رموز بے خودی

مدعا راز بقای زندگی

مدعا راز بقای زندگی

جمع سیماب قوای زندگی

ترجمہ

مدعا زندگی کی بقا کا راز ہے، اور زندگی کی بکھری ہوئی قوتوں کو پارے کی طرح جمع کر دینے والا مرکز ہے۔

تشریح

اس شعر میں اقبال مدعا کی حیثیت کو اور زیادہ بنیادی سطح پر لے جاتے ہیں۔ پچھلے شعر میں انہوں نے بتایا تھا کہ مدعا مهمیز بن جائے تو زندگی تیز رفتار ہو جاتی ہے، اور یہاں وہ کہتے ہیں کہ مدعا خود زندگی کی بقا کا راز ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مقصد صرف کامیابی یا تیزی کے لیے ضروری نہیں، بلکہ زندگی کے قائم رہنے، بامعنی رہنے، اور اپنی وحدت محفوظ رکھنے کے لیے بھی ناگزیر ہے۔ کوئی فرد ہو یا ملت، اگر اس کے پاس واضح مدعا نہ ہو تو اس کی قوتیں بکھر جاتی ہیں، اس کی حرکت عارضی رہتی ہے، اور اس کی روح میں دیرپا استقامت پیدا نہیں ہوتی۔

“جمع سیماب قوای زندگی” نہایت معنی خیز ترکیب ہے۔ سیماب یعنی پارا، جو منتشر، بے قرار اور پکڑ میں مشکل ہوتا ہے۔ اقبال قوتِ حیات کو پارے سے تشبیہ دے کر یہ بتاتے ہیں کہ زندگی کی صلاحیتیں فطری طور پر متحرک، بے چین اور مختلف جہتوں میں پھیلنے والی ہوتی ہیں۔ مدعا ان قوتوں کو اکٹھا کرتا ہے۔ یعنی مقصد وہ مرکز بنتا ہے جو خواہش، فکر، محنت، شوق، قربانی اور تدبیر سب کو ایک رخ دے دیتا ہے۔ اگر یہ مرکز نہ ہو تو پارہ بکھرا رہتا ہے؛ اگر ہو تو اس بے قراری کو بھی ایک معنی خیز ترکیب میں بدلا جا سکتا ہے۔

بقا کا راز:

بقا محض زندہ بچ جانے کا نام نہیں۔ اقبال کے نزدیک بقا کا مطلب یہ ہے کہ زندگی اپنی اصل شان، اپنی داخلی وحدت، اور اپنی تخلیقی قوت کے ساتھ قائم رہے۔ کوئی قوم ظاہراً موجود ہو سکتی ہے مگر اگر اس کا مقصد مر جائے تو اس کی بقا سطحی رہ جاتی ہے۔ مدعا اسی لیے رازِ بقا ہے کہ وہ زندگی کو صرف باقی نہیں رکھتا بلکہ اسے معنی کے ساتھ قائم رکھتا ہے۔

یہاں راز کا لفظ بھی اہم ہے۔ اقبال گویا کہہ رہے ہیں کہ لوگوں کو بقا کے ظاہری اسباب تو نظر آتے ہیں، مگر اصل راز گہرا ہے: وہ مقصد جو باطن کو یکجا رکھتا ہے۔

سیماب کی بے قراری:

پارا ہاتھ میں آ کر بھی بکھر جاتا ہے، ایک جگہ ٹکتا نہیں، اور چھوٹے چھوٹے قطروں میں تقسیم ہو جاتا ہے۔ اقبال اس مثال سے بتاتے ہیں کہ انسان کی قوتیں بھی اگر بے مقصد ہوں تو کچھ ایسی ہی حالت اختیار کرتی ہیں۔ عقل ایک طرف، خواہش دوسری طرف، محنت تیسری طرف، خوف چوتھی طرف، اور عشق پانچویں طرف نکل جاتا ہے۔

جب مدعا واضح ہو تو یہی بے قراری بیکار نہیں رہتی۔ پارے جیسے منتشر اجزا ایک مرکز کے تحت معنی پانے لگتے ہیں۔ یوں قوتیں ضائع ہونے کے بجائے تعمیر کی خدمت کرنے لگتی ہیں۔

مرکزیت کی ضرورت:

یہ شعر پچھلی بخش کے پیغام سے بھی خوب جڑتا ہے۔ وہاں اقبال نے محسوس مرکز کی ضرورت بتائی تھی، اور یہاں وہ باطنی مرکز یعنی مدعا کی ضرورت بتا رہے ہیں۔ محسوس مرکز رخ دیتا ہے، اور مدعا قوتوں کو جمع کرتا ہے۔ دونوں کے بغیر ملت کی حیات مکمل نہیں۔ اسی لیے امتِ محمدیہ کے لیے بیت الحرام محض جغرافیہ نہیں، توحید کے نصب العین کا محسوس مرکز ہے۔

یہی ربط فرد پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ اگر انسان کے پاس واضح مرکز اور واضح مقصد دونوں نہ ہوں تو وہ بہت کچھ چاہ کر بھی اندر سے منتشر رہتا ہے۔ اقبال انتشار کی اس جڑ کا علاج بتاتے ہیں۔

آج کے لیے سبق:

آج مسلمانوں کی بہت سی قوتیں موجود ہیں: آبادی، تاریخ، جذبہ، علمی ورثہ، نوجوانی، وسائل، اور تہذیبی امکانات۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا یہ سب ایک واضح مدعا کے تحت جمع ہیں؟ اگر نہیں، تو یہی قوتیں پارے کی مانند بکھرتی رہیں گی۔ اقبال اس شعر میں ایک سخت مگر امید بھرا اصول دیتے ہیں: بقا کی کلید قوت کی کثرت نہیں، مقصد کی وحدت ہے۔

اس لیے ہمیں اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں یہ دیکھنا ہوگا کہ کون سا مقصد ہماری قوتوں کو اکٹھا کرتا ہے۔ اگر وہ مقصد زندہ ہو جائے تو بکھرا ہوا ذخیرہ پھر سے سرمایہ بن سکتا ہے۔ اقبال اسی مرکزِ حیات کی طرف بلا رہے ہیں۔

مثال

جیسے مقناطیس لوہے کے منتشر برادے کو ایک سمت میں جمع کر دیتا ہے، ویسے ہی سچا مدعا زندگی کی بکھری ہوئی قوتوں کو ایک مؤثر نظام میں بدل دیتا ہے۔

خلاصہ

اقبال اس شعر میں مدعا کو زندگی کی بقا اور اس کی منتشر قوتوں کی مرکزیت کا راز قرار دیتے ہیں۔ واضح مقصد کے بغیر صلاحیتیں بکھر جاتی ہیں، اور مقصد کے ساتھ وہی صلاحیتیں زندگی کی تعمیر بن جاتی ہیں۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button