رموز بے خودی

ای که باشی حکمت دین را امین

ای که باشی حکمت دین را امین

با تو گویم نکته ی شرع مبین

ترجمہ

اے وہ شخص جو حکمتِ دین کا امین ہو، میں تجھ سے شریعتِ روشن کا ایک نکتہ بیان کرتا ہوں۔

تشریح

اس شعر میں علامہ اقبال اپنا خطاب خاص اہلِ فہم، اہلِ امانت اور اہلِ بصیرت کی طرف موڑتے ہیں۔ وہ ہر شخص کو نہیں، بلکہ اس شخص کو مخاطب کرتے ہیں جو “حکمتِ دین” کا “امین” ہو۔ یعنی ایسا آدمی جو دین کے مقاصد، اس کے توازن، اس کے باطنی وزن اور اس کے اجتماعی خیر کو امانت کے ساتھ سمجھتا ہو۔ پھر وہ کہتے ہیں کہ میں تم سے شریعت کے ایک روشن نکتے کی بات کروں گا۔ اس تمہید سے واضح ہو جاتا ہے کہ آگے آنے والی بات صرف جزوی حکم نہیں بلکہ دین کی گہری حکمت سے متعلق ہے۔ شعر کے مطابق:

حکمتِ دین کیا ہے:

حکمتِ دین سے مراد صرف احکام کی فہرست نہیں، بلکہ ان کے باہمی ربط، ان کے مقاصد، ان کی تہذیبی تاثیر، اور ان کے ذریعے انسان و ملت کی تعمیر کا شعور ہے۔ شریعت کے ظاہری احکام کو جان لینا ایک درجہ ہے، مگر ان کے پیچھے کارفرما حکمت کو سمجھنا ایک اور درجہ ہے۔ اقبال ان دونوں کو جوڑنا چاہتے ہیں، اسی لیے وہ حکمت کو الگ اور شریعت کو الگ نہیں رکھتے۔

حکمت کے بغیر حکم سخت ہو سکتا ہے، اور حکم کے بغیر حکمت بے صورت دعویٰ بن سکتی ہے۔

امین ہونے کا مفہوم:

“امین” وہ ہے جو امانت میں خیانت نہ کرے۔ دینی حکمت کا امین ہونے کا مطلب یہ ہے کہ آدمی دین کو اپنے نفس، اپنی شہرت، اپنے گروہی مفاد یا اپنی وقتی مصلحت کے تابع نہ کرے۔ وہ دین کے نکتے کو اسی توازن کے ساتھ آگے پہنچائے جس کے ساتھ اسے سمجھا ہے۔ اقبال کے نزدیک دین کی سب سے بڑی خدمت صرف علم نہیں، بلکہ علم کی امانت داری بھی ہے۔

اسی امانت کے بغیر شریعت کا روشن نکتہ بھی ہاتھوں میں آ کر سختی یا افراط میں بدل سکتا ہے۔

شرعِ مبین کا نکتہ:

“شرع مبین” کی تعبیر شریعت کی وضاحت، روشنی اور الٰہی کھلے پن کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ اقبال یہ نہیں کہتے کہ میں کوئی پوشیدہ فلسفہ بتا رہا ہوں جو سب سے الگ ہو؛ وہ کہتے ہیں کہ یہ شریعتِ روشن کا ایک نکتہ ہے۔ یعنی اس نکتے کی جڑ بھی اسی واضح دین میں ہے، نہ کہ کسی مبہم باطنی دعوے میں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ دین کی حقیقی حکمت شریعت کے اندر ہی کھلتی ہے، اس سے باہر نہیں۔

یہ تمہید آئندہ دو شعروں کے اخلاقی وزن کو بہت بڑھا دیتی ہے۔

تعلیم کا اسلوب:

اس شعر میں اقبال کا اسلوب بھی قابلِ توجہ ہے۔ وہ حکم صادر نہیں کرتے بلکہ مخاطب کی اہلیت قائم کرتے ہیں، پھر نکتہ دیتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ دینی حکمت ہر سطح پر ایک ہی انداز میں نہیں دی جاتی۔ بعض باتیں وہی صحیح طور پر سمجھ سکتا ہے جو دین کی امانت، مقاصد اور امت کے حال کا وزن رکھتا ہو۔

گویا فہم کی اہلیت بھی دینی تربیت کا حصہ ہے۔

آج کے لیے سبق:

آج دین کی گفتگو میں بہت سی باتیں سیاق سے کاٹ کر عام کر دی جاتی ہیں، اور پھر وہ یا تو شدت پیدا کرتی ہیں یا بے وزنی۔ اقبال یاد دلاتے ہیں کہ حکمتِ دین کا امین بننا ضروری ہے۔ یعنی آدمی صرف حکم نہ جانے بلکہ اس کا وزن، اس کی مصلحت اور اس کا صحیح محل بھی پہچانے۔

یہ شعر خاص طور پر ان لوگوں کے لیے تنبیہ ہے جو دین کے نام پر بات کرتے ہیں: علم کے ساتھ امانت بھی ضروری ہے۔

مثال

جیسے ایک ماہر طبیب صرف دوا کا نام نہیں جانتا بلکہ یہ بھی جانتا ہے کہ کس مریض کو کب اور کیسے دینی ہے، ویسے ہی حکمتِ دین کا امین حکم کے ساتھ اس کے محل اور وزن کو بھی سمجھتا ہے۔

خلاصہ

اقبال اس شعر میں دین کے ایسے امین مخاطب کو سامنے لاتے ہیں جو شریعت کے روشن نکتے کو امانت کے ساتھ سمجھ اور پہنچا سکے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ دینی حکمت کے لیے علم کے ساتھ امانت داری بھی شرط ہے۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button