سیر او را تا سکون بیند نظر
سیر او را تا سکون بیند نظر
موج جویش بسته آمد در گهر
ترجمہ
جب نگاہ اس کی گردش کو سکون سمجھتی ہے تو اس کی نہر کی موج گوہر کے اندر بند دکھائی دیتی ہے۔
تشریح
اس شعر میں اقبال حیات کے ایک نہایت نازک راز کو تمثیل کے ذریعے بیان کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ جب نظر زندگی کے سفر کو سکون سمجھ بیٹھتی ہے تو اس کی جوی کی موج گوہر کے اندر بند نظر آتی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ زندگی کی اصل حرکت ہمیشہ سطح پر شور کی صورت میں ظاہر نہیں ہوتی۔ بہت سی جگہوں پر وہ اپنے آپ کو ایسی شکلوں میں سمیٹ لیتی ہے جو بظاہر ساکن دکھائی دیتی ہیں، مگر ان کے باطن میں ایک عمیق حرکت جاری ہوتی ہے۔ گوہر کو دیکھنے والا اسے ٹھوس، خاموش اور ساکن چیز سمجھتا ہے، مگر اقبال یاد دلاتے ہیں کہ یہ گوہر دراصل یم اور موج کی ایک فشردہ تاریخ رکھتا ہے۔ گویا حیات کبھی اپنی دوڑ کو ایک ایسے لطیف جوہر میں بند کر دیتی ہے جس کے اندر سکون کی صورت میں حرکت پوشیدہ ہوتی ہے۔
یہ شعر پچھلے مباحث سے خوب جڑتا ہے۔ اقبال پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ حیات اصل میں رم، حرکت اور تجاوز کا نام ہے۔ اب وہ ایک نئی مشکل حل کرتے ہیں: اگر زندگی ہمیشہ متحرک ہے تو پھر دنیا میں ہمیں اتنا سکون، ٹھہراؤ اور جمود کیوں دکھائی دیتا ہے؟ جواب یہ ہے کہ ہر سکون حقیقتاً موت نہیں ہوتا۔ بعض اوقات وہ زندگی کی حرکت کا فشردہ، مرکوز اور پوشیدہ مرحلہ ہوتا ہے۔ جیسے بیج بظاہر خاموش دکھتا ہے مگر اس کے اندر درخت کی پوری تقدیر چھپی ہوتی ہے، ویسے ہی گوہر بظاہر ساکن ہے مگر اس میں موج کی ایک بند تاریخ بول رہی ہوتی ہے۔ اقبال اس سے یہ سکھاتے ہیں کہ ظاہر کے سکون پر فریب نہ کھاؤ، اس کے باطن میں حرکت بھی ہو سکتی ہے۔
سکونِ ظاہری اور حرکتِ باطنی:
اقبال کے نزدیک سکون دو طرح کا ہو سکتا ہے۔ ایک وہ جو واقعی جمود، کمزوری یا موت کی علامت ہو۔ دوسرا وہ جو اندرونی حرکت کے جمع ہو جانے، سمیٹ لینے، اور ایک نئی صورت اختیار کرنے کا مرحلہ ہو۔ اس شعر میں دوسرا پہلو سامنے آتا ہے۔ نظر جب سطحی ہو تو وہ ہر ٹھہری ہوئی چیز کو بے جان سمجھتی ہے۔ مگر بصیرت رکھنے والی نظر جانتی ہے کہ کبھی کبھی زندگی اپنی قوت کو ایک مرکوز صورت میں محفوظ بھی کرتی ہے۔
گوہر اسی حقیقت کی بہترین مثال ہے۔ اس میں شور نہیں، مگر قیمت ہے۔ اس میں تیزی سے دوڑتی موج نظر نہیں آتی، مگر موج کی تاریخ موجود ہے۔ اس لیے اقبال ہمیں دیکھنے کا نیا طریقہ سکھاتے ہیں: چیزوں کو صرف ان کی سطح سے نہ پرکھو۔ بعض اوقات خاموشی کے اندر ایک پوری طوفانی کہانی بند ہوتی ہے۔
موج کا گوہر بن جانا:
موج عام طور پر روان، منتشر اور سطحی حرکت کی علامت ہوتی ہے، جبکہ گوہر جمع، قیمتی اور مرکز یافتہ صورت کی علامت ہے۔ جب اقبال کہتے ہیں کہ موج جویش گوہر میں بند آتی ہے تو وہ دراصل زندگی کے ارتقا کا ایک مرحلہ دکھاتے ہیں۔ یعنی محض حرکت کافی نہیں، حرکت کو کبھی کبھی قدر میں بدلنا بھی ہوتا ہے۔ ہر دوڑ قیمت نہیں بنتی، مگر وہ دوڑ جو گہرائی پا لے، ضبط اختیار کرے، اور صحیح نسبت میں سمیٹ جائے، وہ گوہر بن سکتی ہے۔
یہ بات فردی سیرت پر بھی صادق آتی ہے۔ انسان کی بے سمت سرگرمی موج کی طرح ہے، مگر جب یہی زندگی مقصد، ضبط اور باطنی وحدت پا لیتی ہے تو اس کے اندر گوہری کیفیت پیدا ہوتی ہے۔ امت کی تاریخ میں بھی یہی قانون کام کرتا ہے۔ پھیلی ہوئی قوت کو کسی مقام پر جمع ہو کر قیمتی صورت اختیار کرنی ہوتی ہے، ورنہ وہ محض موج رہ جاتی ہے۔
نظر کی اصلاح:
شعر کا پہلا مصرع “تا سکون بیند نظر” کہہ کر اصل ذمہ داری نگاہ پر ڈالتا ہے۔ مسئلہ صرف حقیقت کا نہیں، دیکھنے والے کے ادراک کا بھی ہے۔ اگر نظر تربیت یافتہ نہ ہو تو وہ گوہر کو صرف سکون سمجھے گی اور اس میں بند موج کو نہ پہچان سکے گی۔ اقبال کی پوری شاعری اسی نظر سازی کا کام کرتی ہے۔ وہ انسان کو باطن بین بنانا چاہتے ہیں، تاکہ وہ تاریخ، شخصیت، عبادت، تہذیب اور ملت کے ظاہری سکون کے پیچھے چھپی ہوئی حرکت کو محسوس کر سکے۔
اس کا ایک اور مطلب یہ بھی ہے کہ آدمی اپنے آپ کو بھی غلط سمجھ سکتا ہے۔ کبھی وہ اپنی خاموشی کو موت سمجھ لیتا ہے، حالانکہ شاید اس کے اندر کوئی نئی صورت بن رہی ہوتی ہے۔ کبھی وہ اپنے صبر کو بے اثری سمجھتا ہے، مگر وہی صبر گوہر کی تیاری بھی ہو سکتا ہے۔ اقبال کی نظر امید کی نظر ہے، مگر اندھی تسلی نہیں۔ وہ سکون کے اندر پوشیدہ حرکت دکھاتے ہیں۔
آج کے لیے سبق:
آج کے زمانے میں ہم حرکت کو شور، نمود اور فوری تبدیلی سے پہچانتے ہیں۔ جو چیز خاموش ہو، ہم اسے مردہ سمجھ لیتے ہیں۔ اقبال اس شعر میں بتاتے ہیں کہ زندگی کی بعض سب سے قیمتی تبدیلیاں خاموشی میں، گہرائی میں، اور سمیٹے ہوئے مرحلوں میں پیدا ہوتی ہیں۔ ایک طالب علم کی پختگی، ایک عالم کی بصیرت، ایک ملت کی جمعی شعور، ایک مومن کی باطنی اصلاح یہ سب ہمیشہ شور سے نہیں بڑھتے۔ بعض اوقات وہ گوہر کی طرح خاموش مگر قیمتی بنتے ہیں۔
یہ شعر جلد باز نگاہ کی اصلاح کرتا ہے۔ ہمیں اپنے اندر بھی اور اپنی ملت میں بھی دیکھنا چاہیے کہ کہاں موج ابھی صرف سطح پر ہے اور کہاں وہ گوہر میں بدل رہی ہے۔ اگر ہم ہر سکون کو موت سمجھ لیں گے تو ہم بہت سی خاموش برکتوں سے محروم رہیں گے۔ اور اگر ہر سکون کو زندگی سمجھ لیں گے تو ہم جمود کا شکار ہو جائیں گے۔ بصیرت یہی ہے کہ ہم دونوں میں فرق کر سکیں۔
مثال
جیسے ایک بیج مٹی میں پڑا ہوا بظاہر بے حرکت دکھائی دیتا ہے مگر اس کے اندر جڑ، تنا اور پھل کا پورا سفر پوشیدہ ہوتا ہے، ویسے ہی بعض سکون کے اندر زندگی کی عمیق حرکت بند ہوتی ہے۔
خلاصہ
اقبال اس شعر میں بتاتے ہیں کہ زندگی کی حرکت کبھی کبھی سکون کی صورت میں بھی ظاہر ہوتی ہے۔ گوہر بظاہر ساکن ہے مگر اس کے اندر موج کی تاریخ بند ہے، اس لیے ظاہر کے سکون سے فریب نہیں کھانا چاہیے۔