نکته سنجان را صلای عام ده
نکته سنجان را صلای عام ده
از علوم امئی پیغام ده
ترجمہ
اہلِ نکتہ و فکر کو عام پکار دے، اور علومِ اُمّی سے انہیں پیغام پہنچا۔
تشریح
اس شعر میں اقبال امت کو دعوتی اور فکری منصب کی طرف متوجہ کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ “نکته سنجان” یعنی غور و فکر کرنے والوں، معنی کے جویاؤں، عقل رکھنے والوں، اور باریک حقیقتوں کو پرکھنے والوں کو عام پکار دو۔ یہ بہت اہم بات ہے، کیونکہ اقبال دین کو محض عوامی جذبات کے درجے پر محدود نہیں رکھتے۔ ان کے نزدیک اسلام، اور خاص طور پر توحید کا پیغام، فکر و شعور کے اہل لوگوں کے لیے بھی ہے۔ اسے چھپانے، محدود کرنے یا صرف وراثتی دائروں میں رکھنے کے بجائے عام دعوت کی صورت میں پیش کرنا چاہیے۔
پھر وہ کہتے ہیں: “از علوم امئی پیغام ده”۔ یہاں “علومِ امئی” سے مراد نبیِ اکرم ﷺ کی وہ نبوی حکمت اور علم ہے جو رسمی مکتبی ذرائع سے نہیں، وحی اور الٰہی تربیت سے حاصل ہوا۔ اقبال اس لفظ کے ذریعے امت کو یاد دلاتے ہیں کہ تمہارے پاس صرف روایتی معلومات نہیں، ایک ایسے رسول ﷺ کی تعلیمات ہیں جن کی اُمّیت خود ایک معجزہ بنی، اور جن کے ذریعے انسانیت کو علم، عدل، بندگی، تہذیب اور حیات کا نیا شعور ملا۔ اب یہ امت کی ذمہ داری ہے کہ اس پیغام کو اہلِ فکر تک بھی پہنچائے۔
نکته سنج کون ہیں:
نکتہ سنج وہ لوگ ہیں جو بات کی تہہ تک جاتے ہیں، جو معنی کے لطائف کو سمجھنا چاہتے ہیں، اور جو سطحی الفاظ پر قناعت نہیں کرتے۔ اقبال جانتے تھے کہ جدید دور میں ذہن سوال کرتا ہے، پرکھتا ہے، اور دلیل چاہتا ہے۔ اس لیے وہ امت سے کہتے ہیں کہ ان لوگوں سے بھاگو نہیں، انہیں پکارو۔ دین کا پیغام ان کے لیے بھی ہے۔
یہ بات بڑی حکمت کی ہے، کیونکہ بہت سے دینی حلقے باریک سوالات سے گھبرا جاتے ہیں۔ اقبال اس کے برعکس اعتماد دیتے ہیں: تمہارے پاس ایسا پیغام ہے جو فکر کی گہرائیوں کا بھی جواب دے سکتا ہے، بشرطیکہ تم اسے شعوری انداز میں پہنچاؤ۔
علومِ اُمّی کا مقام:
رسولِ اکرم ﷺ کی اُمّیت کا مطلب علمی کم مائیگی نہیں بلکہ وحی کی خالص نسبت ہے۔ آپ ﷺ کا علم انسانی اخذ، فلسفیانہ قیاس یا درسی نظام کی پیداوار نہیں، بلکہ ربانی ہدایت سے روشن تھا۔ اقبال اس کو “علومِ امئی” کہہ کر یہ دکھاتے ہیں کہ اصل علم وہ ہے جو انسان کو اس کے رب، اس کے مقصد، اس کی اخلاقی ذمہ داری، اور اس کی اجتماعی حیات کے صحیح توازن سے آشنا کرے۔
یہ علوم محض عبادات کی تفصیل نہیں، زندگی کی تعبیر بھی ہیں۔ اسی لیے اقبال ان سے “پیغام” دینے کی بات کرتے ہیں۔ یعنی امت کو نبوی علم کو زندہ، مربوط، اور عصر فہم انداز میں پیش کرنا ہوگا۔
عام صدا کی ضرورت:
“صلای عام” کا مطلب یہ ہے کہ دعوت محدود گروہوں تک نہ رہے۔ جو حقیقت انسانیت کے لیے نازل ہوئی ہے، اس کی دعوت بھی کشادہ ہونی چاہیے۔ یہاں عام ہونے کا مطلب سطحی ہونا نہیں، بلکہ دروازہ کھلا رکھنا ہے۔ اہلِ علم، اہلِ فکر، نوجوان، سوال کرنے والے، اور تہذیبی الجھن میں مبتلا لوگ، سب اس صدا کے مخاطب ہیں۔
اقبال امت سے دراصل فکری جرأت کا مطالبہ کرتے ہیں۔ تمہارا دین اگر حق ہے تو اسے خوف زدہ دائرے میں بند نہ رکھو۔ اسے کھلے میدان میں لاؤ، دلیل کے ساتھ، سوز کے ساتھ، اور نبوی علم کی روشنی کے ساتھ۔
آج کے لیے سبق:
آج بہت سے پڑھے لکھے اور غور و فکر کرنے والے افراد مذہبی خطاب سے اس لیے دور رہ جاتے ہیں کہ انہیں یا تو سطحی وعظ ملتا ہے یا سوال کی گنجائش نہیں دی جاتی۔ اقبال کا یہ شعر اس رویے کی اصلاح کرتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اہلِ نکتہ کو پکارو، انہیں نبوی علم کا پیغام دو، اور دین کو ایسا زندہ، معقول اور بامعنی بنا کر پیش کرو کہ دل اور عقل دونوں اس سے روشنی پائیں۔
یہ شعر امت کے فکری مشن کا خلاصہ بھی ہے۔ اگر وہ واقعی شہادتِ حق کی امین ہے تو اسے جدید ذہن، باریک فکر، اور علمی سوالات سے بھاگنے کے بجائے ان کے سامنے اعتماد کے ساتھ کھڑا ہونا ہوگا۔ اقبال اسی اعتماد، وسعت اور نبوی نسبت کی طرف رہنمائی کرتے ہیں۔
مثال
جیسے ایک اچھا معلم مشکل سوالات والے طالب علموں سے گھبرانے کے بجائے ان کے لیے دروازہ کھولتا ہے، ویسے ہی امت کو بھی اہلِ فکر کے لیے نبوی علم کی دعوت عام کرنی چاہیے۔
خلاصہ
اقبال اس شعر میں امت کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اہلِ فکر اور اہلِ نکتہ تک بھی نبوی علم کا پیغام پہنچائے۔ دین کی دعوت محدود نہیں، عام ہونی چاہیے، اور اس کی بنیاد علومِ نبویہ کی زندہ حکمت پر ہونی چاہیے۔