رموز بے خودی

صورت هستی ز معنی ساده نیست

صورت هستی ز معنی ساده نیست

این کهن ساز از نوا افتاده نیست

ترجمہ

ہستی کی صورت معنی سے خالی اور سادہ نہیں، اور یہ پرانا ساز اپنی نوا سے محروم نہیں ہوا۔

تشریح

اس شعر میں اقبال کائنات کے بارے میں ایک نہایت بنیادی اعلان کرتے ہیں: وجود محض بے معنی مادہ نہیں۔ “صورتِ ہستی” بظاہر رنگ، شکل، حرکت، مادّہ اور واقعات کا مجموعہ دکھائی دے سکتی ہے، مگر اقبال کہتے ہیں کہ یہ “ز معنی ساده نیست”۔ یعنی اس کے پیچھے معنی ہے، مقصد ہے، حکمت ہے، اور ایک داخلی ربط ہے۔ دنیا سطحی تماشا نہیں، ایک معنی خیز نظام ہے۔ اگر انسان کی نظر بیدار ہو تو اسے اشیا کے اندر ایک مسلسل اشارہ، ایک نظم، اور ایک پیغام محسوس ہوتا ہے۔

دوسرے مصرعے میں اقبال اس پوری کائنات کو “کهن ساز” کہتے ہیں۔ ساز قدیم بھی ہے اور زندہ بھی۔ یعنی یہ عالم پرانا ضرور ہے، مگر مردہ نہیں۔ “از نوا افتاده نیست” کہہ کر اقبال اس بات کی نفی کرتے ہیں کہ کائنات خاموش یا بے جان ہو گئی ہے۔ اس کے اندر اب بھی نغمہ ہے، حرکت ہے، اثر ہے، اور جواب دینے کی صلاحیت ہے۔ مسئلہ ساز کے خاموش ہونے کا نہیں، سننے والے کے بہرے ہو جانے کا ہو سکتا ہے۔ اقبال چاہتے ہیں کہ انسان دوبارہ اس ساز کی آواز سنے، کیونکہ اسی نوا میں علم، حکمت، اور خودی کی توسیع کے امکانات پوشیدہ ہیں۔

صورت اور معنی:

اقبال کے نزدیک صورت اگر معنی سے کٹ جائے تو دنیا محض بوجھ لگنے لگتی ہے۔ مگر جب آدمی یہ پہچان لے کہ ہر شکل کے پیچھے ایک حکمت ہے، ہر واقعے کے پیچھے ایک قانون ہے، اور ہر شے کسی بڑے نظم سے جڑی ہے، تو اس کی نگاہ بدل جاتی ہے۔ پھر دنیا صرف استعمال کی چیز نہیں رہتی، مطالعے کی چیز بھی بن جاتی ہے۔

یہی وہ نکتہ ہے جو علم اور ایمان دونوں کو ایک جگہ لا کھڑا کرتا ہے۔ علم صورت کے اندر معنی ڈھونڈتا ہے، اور ایمان معنی کو صورت کے اندر زندہ دیکھتا ہے۔ اقبال دونوں کے درمیان یہی پل قائم کرتے ہیں۔

کهن ساز کی نوا:

ساز کی تشبیہ یہ ظاہر کرتی ہے کہ کائنات میں ہم آہنگی ہے، تار ہے، ترتیب ہے، اور قابلِ سماعت نغمہ ہے۔ اگر یہ محض افراتفری ہوتی تو ساز کی تعبیر مناسب نہ تھی۔ اقبال گویا کہتے ہیں کہ یہ جہان اپنی ساخت میں موسیقیت رکھتا ہے۔ اس کے قوانین، اس کی نسبتیں، اس کی گردشیں، سب ایک نغمہ آفرین ترتیب کے تابع ہیں۔

“از نوا افتاده نیست” اس لیے بھی معنی خیز ہے کہ یہ جمود کے خلاف اعلان ہے۔ دنیا ابھی ختم نہیں ہوئی، امکانات ختم نہیں ہوئے، راز ختم نہیں ہوئے، اور کائنات اپنی تخلیقی آواز سے خالی نہیں ہوئی۔ زندہ انسان کے لیے ابھی بہت کچھ سننا اور سمجھنا باقی ہے۔

سماعت کی تربیت:

اگر کائنات ساز ہے تو انسان کو سامع اور پھر نغمہ شناس بننا ہوگا۔ بہت سے لوگ دنیا میں رہتے ہیں مگر اس کی نوا نہیں سنتے۔ وہ صرف شور سنتے ہیں، معنی نہیں؛ صرف حادثہ دیکھتے ہیں، ربط نہیں۔ اقبال چاہتے ہیں کہ مسلمان کے اندر ایک ایسی ذہنی و روحانی سماعت پیدا ہو جو کائنات کے اندر بولتی ہوئی حکمت کو سن سکے۔

یہ سماعت خاموشی سے نہیں آتی؛ اس کے لیے غور، تدبر، سوال، اور باطنی بیداری چاہیے۔ یہی بیداری بعد میں تسخیر کا دروازہ بھی کھولتی ہے، کیونکہ جب تک نغمہ سمجھ میں نہ آئے، ساز پر تصرف بھی مکمل نہیں ہوتا۔

آج کے لیے سبق:

آج کا بڑا بحران یہ ہے کہ دنیا یا تو محض مادّی شے بن کر رہ جاتی ہے، یا محض پراسرار دھند۔ اقبال دونوں انتہاؤں سے نکالتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ دنیا معنی خیز ہے اور اب بھی بول رہی ہے۔ اگر تمہاری آنکھ اور کان بیدار ہوں تو تم اس کے اندر علم بھی پاؤ گے، حکمت بھی، اور عمل کی نئی سمت بھی۔

یہ شعر امت کو دوبارہ دنیا کے ساتھ ایک زندہ تعلق قائم کرنے کی دعوت دیتا ہے۔ ہستی کو بے معنی سمجھنا زوال کا آغاز ہے، اور اس کے اندر نوا سن لینا بیداری کا آغاز۔ اقبال کے نزدیک یہی پہلی علمی اور تہذیبی شرط ہے۔

مثال

جیسے ایک ماہر موسیقار کے لیے ساز محض لکڑی اور تار نہیں رہتا بلکہ معنی خیز نغمہ بن جاتا ہے، ویسے ہی بیدار انسان کے لیے کائنات محض مادہ نہیں بلکہ حکمت سے بھرپور نظام بن جاتی ہے۔

خلاصہ

اقبال اس شعر میں بتاتے ہیں کہ دنیا کی ظاہری صورت معنی سے خالی نہیں اور کائنات اب بھی زندہ نوا رکھتی ہے۔ مسئلہ عالم کے خاموش ہونے کا نہیں، انسان کے بیدار نہ ہونے کا ہے۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button