قطره ی نیسان که مهجور از یم است
قطره ی نیسان که مهجور از یم است
نذر خاشاکی مثال شبنم است
ترجمہ
نیسان کا وہ قطرہ جو سمندر سے جدا اور محروم ہے، شبنم کی طرح آخرکار خس و خاشاک کے سپرد ہو جاتا ہے۔
تشریح
یہ شعر پچھلے شعر کے بالمقابل ایک دردناک حقیقت بیان کرتا ہے۔ اگر قطرہ صحیح یم سے جڑ جائے تو گوہر بن سکتا ہے، لیکن اگر وہ یم سے مہجور رہے تو اس کی تقدیر شبنم کی طرح خس و خاشاک پر بکھر جانا رہ جاتی ہے۔ اقبال یہاں “مہجور” کا لفظ لا کر محض فاصلہ نہیں، محرومی اور جدائی کا درد بھی شامل کر دیتے ہیں۔ اصل مسئلہ یہ نہیں کہ قطرہ چھوٹا ہے؛ مسئلہ یہ ہے کہ وہ اپنے اصل منبع سے کٹا ہوا ہے۔ جب نسبت ٹوٹتی ہے تو لطافت بھی ضائع ہو سکتی ہے، اور قیمت بھی۔
نیسان کا قطرہ اپنی اصل میں پاک، لطیف اور زندگی بخش ہے۔ مگر اگر اسے وہ گہرائی اور وہ منبع نہ ملے جہاں وہ اپنی قیمت پوری کر سکے تو وہ وقتی شبنم بن کر ایسے خس و خاشاک پر جا بیٹھتا ہے جس میں نہ دوام ہے نہ معنویت۔ اقبال اس تمثیل سے انسان اور امت دونوں کو خبردار کرتے ہیں کہ محض صلاحیت کافی نہیں، اصل نسبت بھی چاہیے۔ ورنہ وہ قوتیں جو گوہر بن سکتی تھیں، وقتی چمک کے بعد ضائع بھی ہو سکتی ہیں۔
مہجوری کا درد:
“مہجور” محض الگ ہونے کا لفظ نہیں بلکہ ویرانی، تنہائی اور محرومی کا احساس لیے ہوئے ہے۔ یہ بتاتا ہے کہ اپنے اصل یم سے دوری کوئی غیر جانب دار حالت نہیں۔ انسان اگر اپنے اصل منبع، اپنے نبوی مرکز، اپنے صالح ماحول، یا اپنی روحانی نسبت سے کٹ جائے تو وہ صرف غیر متعلق نہیں ہوتا، اندر سے محروم بھی ہونے لگتا ہے۔ اقبال کا یہ درد اسی لیے شدید ہے کہ وہ جداشدگی کو صرف نظری غلطی نہیں، وجودی نقصان سمجھتے ہیں۔
یہ مہجوری جدید انسان کے حال پر بھی صادق آتی ہے۔ بہت سے لوگ بظاہر آزاد ہیں، مگر باطن میں بے ربط۔ ان کے پاس اظہار ہے مگر مرکز نہیں، مواقع ہیں مگر اصل نسبت نہیں۔ نتیجہ یہ کہ ان کی لطافت آہستہ آہستہ بے مصرف جگہوں پر خرچ ہو جاتی ہے۔ اقبال اسی انجام سے بچانے کے لیے یم کی طرف لوٹنے کا راستہ دکھاتے ہیں۔
شبنم اور خاشاک:
شبنم اپنی لطافت کے باوجود باقی نہیں رہتی۔ صبح کی دھوپ آئے تو وہ غائب ہو جاتی ہے۔ اگر وہ غنچے کی آغوش میں ہو تو اس کی لطافت حسن کا حصہ بن سکتی ہے، مگر اگر وہ خس و خاشاک پر پڑی ہو تو وہ ایک وقتی منظر سے زیادہ کچھ نہیں رہتی۔ اقبال کے نزدیک یہی فرق منزل کے انتخاب کا فرق ہے۔ ایک ہی قطرہ کہیں گوہر بن سکتا ہے اور کہیں بے مصرف نمی۔
خاشاک کا ذکر بہت معنی خیز ہے۔ یہ ان کم قیمت، بکھری ہوئی، اور بے بنیاد چیزوں کی علامت ہے جن پر انسان اپنی لطافت اور توانائی ضائع کر دیتا ہے۔ خواہ وہ فضول مشغلے ہوں، سطحی خواہشیں ہوں، بے مقصد تعلقات ہوں، یا ایسی تہذیبی قدریں ہوں جو روح کو کوئی دوام نہ دیں، سب کسی نہ کسی درجے میں خاشاک ہیں۔
قیمت کے ضیاع کا خطرہ:
اقبال اس شعر میں یہ نہیں کہہ رہے کہ قطرہ بدذات ہو گیا؛ وہ اب بھی نیسان کا قطرہ ہے۔ مگر اس کی قیمت پوری نہیں ہوئی۔ یہ نکتہ بہت اہم ہے۔ بہت سے لوگ اپنی اصل میں پاک فطرت رکھتے ہیں، مگر ناموافق نسبتوں اور سطحی ماحول میں رہ کر اپنی پوری قدر تک نہیں پہنچ پاتے۔ گویا زندگی برباد ہونے کا ایک طریقہ بدی نہیں، بے مصرفی بھی ہے۔
یہی بات اجتماعی سطح پر بھی درست ہے۔ ایک امت کے پاس بہت کچھ ہو سکتا ہے: نوجوانی، ذہانت، جذبات، ہنر، وسائل۔ مگر اگر یہ سب اپنے اصل یم سے مہجور ہو جائیں تو وہ خاشاکی دنیا میں خرچ ہوتے رہتے ہیں۔ اقبال کا درد اسی ضیاع پر ہے، اور ان کی دعوت اسی نسبت کی بازیافت کی طرف ہے۔
آج کے لیے سبق:
آج کی دنیا میں سب سے بڑا خطرہ یہی ہے کہ انسان اپنی اصل قیمت سے غافل ہو کر اپنی توانائی سستی چیزوں پر صرف کرنے لگے۔ وقت، ذہانت، محبت، تخلیق، اور دل کی حرارت ایسی جگہوں پر لگنے لگتی ہے جہاں ان کا کوئی جاوید حاصل نہیں۔ اقبال اس شعر میں ہمیں جھنجھوڑتے ہیں کہ اگر یم سے مہجور رہو گے تو خس و خاشاک تمہارا مصرف بن جائے گا۔
اس لیے اس شعر کا تقاضا محض ملامت نہیں بلکہ واپسی ہے۔ اپنی اصل نسبت پہچانو، اپنے دل کو صحیح منبع سے جوڑو، اپنی صلاحیت کو صحیح گہرائی دو، اور اپنی لطافت کو سستی جگہوں پر ضائع نہ ہونے دو۔ اگر انسان یہ سمجھ لے تو اس کی زندگی شبنم کی وقتی چمک سے نکل کر گوہر کی پائیدار قیمت کی طرف بڑھ سکتی ہے۔
مثال
جیسے قیمتی بیج اگر زرخیز زمین کے بجائے کوڑے کے ڈھیر پر جا گرے تو اس کی اصل صلاحیت ظاہر نہیں ہو پاتی، ویسے ہی اصل نسبت سے کٹا ہوا باقیمت انسان اپنی توانائی کم قیمت چیزوں پر ضائع کر دیتا ہے۔
خلاصہ
اقبال اس شعر میں دکھاتے ہیں کہ اصل منبع سے دوری قیمت کے ضیاع کا سبب بنتی ہے۔ نیسان کا قطرہ اگر یم سے مہجور ہو تو وہ گوہر نہیں بنتا، بلکہ شبنم کی طرح خس و خاشاک پر ضائع ہو جاتا ہے۔