رموز بے خودی

خیز و وا کن دیدهٔ مخمور را

خیز و وا کن دیدهٔ مخمور را

دون مخوان این عالم مجبور را

ترجمہ

اٹھ، اپنی مخمور آنکھ کھول، اور اس قانون بند عالم کو حقیر مت کہہ۔

تشریح

یہ شعر پچھلے شعر کا سیدھا تسلسل ہے، مگر اب لہجہ صرف تنبیہ کا نہیں بلکہ دعوتِ بیداری کا بھی ہے۔ “خیز” یعنی اٹھ، حرکت میں آ، سوئی ہوئی کیفیت چھوڑ۔ “دیدهٔ مخمور” سے مراد وہ نگاہ ہے جو نشہ آلود ہے، نیم خوابیدہ ہے، حقیقت کو دھندلا دیکھتی ہے، اور اشیا کے اصل مقام کو پہچاننے سے قاصر ہے۔ اقبال کہتے ہیں کہ اس آنکھ کو کھولو۔ کیونکہ جب تک نگاہ بیدار نہ ہو، آدمی یا تو عالمِ اسباب سے خوف کھاتا ہے، یا اسے حقیر سمجھ کر رد کر دیتا ہے۔ دونوں صورتوں میں وہ صحیح تعلق قائم نہیں کر پاتا۔

“عالمِ مجبور” سے مراد یہ کائنات ہے جو مقرر قوانین کے تحت چلتی ہے۔ سورج کا طلوع و غروب، موسموں کی گردش، اجسام کے خواص، اسباب و نتائج کا ربط، سب اس عالم کے جبری نظم کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ اقبال کہتے ہیں کہ اسے “دون” مت کہو۔ محض اس لیے کہ یہ دنیا قانون کے تابع ہے، یہ حقیر نہیں ہو جاتی۔ بلکہ اسی قانون مندی کی وجہ سے یہ تعلیم، تحقیق، پیش بینی، صنعت اور تسخیر کے قابل بنتی ہے۔ اگر کائنات بے قاعدہ ہوتی تو نہ علم ممکن ہوتا، نہ تمدن، نہ تعمیر۔

مخمور نگاہ:

مخمور آنکھ ہر شے کو اس کی اصل نسبت سے ہٹ کر دیکھتی ہے۔ وہ یا تو غیر ضروری تعظیم میں مبتلا ہو جاتی ہے یا غیر ضروری تحقیر میں۔ اقبال کے نزدیک مسلمان کی نگاہ کو نہ دنیا پر فریفتہ ہونا چاہیے اور نہ اس سے غافل۔ اسے ہوش میں ہونا چاہیے، تاکہ وہ چیزوں کو ان کے صحیح مقام پر رکھ سکے۔

یہی بیداری علم کی بنیاد ہے۔ جب نظر صاف ہوتی ہے تو انسان قانون پہچانتا ہے، نسبت سمجھتا ہے، اور پھر اس کے مطابق عمل کرتا ہے۔ دھندلی نظر یا افیونی ذہنیت یہ سارا ربط توڑ دیتی ہے۔

عالمِ مجبور کی قدر:

اقبال کا ایک بڑا نکتہ یہ ہے کہ قانون مندی حقارت کی نہیں، قابلیت کی علامت ہے۔ اس کائنات میں نظم ہے، تکرار ہے، ربط ہے، اسی لیے انسان اسے پڑھ سکتا ہے۔ اگر آگ ہمیشہ ایک جیسا اثر نہ رکھتی، پانی مستقل خاصیت نہ رکھتا، یا جسم اپنے قواعد کے مطابق نہ چلتے، تو انسانی علم اور عمل کی بنیاد ہی ختم ہو جاتی۔

لہٰذا یہ عالم مجبور ایک زندہ نعمت ہے۔ اس کے “مجبور” ہونے کا مطلب یہ ہے کہ وہ ایک الٰہی سنت کے تابع ہے۔ اقبال چاہتے ہیں کہ مسلمان اس سنت کو سمجھے، اس کے ساتھ کام کرے، اور اسے مقصدِ خیر میں لگائے۔

تحقیر سے تسخیر تک:

جب آدمی کسی شے کو حقیر سمجھتا ہے تو وہ اس سے سیکھنا چھوڑ دیتا ہے۔ جب وہ اس کی قدر پہچانتا ہے تو اس کے ساتھ صحیح رشتہ قائم ہوتا ہے۔ اقبال عالمِ مجبور کے بارے میں یہی تبدیلی چاہتے ہیں: تحقیر سے نکل کر تعلّم اور تسخیر کی طرف آؤ۔

یہاں “تسخیر” پھر وہی ذمہ دارانہ مفہوم رکھتی ہے۔ دنیا پر ظلم نہیں، دنیا کے قانون سے واقفیت؛ دنیا کی پرستش نہیں، دنیا کے امکانات کو مقصد کے تابع کرنا۔ یہی وہ متوازن رویہ ہے جسے اقبال بیدار کرنا چاہتے ہیں۔

آج کے لیے سبق:

آج بھی ہم کبھی دنیا کے نظام سے مرعوب ہو جاتے ہیں اور کبھی اسے حقیر کہہ کر نظر انداز کرتے ہیں۔ اقبال دونوں انتہاؤں کو رد کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں: ہوش میں آؤ، دیکھو، سمجھو، اور پھر اس عالم کے ساتھ وہ تعلق قائم کرو جو ایک ذمہ دار ملت کو زیب دیتا ہے۔

یہ شعر امت کو فکری توازن دیتا ہے۔ نہ بے جا دنیا پرستی، نہ بے جا دنیا گریزی؛ بلکہ بیدار آنکھ، قانون شناس عقل، اور فعال ہمت۔ اقبال کے نزدیک اسی سے مسلمان کی ملی زندگی پھیلتی اور مضبوط ہوتی ہے۔

مثال

جیسے ایک ماہر ملاح سمندر کے قوانین کو حقیر نہیں سمجھتا بلکہ انہی کو سمجھ کر سفر کرتا ہے، ویسے ہی بیدار انسان کائنات کے نظم کو جان کر آگے بڑھتا ہے۔

خلاصہ

اقبال اس شعر میں سکھاتے ہیں کہ قانون بند کائنات کو حقیر سمجھنا غفلت ہے۔ بیدار نگاہ اسے سمجھتی ہے، اس سے سیکھتی ہے، اور اسی کے ذریعے تعمیری قوت پیدا کرتی ہے۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button