رموز بے خودی

از همه بیگانه آن مامک پرست

از همه بیگانه آن مامک پرست

گریه مست وشیر مست و خواب مست

ترجمہ

وہ ماں سے چمٹا ہوا بچہ سب سے بے گانہ ہوتا ہے؛ رونے میں بھی مست، دودھ میں بھی مست، اور نیند میں بھی مست۔

تشریح

اس شعر میں اقبال نوخیز حیات کے ایک اور پہلو کو سامنے لاتے ہیں: وابستگی اور محدود مرکزیت۔ بچہ ابھی اپنی ماں کے سوا کسی وسیع تر دنیا سے واقف نہیں۔ “مامک پرست” کا مطلب یہ نہیں کہ اس کی محبت غلط ہے، بلکہ یہ کہ اس کا پورا شعور ابھی ایک محدود دائرے کے اندر بند ہے۔ اس کے لیے ماں ہی دنیا ہے، اور اسی سے اس کا سکون، غذا، گریہ، نیند اور ابتدائی حیات وابستہ ہے۔ اقبال اسی کیفیت کو فرد سے ملت کی طرف منتقل کرتے ہیں: ابتدائی مرحلے میں شعور محدود مرکزوں سے چمٹا رہتا ہے اور ابھی وسیع اجتماعی خودی تک نہیں پہنچتا۔

“گریه مست و شیر مست و خواب مست” میں “مست” کا لفظ نہایت معنی خیز ہے۔ بچہ اپنے فوری احوال میں پوری طرح غرق ہے۔ وہ روتا ہے تو اسی میں ڈوبا ہوا، دودھ پیتا ہے تو اسی میں مست، سوتا ہے تو نیند ہی اس کی پوری دنیا بن جاتی ہے۔ اس کے شعور کا مرکز ابھی مسلسل بدلتا ہوا، فوری، اور حیاتی تقاضوں کے تابع ہے۔ اقبال کے نزدیک یہ ایک ایسا مرحلہ ہے جہاں حیات تو ہے مگر وسعتِ شعور نہیں؛ شدت ہے مگر ترتیب نہیں؛ وابستگی ہے مگر خود شناسی ابھی نہیں۔

مامک پرستی:

ماں سے محبت فطری اور ضروری ہے، مگر اقبال اس کے ذریعے یہ دکھاتے ہیں کہ ابتدائی شعور ہمیشہ کسی محدود سہارے کے گرد گھومتا ہے۔ وہ خود اپنی بنیاد نہیں بن پایا ہوتا۔ اس کا مرکز باہر ہوتا ہے، اندر نہیں۔

یہی بات ملتوں میں بھی ظاہر ہو سکتی ہے۔ نوخیز یا کم شعور قومیں کسی محدود نسبت، وقتی سہارا، یا بیرونی آغوش پر بہت زیادہ تکیہ کرتی ہیں۔ ان کی اپنی مستقل اجتماعی خودی ابھی پوری طرح بیدار نہیں ہوئی ہوتی۔

بیگانگی از غیر:

“از همه بیگانه” یہ بتاتا ہے کہ ابتدائی مرحلے میں شعور کی دنیا بہت چھوٹی ہوتی ہے۔ جو چیز اس کے فوری دائرے سے باہر ہو، وہ اس کے لیے بے معنی رہتی ہے۔ بچہ اپنے ماحول کے وسیع ربط، خاندان، معاشرہ، تاریخ یا مستقبل سے واقف نہیں ہوتا۔

اقبال اس صورت کو عیب کے طور پر نہیں بلکہ مرحلے کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ مگر وہ یہ بھی بتاتے ہیں کہ اگر یہی محدودیت مستقل ہو جائے تو نشوونما رک جاتی ہے۔ شعور کو وسیع ہونا ہے، ورنہ خودی پختہ نہیں ہوگی۔

فوری احوال میں مستی:

رونا، دودھ پینا، اور سونا، یہ تینوں بنیادی حیاتی کیفیتیں ہیں۔ بچہ انہی میں پوری طرح ڈوبا ہوا ہے۔ اس کی دنیا ابھی ضرورت، سکون، اور فوری ردِ عمل تک محدود ہے۔ اقبال دکھاتے ہیں کہ خودی کا ابتدائی مرحلہ اسی نوعیت کا ہوتا ہے: شدید مگر محدود، زندہ مگر ابھی بے ترتیب۔

ملتوں کی بعض حالتیں بھی اسی طرح ہوتی ہیں۔ وہ صرف فوری مسائل، فوری آرام، یا فوری خوف کے گرد جیتی ہیں اور ابھی طویل تاریخی یا ملی شعور پیدا نہیں کر پاتیں۔ اقبال اس کیفیت کو پہچاننے کی دعوت دیتے ہیں۔

آج کے لیے سبق:

آج بھی بہت سے افراد اور قومیں اپنے فوری مفاد، فوری خوف، یا فوری آسودگی کے گرد اتنی بند ہو جاتی ہیں کہ ان کی بڑی خودی بیدار نہیں ہو پاتی۔ وہ اپنے قریبی دائرے سے باہر کا نقشہ نہیں دیکھتیں۔ اقبال اس رویے کی جڑ دکھا رہے ہیں: یہ طفلانہ مرحلہ ہے، اور اس سے آگے بڑھنا ضروری ہے۔

یہ شعر ہمیں دعوت دیتا ہے کہ ہم اپنے محدود سہاروں سے محبت ضرور رکھیں، مگر انہیں آخری مرکز نہ بنا لیں۔ خودی کی بلوغت یہی ہے کہ آدمی فوری حیاتی کیفیتوں سے اوپر اٹھ کر اپنے وسیع تر معنی، ربط، اور ذمہ داری کو پہچانے۔ اقبال اسی بیداری کی تیاری کر رہے ہیں۔

مثال

جیسے ایک بچہ اپنے کھلونے یا ماں کے دامن کو ہی پوری دنیا سمجھتا ہے، ویسے ہی نوخیز شعور بھی ابتدا میں محدود مرکزوں کے اندر بند رہتا ہے اور ابھی وسیع حقیقت سے واقف نہیں ہوتا۔

خلاصہ

اقبال اس شعر میں دکھاتے ہیں کہ ابتدائی شعور محدود سہاروں اور فوری احوال میں ڈوبا ہوتا ہے۔ خودی کی بلوغت تب شروع ہوتی ہے جب یہ محدود مرکز وسعتِ ادراک اور وسیع ربط میں بدلنے لگے۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button