رموز بے خودی

سائلی مثل قضای مبرمی

سائلی مثل قضای مبرمی

بر در ما زد صدای پیهمی

ترجمہ

ایک سائل ایسے آیا جیسے کوئی ٹل نہ سکنے والی تقدیر ہو، اور اس نے ہمارے در پر بار بار آواز دی۔

تشریح

اس شعر میں علامہ اقبال ایک بظاہر معمولی واقعے کو نہایت معنی خیز انداز میں بیان کرتے ہیں۔ ایک سائل دروازے پر آیا اور مسلسل صدا دیتا رہا۔ لیکن اقبال اسے صرف ایک فقیر کی آمد کے طور پر پیش نہیں کرتے، بلکہ کہتے ہیں کہ وہ “مثل قضای مبرمی” آیا، یعنی ایسا جیسے ایک لازمی اور ناگزیر فیصلہ سامنے آ کھڑا ہوا ہو۔ اس تشبیہ سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض اوقات زندگی کے بڑے اخلاقی امتحان بہت سادہ صورت میں ہمارے دروازے پر آتے ہیں۔ وہ کسی فلسفیانہ بحث، کسی جنگی میدان، یا کسی بڑے سیاسی مرحلے میں نہیں، بلکہ ایک محتاج انسان کی آواز میں ظاہر ہوتے ہیں۔

یہاں “صدای پیہم” بھی بہت اہم ہے۔ ایک بار کی پکار شاید نظرانداز ہو سکتی تھی، مگر مسلسل آواز گویا ضمیر پر مسلسل دستک بن جاتی ہے۔ اقبال کے ہاں یہ منظر محض سماعتی واقعہ نہیں بلکہ باطنی بیداری کا مقدمہ ہے۔ سائل کی بار بار آواز انسان کے اندر چھپی ہوئی رحمت، اخلاق، تحمل اور نبوی آداب کی آزمائش بن جاتی ہے۔ گویا دروازہ باہر سے نہیں بلکہ اندر سے کھلنا تھا۔

سائل بطور امتحان:

اسلامی روایت میں سائل محض لینے والا نہیں ہوتا، وہ دینے والے کے باطن کا پیمانہ بھی بن جاتا ہے۔ اس کے سامنے انسان کی اصل کیفیت کھلتی ہے: کیا اس میں شفقت ہے یا تنگ دلی؟ کیا اس میں تحمل ہے یا جھنجھلاہٹ؟ کیا اس کے اخلاق میں نبوی رنگ ہے یا خود پسندی؟ اقبال اس ایک واقعے کے ذریعے بتا رہے ہیں کہ اخلاقی پختگی بڑے دعووں سے نہیں بلکہ ایسے ہی روزمرہ مواقع سے بنتی ہے۔

اسی لیے سائل کا آنا “قضای مبرمی” کے مشابہ ہے۔ بعض فیصلے آسمان سے نازل شدہ صورت میں نہیں آتے، بلکہ انسانوں کی صورت میں آتے ہیں۔ جو شخص انہیں پہچان لے وہ اپنے باطن کو سنوار لیتا ہے، اور جو نہ پہچان سکے وہ اپنے ہی ہاتھوں اپنا اخلاقی نقصان کر بیٹھتا ہے۔

آدابِ محمدیہ کی طرف اشارہ:

چونکہ اس پوری بخش کا موضوع یہ ہے کہ ملی حسنِ سیرت آدابِ محمدیہ سے پیدا ہوتا ہے، اس لیے یہ ابتدائی شعر دراصل تمہید ہے۔ رسول اکرم کی سیرت میں محتاج، کمزور، غلام، یتیم اور سائل کے ساتھ جو رحمت، نرمی، تواضع اور عزت کا سلوک تھا، وہی ایک امت کے اخلاقی حسن کا سرچشمہ ہے۔ اگر ایک قوم علم، طاقت یا نظم رکھتی ہو مگر اس کے دروازے پر آئے ہوئے سائل کے لیے اس کے دل میں رحمت نہ ہو، تو اس کی تہذیب میں ایک بنیادی کمی باقی رہتی ہے۔

اقبال کے نزدیک نبوی ادب صرف عبادات یا ظاہری شعار کا نام نہیں، بلکہ وہ اس بات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہم کمزور انسان کے ساتھ کیسے پیش آتے ہیں۔ دروازے پر آنے والا سائل اسی لیے اہم بن جاتا ہے کہ وہ ہمارے اخلاق کا چھپا ہوا رخ ظاہر کر دیتا ہے۔

آج کے لیے سبق:

آج ہماری زندگی میں “سائل” کی صورتیں بدل گئی ہیں۔ کبھی وہ واقعی محتاج آدمی ہوتا ہے، کبھی کوئی مدد مانگنے والا رشتہ دار، کبھی کوئی طالب علم، کبھی کوئی ماتحت، کبھی وقت مانگنے والا شخص، اور کبھی محض ایک انسانی کمزوری جو ہماری ہمدردی چاہتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب یہ صدا بار بار ہمارے دروازے پر آئے تو ہم کیسا ردعمل دیتے ہیں؟ کیا ہم اسے بوجھ سمجھتے ہیں، یا اپنے باطن کے امتحان کے طور پر؟

یہ شعر ہمیں سکھاتا ہے کہ اخلاقی تربیت کا آغاز ان لمحوں سے ہوتا ہے جب کوئی بار بار ہمیں پکارے اور ہمارے پاس اس پکار کا جواب دینے یا اسے رد کرنے کی قدرت ہو۔ یہی وہ جگہ ہے جہاں انسان کی اصلیت ظاہر ہوتی ہے۔

مثال

جیسے دروازے پر بار بار بجنے والی دستک آخرکار گھر والوں کی توجہ کا فیصلہ کر دیتی ہے، ویسے ہی محتاج کی مسلسل پکار انسان کے ضمیر کا فیصلہ سامنے لے آتی ہے۔

خلاصہ

اقبال اس شعر میں بتاتے ہیں کہ ایک سائل کی بار بار پکار محض اتفاقی واقعہ نہیں بلکہ اخلاقی تقدیر کا امتحان بن سکتی ہے۔ قوم اور فرد دونوں کی حسنِ سیرت کا آغاز اسی جواب سے ہوتا ہے جو وہ ایسی دستک کو دیتے ہیں۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button