رموز بے خودی

سر ابراهیم و اسمعیل بود

سر ابراهیم و اسمعیل بود

یعنی آن اجمال را تفصیل بود

ترجمہ

اس میں ابراہیم اور اسماعیل کا راز پوشیدہ تھا، یعنی جو حقیقت پہلے اجمال میں تھی، یہ اس کی تفصیل بن گئی۔

تشریح

اقبال ایک بار پھر کربلا کو ابراہیمی سنت سے جوڑتے ہیں، مگر اس بار انداز اور زیادہ لطیف ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ امام حسین کی شہادت میں ابراہیم و اسماعیل کا “سر” تھا، یعنی وہی راز، وہی معنی، وہی روح؛ اور جو ابراہیمی واقعے میں اجمالی صورت میں سامنے آیا تھا، حسینیت میں وہ پوری تفصیل کے ساتھ کھل گیا۔ شعر کے مطابق:

سرِ ابراہیم و اسماعیل:

ابراہیم و اسماعیل کی داستان خدا کے حکم کے سامنے مکمل سپردگی، محبت سے بڑی رضا، اور عزیز ترین شے کو بھی قربان کر دینے کی آمادگی کی داستان ہے۔ اقبال کہتے ہیں کہ یہی راز حسین کی قربانی میں موجود تھا۔ گویا کربلا نئی حقیقت نہیں، اسی قدیم توحیدی سنت کا نیا اور زیادہ کھل کر ظاہر ہونے والا مرحلہ ہے۔

حسینیت یوں ابراہیمیت کی وارث اور اس کی زندہ شرح بن جاتی ہے۔

اجمال اور تفصیل:

ابراہیمی قصے میں قربانی کی روح موجود تھی، مگر اس کی اجتماعی اور تاریخی تفصیل بعد کے زمانوں کے لیے پوری طرح نمایاں نہ تھی۔ کربلا میں وہی معنی خون، اہلِ بیت، حریت، دین کی بقا، اور استبداد کے انکار کے ساتھ پورے پھیلاؤ میں سامنے آ گیا۔ اقبال اس لیے کہتے ہیں کہ وہاں اجمال تھا، یہاں تفصیل ہے۔

یعنی کربلا قربانی کے راز کی تفسیری اور عملی تکمیل ہے۔

قربانی کی ترقی یافتہ صورت:

حسینیت میں قربانی صرف ایک ذاتی امتحان نہیں رہی؛ وہ امت، سیاست، حریت، دین اور تاریخ سب کی سطح پر معنی پیدا کرنے لگی۔ اس لیے اقبال کو محسوس ہوتا ہے کہ ابراہیمی واقعہ جوہر کے اعتبار سے موجود تھا، مگر حسینی واقعہ اس جوہر کو ایک بڑے تمدنی اور روحانی افق پر کھول دیتا ہے۔

اس سے کربلا کا مقام ایک منفرد دینی توضیح کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔

قرآن اور تاریخ کا ربط:

اقبال کے ہاں قرآن کے قصے تاریخ سے جدا نہیں۔ وہ بعد کے واقعات میں بھی انہی قرآنی اصولوں کی نئی نمود دیکھتے ہیں۔ ابراہیم و اسماعیل کا سر کربلا میں زندہ ہے، یعنی قرآن کی معنوی دنیا اور امت کی زندہ تاریخ آپس میں جڑی ہوئی ہیں۔ جو شخص اس ربط کو سمجھے گا وہ کربلا کو محض ایک خانوادگی سانحہ نہیں سمجھے گا۔

وہ اسے وحی کے معانی کی تاریخی تجلی کے طور پر پڑھے گا۔

آج کے لیے سبق:

آج بھی دینی قصے اگر محض تاریخی یادگار بن جائیں تو ان کی روح ہم سے دور ہو جاتی ہے۔ اقبال ہمیں سکھاتے ہیں کہ ابراہیمی قربانی کو حسینی شعور کے ساتھ جوڑ کر پڑھو؛ تب معلوم ہوگا کہ سپردگی، حق، بندگی اور حریت ہر دور میں نئے معنی کے ساتھ ظاہر ہوتے ہیں۔

اسلامی خودی کے لیے قرآن کے اجمالات کو اپنے زمانے کی تفصیل میں پہچاننا ضروری ہے۔

مثال

کسی اصولی سچائی کو کتاب میں جان لینا ایک بات ہے، اور اسے کسی بڑی آزمائش میں پوری وسعت کے ساتھ سامنے آتے دیکھنا دوسری بات؛ اقبال کے نزدیک حسینیت نے ابراہیمی قربانی کے سچ کو اسی دوسری سطح پر واضح کیا۔

خلاصہ

اقبال کے مطابق امام حسین کی قربانی میں ابراہیم و اسماعیل کے راز کی مکمل شرح موجود ہے۔ جو حقیقت وہاں اجمال میں تھی، کربلا نے اسے امت کی تاریخ میں تفصیل کے ساتھ روشن کر دیا۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button