عقدهٔ محسوس را اول گشود
عقدهٔ محسوس را اول گشود
همت از تسخیر موجود آزمود
ترجمہ
اس نے پہلے محسوس دنیا کی گرہ کھولی، اور اپنی ہمت کو موجودات کی تسخیر میں آزمایا۔
تشریح
اس شعر میں اقبال انسان کی ترقی کے ایک بنیادی اصول کی طرف اشارہ کرتے ہیں: بڑی ہمت پہلے محسوس دنیا کی گرہوں کو کھولتی ہے۔ “عقدۂ محسوس” سے مراد وہ الجھنیں، پوشیدہ قوانین، پیچیدہ روابط اور مادی دنیا کے راز ہیں جو بظاہر سامنے تو موجود ہوتے ہیں مگر اپنی حقیقت فوراً نہیں کھولتے۔ جو قوم یا فرد ان گرہوں کو کھولنے کا ذوق، صبر اور صلاحیت پیدا کر لیتا ہے، وہی آگے جا کر موجودات کی تسخیر کے قابل بنتا ہے۔ اقبال کے نزدیک تسخیر کوئی اندھی غلبہ طلبی نہیں، بلکہ کشف، فہم، ضبط اور ذمہ دارانہ تصرف کا نام ہے۔
“ہمت از تسخیر موجود آزمود” نہایت اہم جملہ ہے۔ اقبال بتاتے ہیں کہ ہمت محض دعوے یا جذبات میں نہیں پرکھی جاتی؛ اس کی اصل آزمائش اسی وقت ہوتی ہے جب وہ موجود کائنات کے مسائل، مزاحمتوں اور امکانات کے ساتھ برسرِ عمل ہو۔ جو ہمت صرف خیال میں بڑی ہو مگر دنیا کے پیچیدہ مادّی اور عملی میدان میں اترنے سے گھبرائے، وہ ابھی پختہ نہیں۔ پختہ ہمت وہ ہے جو اشیا کے ساتھ کام کرے، ان کے اندر اترے، ان کے قانون سمجھے، اور پھر انہیں مقصد کے تابع کرے۔
محسوس کی گرہ:
محسوس دنیا سطح پر سادہ معلوم ہو سکتی ہے، مگر اس کے باطن میں بے شمار گرهیں چھپی ہوتی ہیں۔ زمین، پانی، ہوا، جسم، قوت، حرکت، وقت، فاصلہ، بیماری، غذا، صنعت، زراعت، سفر، یہ سب میدان بظاہر سامنے ہیں مگر ان کے راز محنت کے بغیر نہیں کھلتے۔ اقبال چاہتے ہیں کہ مسلمان ان گرهوں سے ڈرے نہیں بلکہ انہیں اپنی فکری اور عملی تربیت کا میدان سمجھے۔
یہ گرہ کھولنا دراصل ایک تہذیبی عمل ہے۔ جب ایک قوم سوال اٹھانا، مشاہدہ کرنا، تجربہ کرنا، اور نتیجہ نکالنا سیکھتی ہے تو محسوس دنیا اس کے لیے خام دیوار نہیں رہتی؛ ایک قابلِ فہم کتاب بن جاتی ہے۔ اقبال اسی کتاب کو پڑھنے کی دعوت دے رہے ہیں۔
تسخیر بطور آزمائش:
اقبال کے نزدیک ہمت کا امتحان میدان میں ہوتا ہے۔ محض روحانی وجد، محض نعرہ، یا محض شکوہ انسان یا ملت کو بڑا نہیں بناتے۔ جب وہ موجودات کے عالم میں اتر کر مسئلہ حل کرتی ہے، نئی راہ نکالتی ہے، یا پوشیدہ قوت کو اپنے مقصد کے تابع لاتی ہے تب اس کی ہمت ناپی جاتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ اقبال “آزمود” کہتے ہیں۔ ہمت کو آزمانا یعنی اسے استعمال میں لانا، خطرے میں ڈالنا، ناکامی کے امکان کے باوجود کام میں لگانا۔ جو ہمت کبھی آزمائی ہی نہ جائے، وہ خود اپنے لیے بھی مشکوک رہتی ہے۔
موجودات کے ساتھ زندہ تعلق:
اقبال انسان کو دنیا سے کٹا ہوا نہیں دیکھنا چاہتے۔ ان کے نزدیک مومن کا ایک اہم وصف یہ ہے کہ وہ موجودات کے ساتھ زندہ، بیدار اور فعال تعلق رکھتا ہے۔ وہ کائنات سے خوف زدہ غلام کی طرح نہیں ملتا، بلکہ امانت دار نائب کی طرح۔ وہ پوچھتا ہے، دیکھتا ہے، سیکھتا ہے، اور پھر تعمیری عمل کرتا ہے۔
یہ تعلق نہ مادی پرستی ہے اور نہ بے عملی روحانیت۔ یہ ایک ایسا وسط ہے جس میں دنیا کو خدا کے سوا معبود نہیں بنایا جاتا، مگر اسے ترک بھی نہیں کیا جاتا۔ اسے سمجھا جاتا ہے، برتا جاتا ہے، اور خیر کے تابع کیا جاتا ہے۔
آج کے لیے سبق:
آج بہت سے مسلمان بڑے مقصد کی بات تو کرتے ہیں مگر محسوس دنیا کی گرہیں کھولنے کی محنت کم کرتے ہیں۔ ہم نتائج چاہتے ہیں مگر تحقیق کم، عزت چاہتے ہیں مگر صنعت کم، آزادی چاہتے ہیں مگر نظم اور مہارت کم۔ اقبال اس شعر میں پہلے ہی مرحلے پر ہمیں اصل امتحان دکھا دیتے ہیں: اگر ہمت ہے تو موجود دنیا کی گرهوں میں اتر کر دکھاؤ۔
یہ شعر ملت کو ایک سنجیدہ علمی اور عملی رویہ دیتا ہے۔ تسخیرِ موجود کا مطلب ہے دنیا سے بامقصد مشغولیت۔ جو قوم یہ مشغولیت اختیار کرے گی وہ وسعت پائے گی، اور جو اسے چھوڑ دے گی وہ دوسروں کی تسخیر کا میدان بن جائے گی۔ اقبال اسی پہلے زینے پر زور دیتے ہیں۔
مثال
جیسے ایک ماہر طبیب مرض کا راز سمجھے بغیر علاج نہیں کر سکتا، ویسے ہی کوئی قوم محسوس دنیا کی گرہیں کھولے بغیر اس پر تعمیری تصرف نہیں پا سکتی۔
خلاصہ
اقبال کے نزدیک سچی ہمت پہلے محسوس دنیا کے راز سمجھتی ہے، پھر موجودات کی تسخیر میں خود کو آزماتی ہے۔ ترقی کی بنیاد نعرہ نہیں، گره کشائی اور عملی تصرف ہے۔