ملت از آئین حق گیرد نظام
ملت از آئین حق گیرد نظام
از نظام محکمی خیزد دوام
ترجمہ
ملت اپنا نظام آئینِ حق سے لیتی ہے، اور مضبوط نظام ہی سے اس کی پائیداری پیدا ہوتی ہے۔
تشریح
اس شعر میں علامہ اقبال فرد سے ملت کی طرف آتے ہیں۔ پچھلے شعر میں انہوں نے بتایا تھا کہ فرد کا یقین شریعت سے پختہ ہوتا ہے، اور یہاں فرماتے ہیں کہ ملت کا “نظام” بھی آئینِ حق سے پیدا ہوتا ہے۔ یعنی جیسے فرد کی روحانی عمارت الٰہی ضابطے کے بغیر مضبوط نہیں بنتی، ویسے ہی امت کی اجتماعی ساخت بھی حق کے آئین کے بغیر استحکام نہیں پا سکتی۔ پھر وہ نتیجہ بیان کرتے ہیں: “از نظام محکمی خیزد دوام”۔ دوام، بقا اور پائیداری صرف اسی وقت پیدا ہوتی ہے جب نظام مضبوط، منضبط اور حق پر مبنی ہو۔ شعر کے مطابق:
آئینِ حق کیا ہے:
آئینِ حق سے مراد وہ الٰہی دستور ہے جو قرآن، سنت، شریعت اور نبوی وراثت کے ذریعے امت کو ملا۔ یہ محض قانونی متن نہیں بلکہ ایک زندہ راہ ہے جو عقیدہ، اخلاق، عبادت، سیاست، معیشت، معاشرت اور علم سب کے لیے بنیادی میزان فراہم کرتی ہے۔ اقبال کے نزدیک ملت کی اصل شناخت بھی اسی آئین سے بنتی ہے اور اس کی سمت بھی۔
اگر امت اپنا نظام کسی اور مرکز سے لے گی تو اس کی شکل شاید بن جائے، مگر اس کی روح کمزور پڑ جائے گی۔
نظام کی ضرورت:
ملت محض افراد کا ہجوم نہیں ہوتی۔ اسے نظم، ربط، اصول، آداب، مراتب اور ایک مشترک معیار چاہیے۔ یہی نظام ہے۔ اقبال کے نزدیک نظام کے بغیر قوت بکھر جاتی ہے، نیکی بے اثر ہو جاتی ہے، اور باصلاحیت افراد بھی کوئی اجتماعی پیکر نہیں بنا پاتے۔ آئینِ حق ملت کو ایسا نظام دیتا ہے جس میں اخلاق اور قانون، عبادت اور سیاست، محبت اور ضبط ایک دوسرے کے مددگار بن جاتے ہیں۔
گویا نظام امت کی زندگی کا بیرونی ڈھانچہ نہیں بلکہ اس کے باطنی ربط کی ظاہری صورت ہے۔
محکمی اور دوام:
“محکمی” سے مراد صرف سختی نہیں، بلکہ استحکام، توازن، اعتماد اور دیر پائی ہے۔ اور “دوام” وہی بقا ہے جو وقت، آزمائش، دشمنی، پراگندگی اور تغیرات کے باوجود قائم رہتی ہے۔ اقبال فرماتے ہیں کہ دوام کسی جذباتی جوش، وقتی تحریک یا نعرے سے نہیں اٹھتا؛ وہ مضبوط نظام سے اٹھتا ہے۔
اس لیے اگر امت اپنی بقا چاہتی ہے تو اسے اپنے نظام کے منبع پر نظر رکھنی ہوگی: کیا وہ حق سے بندھا ہے یا خواہش اور مرعوبیت سے؟
فرد اور ملت کا ربط:
اس شعر کا ایک اہم حسن یہ ہے کہ یہ پچھلے شعر سے جڑا ہوا ہے۔ فرد کو یقین دینے والی شریعت ہی ملت کو نظام دیتی ہے۔ یعنی باطن اور اجتماع، فرد اور قوم، یقین اور دوام ایک ہی الٰہی سلسلے سے جڑے ہوئے ہیں۔ اگر فرد شریعت سے کٹے گا تو اس کا یقین کمزور ہو گا، اور اگر ملت آئینِ حق سے کٹے گی تو اس کا دوام کمزور ہو جائے گا۔
اقبال کی پوری فکری عمارت اسی ربط پر قائم ہے۔
آج کے لیے سبق:
آج امت کے اندر اکثر یہ خیال ہوتا ہے کہ ہم کچھ جزوی نیکیوں یا وقتی نظموں سے بڑی بقا پا لیں گے، مگر اقبال کا کہنا ہے کہ اصل دوام اسی نظام سے پیدا ہوتا ہے جو آئینِ حق پر قائم ہو۔ اگر معیار قرآن و سنت سے ہٹ جائیں، اور نظام خواہش یا عارضی مصلحت سے بنے، تو استحکام دیر تک باقی نہیں رہتا۔
یہ شعر امت کو اپنے اجتماعی ڈھانچے کی جڑ تک لوٹنے کی دعوت دیتا ہے۔
مثال
جیسے ایک عمارت کی مضبوطی اس کی بنیاد کے معیار پر موقوف ہوتی ہے، ویسے ہی ملت کی پائیداری اس نظام پر موقوف ہے جو وہ اپنے لیے اختیار کرتی ہے۔
خلاصہ
اقبال اس شعر میں بتاتے ہیں کہ ملت کا صحیح نظام آئینِ حق سے پیدا ہوتا ہے، اور اسی مضبوط نظام سے اس کی بقا اور دوام جنم لیتے ہیں۔ اجتماعی استحکام کا راز الٰہی مرکزیت ہی میں ہے۔