دست رنگین کن ز خون کوهسار
دست رنگین کن ز خون کوهسار
جوی آب گوهر از دریا برآر
ترجمہ
اپنے ہاتھ کو پہاڑ کے خون سے رنگین کر، اور سمندر سے گوہر بکھیرنے والی نہر نکال لا۔
تشریح
اس شعر میں اقبال پہاڑ اور دریا دونوں کو انسانی عمل کے میدان میں داخل کرتے ہیں۔ “خونِ کوهسار” ایک نہایت قوی استعارہ ہے۔ اس سے مراد پہاڑ کے اندر پوشیدہ معدنیات، قوتیں، دھاتیں، اور وہ سب ذخائر ہیں جو بظاہر ساکت چٹانوں میں چھپے ہوتے ہیں۔ اقبال کہتے ہیں: اپنا ہاتھ ان کے خون سے رنگین کرو۔ یعنی ان کے اندر اترو، ان کے راز کھولو، ان سے معدنی دولت، فنی قوت، اور تمدنی امکانات حاصل کرو۔ یہاں خون کسی ظلم کا استعارہ نہیں بلکہ اس باطنی حیات اور مادّی جوہر کا نشان ہے جو پہاڑ کے اندر پوشیدہ ہے۔
دوسرے مصرعے میں سمندر آتا ہے۔ “جوی آبِ گوهر” کی تعبیر بتاتی ہے کہ دریا محض پانی کا پھیلاؤ نہیں، گوہر افشاں امکان ہے۔ اقبال چاہتے ہیں کہ انسان سمندر سے نہریں، راستے، تجارت، دولت، توانائی، اور پوشیدہ خزانے برآمد کرے۔ گویا پہاڑ میں معدنی قوت ہے اور دریا میں سیال دولت۔ دونوں کو محض تماشا نہ رہنے دو؛ ان کے ساتھ فعال، تخلیقی اور محنت طلب رشتہ قائم کرو۔ یہ شعر فطرت کی عظمت کو سراہتے ہوئے بھی اسے انسانی عمل کا انتظار کرتی ہوئی امانت کے طور پر پیش کرتا ہے۔
خونِ کوهسار:
پہاڑ کا خون کہنا ظاہر کرتا ہے کہ چٹان مردہ نہیں؛ اس کے اندر بھی حیات کے وسائل پوشیدہ ہیں۔ دھاتیں، پتھر، ایندھن، معدنی نمک، اور فطرت کی بے شمار نعمتیں انہی پہاڑوں میں چھپی ہوتی ہیں۔ اقبال کا پیغام یہ ہے کہ تمہیں ہاتھ گندے کرنے ہوں گے، محنت کرنی ہوگی، کھدائی کرنی ہوگی، اور ان پوشیدہ ذخائر تک پہنچنا ہوگا۔
یہاں ایک نفسیاتی سبق بھی ہے۔ بلند پہاڑ کو دور سے دیکھنا آسان ہے، مگر اس کے اندر اتر کر اس کے راز نکالنا محنت مانگتا ہے۔ اقبال محض تماشائی نظر نہیں چاہتے، کارگر ہاتھ بھی چاہتے ہیں۔ یہی ہاتھ جب کوهسار کے “خون” سے رنگین ہوتا ہے تو وہ دراصل تعمیری عمل کی قیمت ادا کر رہا ہوتا ہے۔
دریا سے گوہر نکالنا:
سمندر ہمیشہ وسعت، گہرائی، تجارت، خطرہ اور پوشیدہ دولت کی علامت رہا ہے۔ “جوی آبِ گوهر” سے مراد ایسی نعمت اور ایسا استعمال ہے جو سمندر کو انسان کے لیے محض خوف ناک وسعت نہیں رہنے دیتا، بلکہ اس کے اندر سے فائدہ، خوب صورتی، اور تمدنی حرکت پیدا کرتا ہے۔
یہ تعبیر جدید مفہوم بھی رکھتی ہے: بندرگاہیں، آبی راستے، ماہی گیری، زیرِ آب وسائل، توانائی، اور ہر وہ تمدنی قوت جو سمندر سے مل سکتی ہے۔ اقبال اپنے قاری کو یوں سمجھاتے ہیں کہ قدرتی نعمتیں کھلی پڑی ہیں، مگر وہ صرف اس قوم کے سامنے کھلتی ہیں جو ان سے سوال کرنا اور محنت کے ساتھ ان کا جواب لینا جانتی ہو۔
قدرت سے تعمیری رشتہ:
اس شعر میں ایک اہم نکتہ یہ ہے کہ قدرت سے تعلق محض وجدانی یا جمالیاتی نہیں، تعمیری بھی ہونا چاہیے۔ پہاڑ اچھا لگے، دریا خوب صورت لگے، یہ کافی نہیں؛ ان کے اندر چھپے امکانات بھی دریافت ہونے چاہییں۔ اقبال اسی لیے انسان کو کوهسار اور دریا دونوں سے عمل طلبی کے ساتھ ملاتے ہیں۔
یہی رشتہ امت کی خود کفالت، وقار، اور توسیعِ حیات کا باعث بنتا ہے۔ جو قوم اپنے پہاڑوں اور اپنے دریاؤں سے بات کرنا سیکھ لے، وہ دوسروں کی دہلیز پر کم کھڑی ہوتی ہے۔
آج کے لیے سبق:
آج بھی بہت سی قومیں اپنے قدرتی وسائل کے بیچ بیٹھ کر دوسروں پر محتاج رہتی ہیں، کیونکہ ان کے پاس وسائل ضرور ہوتے ہیں مگر ان تک پہنچنے کا علم، نظم اور ارادہ کم ہوتا ہے۔ اقبال کا یہ شعر اسی بے حسی پر ضرب ہے۔ وہ کہتے ہیں: پہاڑ اور دریا تمہارے سامنے ہیں، ان کے اندر کے خزانے نکالو۔
یہ شعر امت کو محنت، صنعت، تحقیق اور وسائل کے بامقصد استعمال کی طرف بلاتا ہے۔ فطرت کی نعمتیں صرف تعریف کے لیے نہیں، تعمیر کے لیے بھی ہیں۔ اقبال کے نزدیک یہی وہ مرحلہ ہے جہاں شاعری تہذیبی پروگرام بن جاتی ہے۔
مثال
جیسے ایک ماہر کان کن پتھر میں صرف سختی نہیں بلکہ دھات بھی دیکھتا ہے، اور ایک ماہر ملاح پانی میں صرف موج نہیں بلکہ راستہ اور رزق بھی دیکھتا ہے، ویسے ہی زندہ قوم قدرت کے اندر چھپی دولت کو پہچانتی ہے۔
خلاصہ
اقبال اس شعر میں پہاڑ اور دریا کو انسان کی تعمیری محنت کا میدان بناتے ہیں۔ وہ سکھاتے ہیں کہ قدرتی وسائل کے باطن تک پہنچ کر ہی قومیں اپنے لیے واقعی دولت، قوت اور وسعت پیدا کرتی ہیں۔