چون گهر در رشته ی او سفته شو
چون گهر در رشته ی او سفته شو
ورنه مانند غبار آشفته شو
ترجمہ
اس کی ڈوری میں موتی کی طرح پرویا جا، ورنہ غبار کی طرح پراگندہ ہو جائے گا۔
تشریح
یہ شعر بخش ۱۸ کا نہایت خوب صورت اور جامع اختتام ہے۔ علامہ اقبال پوری بحث کو ایک آخری تمثیل میں سمیٹ دیتے ہیں: قرآن اور یک آئینی نظم کی “رشتہ” میں موتی کی طرح پرو جاؤ، ورنہ غبار کی طرح بکھر جاؤ گے۔ موتی اپنی انفرادی قیمت رکھتا ہے، مگر جب ڈوری میں پرویا جاتا ہے تو حسن، ترتیب، زینت اور حفاظت پاتا ہے۔ غبار کے ذرات بھی موجود ہوتے ہیں، مگر بے ربط، بے وزن اور ہر ہوا کے رحم و کرم پر۔ اقبال اس فرق سے امت کی بقا اور زوال دونوں کو واضح کر دیتے ہیں۔ شعر کے مطابق:
گہر کی تمثیل:
“گہر” یعنی موتی، قیمتی بھی ہے، لطیف بھی، اور نایاب بھی۔ اقبال اس سے فرد کی قدر و قیمت، اس کی انفرادیت اور اس کے ممکنہ حسن کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ وہ فرد کو مٹانا نہیں چاہتے؛ بلکہ چاہتے ہیں کہ اس کی قیمت ایک ایسے نظام میں ظاہر ہو جہاں وہ ضائع نہ ہو۔ موتی جب الگ الگ پڑے ہوں تو بکھرے ہوئے رہتے ہیں، مگر رشتے میں پروئے جائیں تو ہار بن جاتے ہیں۔
یعنی فرد کی اصل تکمیل اجتماع میں ہے، نہ کہ تنہا خود نمائی میں۔
رشتہ ی او:
“رشتہ ی او” سے مراد وہی قرآنی، دینی اور اجتماعی ڈوری ہے جس کا ذکر پچھلے شعر میں “حبل اللہ” کے طور پر آیا۔ اقبال کہتے ہیں کہ امت کے افراد اگر اس ڈوری میں پروئے جائیں تو ان کی انفرادیت ضائع نہیں ہوتی بلکہ محفوظ، مرتب اور بارآور ہو جاتی ہے۔ یہی رشتہ ملت کی جمعیت، تہذیبی شکل اور روحانی مرکزیت کو قائم رکھتا ہے۔
گویا رشتہ قید نہیں بلکہ قیمت کی حفاظت اور حسن کی تکمیل ہے۔
سفتہ شو کا مطالبہ:
“سفتہ شو” میں محض نسبت نہیں، ایک عمل اور ایک تسلیم بھی ہے۔ موتی خود اپنے آپ کو پرو نہیں سکتا؛ اسے رشتہ قبول کرنا پڑتا ہے۔ اقبال یہاں فرد کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اپنے آپ کو ایسے نظم کے لیے آمادہ کرے جو اسے بڑے خیر کے ساتھ جوڑ دے۔ اس کے لیے نفس کی خود سری کم کرنی پڑتی ہے، مگر بدلے میں دوام، حسن اور وزن حاصل ہوتا ہے۔
یہی انحطاط کے دور میں تقلید، ضبط ملت اور یک آئینی کا عملی معنی ہے۔
غبار کی پراگندگی:
اگر یہ رشتہ نہ ہو تو انسان یا قوم “غبار” کی طرح ہو جاتی ہے: بے سمت، بے وزن، ہر ہوا کے ساتھ اڑتی ہوئی، کسی پیکر میں جمع نہ ہونے والی۔ غبار کے ذرات بہت ہوتے ہیں، مگر ان کی کثرت بھی کوئی شکل پیدا نہیں کرتی۔ اقبال کے نزدیک یہ انفرادی خود رائی، افتراق، اور مرکز سے کٹے ہوئے اجتماعی وجود کی بہترین تصویر ہے۔
پس موتی اور غبار کے درمیان فرق دراصل نظم اور انتشار، مرکز اور بے مرکزی، بقا اور فنا کا فرق ہے۔
آج کے لیے سبق:
آج امت کے افراد اور جماعتیں اگر قرآن، سنت اور معتبر اجتماعی ورثے کی ڈوری سے جڑنے کے بجائے ہر وقت اپنی اپنی الگ سمت بناتے رہیں تو پراگندگی بڑھتی جائے گی۔ اقبال کا آخری پیغام یہ ہے کہ انفرادیت کی عزت محفوظ رکھنی ہے تو اسے رشتے سے جوڑو۔ محض آزادی، اگر بے ربط ہو، تو آخرکار غبار بن جاتی ہے۔
اس شعر کے ساتھ باب کا پورا مدعا روشن ہو جاتا ہے: زندگی، قیمت اور بقا، جمعیت سے جڑی ہیں۔
مثال
جیسے قیمتی موتی اگر ہار میں پروئے جائیں تو سنبھل جاتے ہیں، اور باریک گرد اگرچہ بہت ہو مگر ہر جھونکے میں بکھر جاتی ہے، ویسے ہی امت کے افراد بھی ربط سے سنورتے اور بے ربطی سے پراگندہ ہوتے ہیں۔
خلاصہ
اقبال اس آخری شعر میں فرماتے ہیں کہ امت کے افراد کو قرآن اور واحد دینی رشتے میں موتی کی طرح پرو جانا چاہیے، ورنہ وہ غبار کی طرح منتشر ہو جائیں گے۔ یہی بخش ۱۸ کا فیصلہ کن خلاصہ ہے۔