تا بدست آورد نبض کائنات
تا بدست آورد نبض کائنات
وانمود اسرار تقویم حیات
ترجمہ
تاکہ اس نے کائنات کی نبض ہاتھ میں لے لی، اور زندگی کے صحیح نظام و توازن کے اسرار کھول کر دکھا دیے۔
تشریح
اس شعر میں اقبال نبوی علم کی جامعیت کو ایک نہایت بلند تعبیر میں سمیٹتے ہیں۔ پچھلے شعر میں انہوں نے رسولِ اکرم ﷺ کے کلام کی طہارت اور حق آشنائی بیان کی تھی، اور اب وہ بتاتے ہیں کہ اس پاک نبوی رہنمائی نے “نبضِ کائنات” کو پا لیا اور “تقویمِ حیات” کے اسرار واضح کر دیے۔ نبضِ کائنات سے مراد یہ ہے کہ وجود کی اصل حرکت، انسان کی اصل ضرورت، فطرت کا صحیح رخ، اور زندگی کے صحیح مرکز کو نبوی علم نے پہچان لیا۔ یہ کوئی سطحی یا جزوی حکمت نہیں، بلکہ حیات کی گہری تشخیص ہے۔
“تقویمِ حیات” میں توازن، تشکیل، ترتیب، اور صحیح قامت دینے کا مفہوم شامل ہے۔ اقبال کے نزدیک نبوت نے انسان کو صرف چند عبادتی احکام نہیں دیے، بلکہ پوری زندگی کو اس کے صحیح تناسب، صحیح اخلاقی میزان، صحیح مقصد، اور صحیح اجتماعی نظام کے ساتھ کھڑا کیا۔ گویا اس نے زندگی کی نبض بھی پہچانی اور اس کا علاج بھی بتایا؛ اس کا باطن بھی روشن کیا اور اس کے ظاہر کی ساخت بھی درست کی۔ یہی وجہ ہے کہ اقبال نبوی علم کو حیات کے کامل نظام کی کلید سمجھتے ہیں۔
نبضِ کائنات:
نبض پکڑنا کسی زندہ حقیقت کی اصل کیفیت کو سمجھنے کا استعارہ ہے۔ طبیب نبض سے جسم کے حال کا اندازہ کرتا ہے۔ اقبال کہتے ہیں کہ نبوی رہنمائی نے کائنات کی نبض پا لی، یعنی اس نے انسان، زمان، تاریخ، نفس، اخلاق، عبادت، سیاست، اجتماع اور فطرت سب کے بنیادی ربط کو درست طور پر سمجھایا۔ یہ دعویٰ عظیم ہے، مگر اقبال کے نزدیک نبوت کی جامعیت بھی اسی درجہ کی ہے۔
اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ نبوی علم سطحی علامتوں پر نہیں رکتا۔ وہ بیماری کی جڑ تک پہنچتا ہے، زندگی کے اصل مرکز کو متعین کرتا ہے، اور انسان کو اس کے رب اور اس کی فطرت دونوں سے آشنا کرتا ہے۔
تقویمِ حیات کا راز:
تقویم سے مراد سیدھی قامت، درست تناسب، اور مربوط بناوٹ ہے۔ زندگی اس وقت بگڑتی ہے جب اس کے اجزا کا تناسب بگڑ جائے: عقل خواہش کی خادمہ بن جائے، عبادت اخلاق سے کٹ جائے، علم مقصد سے دور ہو جائے، اور آزادی بندگی کے بغیر سرکشی بن جائے۔ نبوی پیغام ان بکھرے ہوئے اجزا کو پھر سے درست مقام دیتا ہے۔
اسی لیے اقبال اسے “اسرار” کہتے ہیں۔ زندگی کی درست ترتیب ہر ایک کو خود بخود سمجھ میں نہیں آتی۔ اسے وحی، نبوت، اور ربانی رہنمائی کے نور کی ضرورت ہوتی ہے۔ نبی ﷺ نے یہی اسرار کھول کر دکھائے۔
جامع رہنمائی:
یہ شعر امت کو یاد دلاتا ہے کہ اس کے پاس ایسا منبع موجود ہے جو جزوی نہیں، جامع ہے۔ اگر دین کو صرف عبادت کی چند شکلوں تک محدود کر دیا جائے تو تقویمِ حیات کا وسیع مفہوم گم ہو جاتا ہے۔ اقبال کے نزدیک نبوی علم انسان کے دل، عقل، اخلاق، معاشرت، سیاست، تہذیب اور تاریخ سب کے لیے روشنی رکھتا ہے۔
یہ جامعیت امت کے مشن کو بھی وسیع بناتی ہے۔ اسے صرف نجاتِ فرد تک محدود نہیں رہنا، بلکہ زندگی کے صحیح توازن کو دنیا کے سامنے پھر سے روشن کرنا ہے۔ اقبال یہی وسیع افق بحال کر رہے ہیں۔
آج کے لیے سبق:
آج کا انسان بڑی معلومات رکھتا ہے مگر زندگی کی صحیح ترتیب کھو دیتا ہے۔ اسے بہت کچھ معلوم ہوتا ہے، مگر کیا اہم ہے، کیا تابع ہے، کیا اصل ہے، اور کیا فرع ہے، یہ فرق دھندلا پڑ جاتا ہے۔ اقبال کا شعر ہمیں نبوی حکمت کی طرف بلاتا ہے، کیونکہ وہی نبضِ کائنات اور تقویمِ حیات کا راز کھولتی ہے۔
اگر امت اپنے علمی، اخلاقی اور اجتماعی بحرانوں کا اصل علاج چاہتی ہے تو اسے اسی منبع کی طرف لوٹنا ہوگا۔ نبوی تعلیم محض ماضی کی یادگار نہیں، زندگی کے صحیح نظام کی زندہ کلید ہے۔ اقبال اسی رجوع کو مسلمانوں کی بقا اور اثر آفرینی کے لیے ضروری سمجھتے ہیں۔
مثال
جیسے ایک ماہر طبیب صرف مرض کا نام نہیں بتاتا بلکہ جسم کے پورے نظام کا توازن بھی سمجھاتا ہے، ویسے ہی نبوی رہنمائی نے زندگی کے پورے نظام کی درست ترتیب واضح کی۔
خلاصہ
اقبال اس شعر میں نبوی علم کی جامعیت بیان کرتے ہیں۔ اس نے کائنات کی نبض کو پہچانا اور زندگی کے صحیح توازن، مقصد اور نظام کے راز انسان کے سامنے روشن کر دیے۔
