رموز بے خودی

عقل در آغاز ایام شباب

عقل در آغاز ایام شباب

می نیندیشد صواب و ناصواب

ترجمہ

جوانی کے ابتدائی دنوں میں عقل صواب اور ناصواب پر اچھی طرح غور نہیں کرتی۔

تشریح

یہ شعر پچھلے واقعے کی نفسیاتی جڑ سامنے رکھتا ہے۔ اقبال کہتے ہیں کہ جوانی کے آغاز میں عقل اتنی پختہ نہیں ہوتی کہ صحیح اور غلط کے انجام کو گہرائی سے سوچ سکے۔ یہ کوئی بہانہ نہیں بلکہ انسانی طبیعت کی ایک حقیقت کا بیان ہے۔ شباب کی ابتدا میں حرارت زیادہ ہوتی ہے، جذبہ تیز ہوتا ہے، خودی جلدی ابھرتی ہے، مگر فیصلہ ہمیشہ اتنا متوازن نہیں ہوتا۔ اسی لیے اس عمر میں تربیت، ادب، صحبت اور مثال کی ضرورت زیادہ ہوتی ہے۔

اقبال یہاں عقل کی نفی نہیں کر رہے، بلکہ اس کی ناپختگی کو ظاہر کر رہے ہیں۔ نوجوانی میں انسان بہت کچھ کر گزرنے کی قوت رکھتا ہے، مگر اگر اس قوت کو سمت نہ ملے تو وہ جذبات، غصے، خود پسندی یا جلد بازی کے ہاتھ میں کھیل سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آدابِ محمدیہ کی ضرورت یہاں اور زیادہ نمایاں ہو جاتی ہے۔ نبوی ادب جذبات کو مارتا نہیں، انہیں سنوارتا ہے۔ وہ شباب کو کمزور نہیں کرتا، اسے باوقار بناتا ہے۔

شباب کی حرارت:

جوانی میں انسان اپنے نفس کو پوری شدت سے محسوس کرتا ہے۔ وہ اپنی قوت، اپنی رائے، اپنی خواہش اور اپنی آزادی کو بہت زور سے دیکھتا ہے۔ لیکن اسی مرحلے میں اس کے فیصلوں پر لحظہ بہ لحظہ باطنی ضبط کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر یہ ضبط نہ ہو تو آدمی بہت سی ایسی حرکتیں کر بیٹھتا ہے جن پر بعد میں ندامت ہوتی ہے۔ اقبال اپنے واقعے کے تناظر میں یہی بتا رہے ہیں کہ نوجوانی کا مسئلہ صرف توانائی نہیں، مسئلہ اس توانائی کی تہذیب ہے۔

یہ تہذیب صرف وعظ سے نہیں آتی۔ اسے گھر، باپ، استاد، معاشرت، اور سب سے بڑھ کر نبوی سیرت کے نمونے سے آنا ہوتا ہے۔ اگر نوجوان کے سامنے ایسا نمونہ ہو تو اس کی عقل آہستہ آہستہ صواب و ناصواب کے درمیان فرق کو نہ صرف سمجھتی ہے بلکہ محسوس بھی کرنے لگتی ہے۔

صواب و ناصواب کا شعور:

صواب و ناصواب صرف قانونی درجہ بندی نہیں۔ صواب وہ ہے جو حق، عدل، رحمت، وقار اور باطنی پاکیزگی سے ہم آہنگ ہو۔ ناصواب وہ ہے جو نفس کو خوش کر دے مگر حقیقت کو مجروح کر دے۔ جوانی میں انسان اکثر فوری ردعمل کو درست سمجھ لیتا ہے، کیونکہ اس نے ابھی اپنے عمل کے اثرات کی پوری قیمت نہیں دیکھی ہوتی۔ اقبال اس شعر میں ہمیں یہی دکھاتے ہیں کہ غلطی کبھی کبھی بد نیتی سے نہیں، ناپختہ شعور سے بھی پیدا ہوتی ہے۔

یہی وہ مقام ہے جہاں ملی اور اخلاقی تربیت کی اہمیت بڑھ جاتی ہے۔ اگر قوم اپنی جوان نسل کو فقط قوت دے، علم دے، یا جوش دے، مگر آداب نہ دے، تو وہ قوت خود قوم کے لیے بھی مسئلہ بن سکتی ہے۔

آج کے لیے سبق:

آج کی دنیا نوجوانی کو اکثر محض اظہارِ نفس، آزادی اور تجربے کے نام سے دیکھتی ہے، جبکہ اقبال یاد دلاتے ہیں کہ اس عمر کا سب سے بڑا سوال تربیت ہے۔ ایک نوجوان کے اندر بے پناہ امکان ہوتا ہے، مگر اسے یہ بھی سکھانا ہوتا ہے کہ کب رکنا ہے، کس پر رحم کرنا ہے، کون سا ردعمل عزت کے لائق ہے، اور کہاں اپنے نفس کو قابو کرنا ہے۔

یہ شعر بڑوں کے لیے بھی پیغام رکھتا ہے کہ وہ نوجوان کی غلطی دیکھ کر صرف مذمت نہ کریں، بلکہ اسے پختگی کی طرف لے جائیں۔ اور نوجوانوں کے لیے پیغام یہ ہے کہ اپنی حرارت کو کافی نہ سمجھیں؛ اسے صواب و ناصواب کے شعور سے جوڑیں۔

مثال

جیسے تیز رفتار گھوڑا اگر تربیت یافتہ نہ ہو تو اپنے سوار کو بھی گرا سکتا ہے، ویسے ہی جوانی کی قوت اگر ادب سے نہ بندھی ہو تو غلط سمت میں جا سکتی ہے۔

خلاصہ

اقبال بتاتے ہیں کہ جوانی کے آغاز میں عقل ابھی پوری طرح صواب و ناصواب کا وزن نہیں جانتی، اس لیے اس عمر کو خاص تربیت اور نبوی آداب کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ قوت بگاڑ کے بجائے حسنِ سیرت پیدا کرے۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button