ذہن کچی مٹی کی طرح ہوتا ہے۔ جو سانچہ اس کے سامنے رکھا جائے، وہ کچھ نہ کچھ اثر لے لیتا ہے۔ اس میں استعداد بھی ہے اور خطرہ بھی۔ استعداد اس لیے کہ وہ سیکھ سکتا ہے؛ خطرہ اس لیے کہ وہ بغیر تمیز کے متاثر بھی ہو سکتا ہے۔
اقبال کے نزدیک خودی کی تعمیر اسی مرحلے سے گزرتی ہے۔ پہلے ذہن لیتا ہے، پھر پرکھتا ہے، پھر چنتا ہے، اور آخرکار اپنی صورت بناتا ہے۔ اگر لینے کا مرحلہ پرکھنے کے بغیر رہ جائے تو شخصیت ادھار کی ہو جاتی ہے۔
غیر جوئی اور غیر بینی:
“غیر جوئی” کا مطلب ہے کہ توجہ کا رخ ہمیشہ باہر ہو۔ “غیر بینی” اس کی تکمیل ہے کہ نظر بھی ہر وقت دوسروں ہی پر ہو۔ ایسی حالت میں آدمی دوسروں کی موجودگی سے تو واقف ہوتا ہے مگر اپنے باطن کی آواز کم سنتا ہے۔
ملتیں بھی جب اپنی تاریخ کے بجائے دوسروں کی تاریخ میں، اپنی تہذیب کے بجائے دوسروں کی تہذیب میں، اور اپنے مقصود کے بجائے دوسروں کے مقاصد میں کھو جاتی ہیں تو ان کی خودی کم زور پڑ جاتی ہے۔ اقبال اس بیرون نگری کو پہچاننے کی دعوت دیتے ہیں۔
سیکھنا اور کھو جانا:
اقبال دوسروں سے سیکھنے کے مخالف نہیں۔ اصل خرابی تب پیدا ہوتی ہے جب “غیر” سے ربط، “خود” سے غفلت میں بدل جائے۔ انسان کا ذہن دنیا سے نقوش لے، مگر ان کو اپنے اصول، اپنے ذوق، اور اپنی داخلی میزان پر بھی پرکھے۔ یہی پختگی ہے۔
ابتدائی شعور میں یہ میزان کم زور ہوتی ہے، اس لیے بیرونی اثرات بہت شدید ہوتے ہیں۔ اقبال آگے چل کر یہی دکھائیں گے کہ ضبطِ روایت اور یادِ سرگذشت کے بغیر ملت اس اثر پذیری سے باہر نہیں نکل سکتی۔
آج کے لیے سبق:
آج کے زمانے میں “غیر بینی” پہلے سے کہیں زیادہ آسان ہو گئی ہے۔ آدمی ہر وقت دوسروں کی زندگی، دوسروں کی تعریف، دوسروں کے سانچوں اور دوسروں کے پیمانوں میں الجھا رہتا ہے۔ اس سے اپنی داخلی آواز دب سکتی ہے۔ اقبال کا شعر اسی مرض کی جڑ پکڑتا ہے۔
یہ شعر ہمیں سکھاتا ہے کہ دنیا سے ربط رکھو مگر اپنے مرکز کو نہ کھوؤ۔ نقوش قبول کرنا ابتدا ہے، مگر اپنی نقش گری تک پہنچنا کمال ہے۔ خودی تبھی پختہ ہوگی جب “غیر بینی” سے آگے بڑھ کر “خود بینی” پیدا ہو۔
مثال
جیسے ایک بچہ ہر نئے کھلونے، چہرے اور آواز کی طرف فوراً متوجہ ہو جاتا ہے، ویسے ہی نوخیز شعور ابتدا میں باہر کے نقوش زیادہ لیتا اور اپنے اندر کم اترتا ہے۔
خلاصہ
اقبال اس شعر میں دکھاتے ہیں کہ ابتدائی شعور دوسروں کے نقوش سے جلد متاثر ہوتا اور باہر کی طرف زیادہ متوجہ رہتا ہے۔ خودی کی بلوغت تب شروع ہوتی ہے جب یہ اثر پذیری اپنے مرکز کی پہچان کے ساتھ توازن میں آتی ہے۔