در جهان روشن تر از خورشید شو
در جهان روشن تر از خورشید شو
صاحب تابانی جاوید شو
ترجمہ
دنیا میں سورج سے بھی زیادہ روشن ہو جا، اور ایسی چمک کا مالک بن جو ہمیشہ باقی رہے۔
تشریح
یہ شعر اس پورے تسلسل کا نہایت بلند اور حوصلہ افزا اختتام معلوم ہوتا ہے۔ قطرہ، شبنم، غنچہ، یم، گوہر اور نبوی قلزم کے بعد اب اقبال ایک عظیم نتیجہ سامنے رکھتے ہیں: دنیا میں سورج سے زیادہ روشن ہو جا، اور جاوید تابانی کا مالک بن جا۔ بظاہر یہ مبالغہ محسوس ہو سکتا ہے، مگر اقبال کے ہاں یہ روحانی، اخلاقی اور تہذیبی امکان کا بیان ہے۔ وہ جسمانی روشنی کی بات نہیں کر رہے، بلکہ ایسی سیرت، ایسے کردار، ایسی خودی، اور ایسی نسبت کی بات کر رہے ہیں جو زمانے کی ظلمتوں میں روشنی کا سرچشمہ بن جائے۔ سورج روشنی دیتا ہے مگر ڈھلتا بھی ہے؛ اقبال انسان کو ایسی تابانی کی طرف بلا رہے ہیں جس میں دوام ہو۔
یہ شعر صرف فرد کی تعریف نہیں، اس کی ذمہ داری بھی بڑھاتا ہے۔ اگر مسلمان کی طینت گوہر ہے، اس کی آب و تاب یمِ پیغمبر سے ہے، اور وہ صحیح قلزم سے گوہر بن کر نکل سکتا ہے، تو پھر اس کا مقام صرف اپنی ذاتی نجات یا محدود چمک تک نہیں رہتا۔ اسے دنیا کے لیے نور بننا ہے۔ اقبال کے نزدیک ایمان، نسبت اور خودی کا آخری کمال یہی ہے کہ وہ انسان کو ایسا روشن کرے کہ اس کا وجود دوسروں کے لیے سمت، امید، وقار اور حیات کا ذریعہ بن جائے۔
خورشید سے زیادہ روشن:
سورج ظاہری کائنات میں سب سے بڑا روشن استعارہ ہے، اس لیے اقبال اسی کا ذکر کرتے ہیں۔ مگر وہ اس سے “روشن تر” ہونے کی بات کرتے ہیں، کیونکہ انسانی روحانی نور کی نوعیت مختلف ہے۔ سورج جسموں کو روشنی دیتا ہے، مگر کامل سیرت دلوں کو روشن کر سکتی ہے۔ سورج دن کو روشن کرتا ہے، مگر اخلاقی اور نبوی نور تاریکی کے اندر بھی سمت دے سکتا ہے۔ سورج ایک خطے پر چمکتا ہے، مگر سچا کردار زمانوں پر اثر ڈال سکتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ اقبال مسلمان کو پست ہمت دعوے نہیں سکھاتے۔ وہ اس کے سامنے بڑا معیار رکھتے ہیں۔ اگر وہ اپنے اندر کے گوہر کو یمِ پیغمبر سے سیراب کر لے تو اس کی روشنی محض ذاتی وقار تک محدود نہیں رہے گی بلکہ وہ ایک تہذیبی اور انسانی خدمت بن سکتی ہے۔
تابانی جاوید کیا ہے:
“تابانی جاوید” سے مراد ایسی روشنی ہے جو وقتی نہ ہو۔ دنیا میں بہت سی چمکیں جلدی آتی اور بجھ جاتی ہیں: اقتدار کی چمک، شہرت کی چمک، جوانی کی چمک، بازار کی چمک۔ اقبال ان سب سے آگے ایک جاوید تابانی کی بات کرتے ہیں، جو اصل میں حق سے نسبت، سیرت کی صداقت، اور خیر کے پائیدار اثر سے پیدا ہوتی ہے۔ ایسی روشنی انسان کے مرنے کے بعد بھی باقی رہتی ہے، کیونکہ وہ صرف جسم یا نام کی روشنی نہیں، اثر کی روشنی ہوتی ہے۔
یہاں اقبال وقت کے تصور کو بھی بدل دیتے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ انسان اپنے لیے ایسی زندگی بنائے جو لمحاتی کامیابی پر نہ رکے بلکہ دوام کے معیار سے جُڑی ہو۔ یہی وجہ ہے کہ جاوید تابانی صرف اخلاقی خوبی نہیں، روحانی حکمت بھی ہے۔
روشنی کی ذمہ داری:
روشن ہونا محض نعمت نہیں، امانت بھی ہے۔ جو زیادہ روشن ہو وہ زیادہ نمایاں بھی ہوتا ہے، اس لیے اس کی لغزش بھی زیادہ اثر رکھتی ہے اور اس کی درستگی بھی۔ اقبال جب یہ عظیم مقام پیش کرتے ہیں تو اس کے پیچھے یہ تقاضا بھی موجود ہے کہ مسلمان اپنی روشنی کو خود غرضی، غرور یا محض نمائش میں نہ بدلے۔ روشنی کا مقصد جلوا نہیں، رہنمائی ہے؛ بلندی کا مقصد تفاخر نہیں، خدمت ہے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں سیرت، نسبت اور خودی ایک دوسرے میں ملتے ہیں۔ جو شخص یمِ پیغمبر سے تابانی پاتا ہے وہ دوسروں کو جلاتا نہیں، روشن کرتا ہے۔ اس کی موجودگی میں انسانیت، عدل، رحمت اور حیا کو تقویت ملتی ہے۔ یہی اقبال کی مطلوب روشنی ہے۔
آج کے لیے سبق:
آج دنیا بہت سی مصنوعی روشنیوں سے بھری ہوئی ہے: اسکرینوں کی روشنی، اشتہاروں کی روشنی، شہرت کی روشنی، اور وقتی کامیابیوں کی چکاچوند۔ مگر ان سب کے باوجود معنوی تاریکی بھی کم نہیں ہوئی۔ اقبال ایسے زمانے ہی کے لیے کہتے معلوم ہوتے ہیں کہ سورج سے زیادہ روشن ہو جاؤ، یعنی ایسی روشنی پیدا کرو جو دلوں، کرداروں اور راستوں کو روشن کرے۔ ہمیں اپنی زندگی میں یہ دیکھنا ہوگا کہ ہم کس قسم کی روشنی کے پیچھے ہیں: وقتی چمک یا جاوید تابانی؟
یہ شعر بند دروازہ نہیں، عظیم امید ہے۔ اقبال انسان کو اس کی حقیقی بلندی یاد دلاتے ہیں۔ اگر وہ اپنی طینت کو پہچانے، نبوی دریا سے جڑے، گوہر بن کر ابھرے، اور اپنی روشنی کو خدمت میں بدلے، تو وہ واقعی دنیا میں ایسی تابانی لا سکتا ہے جو محض نظر نہیں، نسلوں کو اثر دے۔ یہی جاوید روشنی ہے، اور یہی اس پورے سلسلے کا کمال۔
مثال
جیسے ایک سچا چراغ رات کے ایک کمرے ہی کو نہیں، آنے جانے والوں کے راستے کو بھی معنی دیتا ہے، ویسے ہی جاوید تابانی والا انسان صرف خود نہیں چمکتا بلکہ دوسروں کے لیے بھی راہ بن جاتا ہے۔
خلاصہ
اقبال اس شعر میں مسلم شخصیت کے کمال کو جاوید روشنی کی صورت میں پیش کرتے ہیں۔ نبوی نسبت سے سنور کر انسان ایسی تابانی پا سکتا ہے جو سورج کی وقتی روشنی سے بڑھ کر دلوں اور زمانوں کو روشن کرے۔