رموز بے خودی

هم شهیدانی که دین را حجت اند

هم شهیدانی که دین را حجت اند

مثل انجم در فضای ملت اند

ترجمہ

وہ شہید بھی وہاں ہوں گے جو دین کے لیے حجت ہیں اور ملت کی فضا میں ستاروں کی مانند چمکتے ہیں۔

تشریح

اس شعر میں علامہ اقبال اس عظیم اجتماع کی تصویر کو مزید بلند کرتے ہیں جس کا ذکر پچھلے اشعار میں آیا تھا۔ وہ کہتے ہیں کہ اس دن خیر الرسل کی امت کے وہ شہید بھی موجود ہوں گے جو دین کے حق میں حجت ہیں اور ملت کے آسمان میں ستاروں کی طرح روشن ہیں۔ یہاں شہید کا تصور صرف میدانِ جنگ میں جان دینے والے انسان تک محدود نہیں رہتا، بلکہ وہ اس کردار کی علامت بن جاتا ہے جو اپنے خون، اپنے اخلاص، اپنے عمل اور اپنی قربانی سے حق کی سچائی کو نمایاں کر دے۔ شہید محض ایک فرد نہیں رہتا، وہ دلیل بن جاتا ہے کہ دین نے انسان کو کس قدر بلند بنا دیا۔

“حجت” کا لفظ بہت اہم ہے۔ شہید اس لیے حجت ہے کہ اس نے حق کے لیے اپنے وجود کی آخری قیمت ادا کر دی۔ جہاں دوسرے لوگ بحث کرتے رہ جاتے ہیں وہاں شہید اپنے خون سے اپنی شہادت لکھ دیتا ہے۔ اقبال کے نزدیک ایسی زندگیاں دین کے سچے اثر کی جیتی جاگتی دلیل ہوتی ہیں۔ اس لیے جب امت خیر الرسل کے سامنے جمع ہوگی تو ان شہیدوں کی موجودگی خود ایک معیار بن جائے گی۔ ان کے سامنے کھڑے ہو کر ہر شخص کو اپنے عمل، اپنے مزاج اور اپنے تعلقِ نبوی کا وزن زیادہ شدت سے محسوس ہوگا۔

شہید بطور دلیل:

اکثر ہم دلیل کو صرف لفظی استدلال سمجھتے ہیں، مگر اقبال اس شعر میں بتاتے ہیں کہ ایک پاک قربانی بھی دلیل ہوتی ہے۔ شہید نے دین کے لیے جو قیمت ادا کی ہے وہ خود اس بات کی گواہی بن جاتی ہے کہ یہ دین معمولی شے نہیں۔ اگر کوئی چیز آدمی کو اپنے خون سے بڑھ کر عزیز ہو سکتی ہے تو وہی اس کے ایمان کی سچائی ثابت کرتی ہے۔ اس لحاظ سے شہدا ملت کی اخلاقی تاریخ کے زندہ ابواب ہیں۔

یہ نکتہ نوجوان کی تربیت سے بھی جڑا ہوا ہے۔ باپ اپنے بیٹے کو یاد دلا رہا ہے کہ تم جس امت سے تعلق رکھتے ہو اس میں وہ لوگ بھی ہیں جنہوں نے کمزوروں پر سختی نہیں، بلکہ حق کے لیے اپنی جان قربان کی۔ تمہارا ایک سخت مزاج ان بلند مثالوں کے مقابلے میں کس قدر پست نظر آتا ہے۔

انجم کی تمثیل:

شہیدوں کو “انجم” کہنا بہت معنی خیز ہے۔ ستارے رات میں راستہ بھی دکھاتے ہیں اور آسمان کی بلندی کا احساس بھی دلاتے ہیں۔ ملت کی فضا میں شہدا اسی طرح ہیں: وہ اندھیری ساعتوں میں سمت دیتے ہیں، اور امت کو یاد دلاتے ہیں کہ اس کے اندر کتنی بلندی کے امکان پوشیدہ ہیں۔ ستارے خود زمین پر نہیں اترتے، مگر زمین والوں کو آسمان کی طرف دیکھنے پر مجبور کرتے ہیں۔ اسی طرح شہدا کی زندگیاں امت کے اندر اخلاقی حیا اور بلند طلبی پیدا کرتی ہیں۔

اس میں یہ نکتہ بھی ہے کہ ملت کا آسمان تبھی روشن رہتا ہے جب اس میں ایسے انجم باقی ہوں۔ اگر امت اپنے شہدا کے مزاج، ان کے اخلاص اور ان کی خدمت کے رنگ سے دور ہو جائے تو اس کے آسمان پر اندھیرا بڑھنے لگتا ہے۔ اقبال اسی نسبت کو تازہ کر رہے ہیں۔

آج کے لیے سبق:

آج شہادت کو بہت بار صرف نعرے میں بدل دیا جاتا ہے، جبکہ اقبال اس کے اخلاقی مقام کو سامنے لاتے ہیں۔ شہید وہ ہے جو اپنے آپ کو حق کے لیے خرچ کر دے اور اپنی قربانی سے ملت کو شرم، نور اور حوصلہ دے۔ اگر ہم واقعی شہدا کی نسبت کے امین ہیں تو ہمارے اخلاق میں کم از کم اتنی نرمی، اتنا عدل اور اتنی ذمہ داری ضرور ہونی چاہیے کہ ہم کمزور آدمی پر غصہ نہ اتاریں۔

یہ شعر ہمیں سکھاتا ہے کہ امت کے بلند نمونے صرف تاریخ کا حصہ نہیں، موجودہ کردار کے پیمانے بھی ہیں۔ جب آدمی اپنے عمل کو شہیدوں کے آسمان کے نیچے رکھتا ہے تو اس کے مزاج میں خود بخود کچھ حیا پیدا ہوتی ہے۔

مثال

جیسے رات کے مسافر آسمان کے چند روشن ستاروں سے اپنی سمت پہچان لیتے ہیں، ویسے ہی امت اپنے شہدا کی قربانیوں سے اپنے اخلاقی راستے کی پہچان کرتی ہے۔

خلاصہ

اقبال کے نزدیک شہدا دین کے سچے اثر کی دلیل اور ملت کے آسمان کے روشن ستارے ہیں۔ ان کے معیار کے سامنے فرد اپنے مزاج اور عمل کا وزن بہتر طور پر پہچان سکتا ہے۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button