در تنم لرزید جان غافلم
در تنم لرزید جان غافلم
رفت لیلای شکیب از محملم
ترجمہ
میرے جسم کے اندر میری غافل جان لرز اٹھी، اور صبر کی لیلیٰ میرے محمل سے رخصت ہو گئی۔
تشریح
یہ شعر پچھلے تمام خارجی مناظر کو اب شاعر کے اندرونی انقلاب میں تبدیل کر دیتا ہے۔ سائل کی پکار، اپنی سختی، والد کی آزردگی، آنکھ کا آنسو، دل کی لرزش، یہ سب اب ایک نئے مرحلے پر پہنچتے ہیں: غافل جان خود کانپ اٹھتی ہے۔ اقبال کہتے ہیں کہ میرے تن کے اندر میری غافل روح لرز گئی، اور “لیلای شکیب” میرے محمل سے چلی گئی۔ اس تصویر میں ندامت، خوف، خود آگاہی اور باطنی بیداری ایک ساتھ جمع ہیں۔ یہ وہ لمحہ ہے جب آدمی پہلی بار اپنے ہی نفس کے مقابل کھڑا ہو جاتا ہے۔
“جان غافل” کی تعبیر بہت اہم ہے۔ یہ اعتراف ہے کہ اصل مسئلہ صرف ایک غلط فعل نہیں، غفلت تھی۔ دل سویا ہوا تھا، مزاج ناپختہ تھا، اور عمل اسی غفلت سے پھوٹا تھا۔ لیکن جب والد کے درد نے اثر کیا تو یہی غافل جان لرز گئی۔ گویا اخلاقی اصلاح کا آغاز اس وقت ہوتا ہے جب آدمی اپنی غفلت کو محسوس کر لے۔ اس سے پہلے وہ صرف اپنے ردعمل کو درست سمجھتا رہتا ہے۔
لرزشِ جان کا مفہوم:
جسمانی لرزش کبھی سردی سے ہوتی ہے، کبھی خوف سے، کبھی بیماری سے۔ مگر یہاں جان کی لرزش ہے، یعنی باطن ہل گیا۔ جب انسان پر حقیقت روشن ہونے لگتی ہے، جب وہ اپنے عمل کا حقیقی وزن محسوس کرتا ہے، جب کسی مخلص دل کے درد سے اس کا ضمیر بیدار ہوتا ہے، تو اندر ایسی ہی لرزش پیدا ہوتی ہے۔ اقبال کے نزدیک یہ لرزش رحمت ہے، کیونکہ یہ انسان کو غفلت سے جگاتی ہے۔
بہت سے لوگ اپنی غلطی کے بعد بھی مطمئن رہتے ہیں، کیونکہ ان کے اندر جان نہیں لرزتی۔ اقبال کے ہاں یہ لرز جانا اصلاح کی پہلی نشانی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ دل ابھی مردہ نہیں ہوا، اس میں خیر کے قبول کی جگہ باقی ہے۔
لیلای شکیب کا رخصت ہونا:
“رفت لیلای شکیب از محملم” ایک نہایت بلیغ مصرع ہے۔ لیلیٰ حسن، دل بستگی اور محبوب کیفیت کی علامت ہے، جبکہ شکیب صبر، توازن اور ضبط کا نام ہے۔ اقبال گویا کہہ رہے ہیں کہ میرے ضبط کا سارا حسن مجھ سے رخصت ہو گیا۔ یا یہ کہ میں اس واقعے کے بعد ایسی ندامت میں مبتلا ہوا کہ میری پہلے کی بے حسی ٹوٹ گئی اور اب دل بے قرار ہو گیا۔
محمل سفر اور شان کا استعارہ ہے۔ جب لیلای شکیب محمل سے اتر جائے تو انسان کے اندر سکون باقی نہیں رہتا۔ یہ سکون کا زوال دراصل اخلاقی بیداری کی قیمت ہے۔ جو شخص خطا کے بعد بھی آرام سے سو جائے، وہ ابھی شعور تک نہیں پہنچا۔ لیکن جو کانپ اٹھے، بے قرار ہو، اور اپنے اندر شکست محسوس کرے، وہ تبدیلی کے قریب آ جاتا ہے۔
آدابِ محمدیہ اور باطنی شعور:
آدابِ محمدیہ کا مقصد صرف ظاہری نرمی پیدا کرنا نہیں، بلکہ ایسا باطن پیدا کرنا ہے جو غلطی پر فوراً متأثر ہو۔ رسول اکرم کی تربیت کا ایک اثر یہ تھا کہ دل سخت نہیں رہتے تھے۔ جب خطا ہوتی تو ضمیر زندہ ہو کر بول اٹھتا تھا۔ اقبال یہی دکھا رہے ہیں کہ حسنِ سیرت اسی وقت پیدا ہوتا ہے جب انسان کے اندر غلطی پر لرزش پیدا ہو، نہ کہ صرف بیرونی معذرت۔
ملت کی سطح پر بھی یہی اصول درست ہے۔ جب قوم اپنی بداخلاقی، بے رحمی، کمزوری یا خود فراموشی پر اندر سے مضطرب ہونا چھوڑ دے تو اس کا زوال گہرا ہو جاتا ہے۔ مگر جب اجتماعی ضمیر لرزنے لگے تو امید باقی رہتی ہے۔
آج کے لیے سبق:
آج ہم اکثر اپنی غلطیوں کو یا تو جواز دے دیتے ہیں، یا فوراً بھول جاتے ہیں، یا انہیں دوسروں کی غلطی سے تول کر ہلکا کر لیتے ہیں۔ اقبال یاد دلاتے ہیں کہ اصل اصلاح تب آتی ہے جب “جان غافل” لرزے۔ یعنی آدمی اپنے باطن میں یہ محسوس کرے کہ اس نے کچھ ایسا کیا ہے جو اس کے شایانِ شان نہ تھا۔ یہ احساس اگر دردناک بھی ہو تو نعمت ہے، کیونکہ یہی تبدیلی کا دروازہ ہے۔
یہ شعر ہمیں دعوت دیتا ہے کہ ہم اپنے اندر اس لرزش کو زندہ رکھیں۔ اگر کسی لغزش پر ہمارا دل بالکل نہیں ہلتا تو یہ خطرے کی علامت ہے۔ مگر اگر ہلتا ہے، تو اسی لرزش کو توبہ، تربیت اور نئے مزاج کی بنیاد بنا لینا چاہیے۔
مثال
جیسے گہری نیند میں سویا ہوا شخص اچانک بجلی کی گرج سے جاگ اٹھتا ہے، ویسے ہی زندہ ضمیر کسی سچی تنبیہ سے لرز کر غفلت سے نکل آتا ہے۔
خلاصہ
اقبال کے مطابق اخلاقی بیداری کا آغاز اس لمحے سے ہوتا ہے جب غافل جان خود کانپ اٹھے۔ یہ لرزش اور بے قراری ہی حسنِ سیرت کی نئی تعمیر کی پہلی بنیاد بنتی ہے۔
