من شنیدستم ز نباض حیات
من شنیدستم ز نباض حیات
اختلاف تست مقراض حیات
ترجمہ
میں نے زندگی کی نبض شناس ہستی سے سنا ہے کہ تیرا اختلاف ہی زندگی کو کاٹنے والی قینچی ہے۔
تشریح
اس شعر میں علامہ اقبال اس پورے باب کے قلب تک پہنچتے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں کہ میں نے “نباض حیات” سے سنا ہے کہ تیرا اختلاف ہی تیری زندگی کی “مقراض” ہے۔ نباض وہ ہے جو نبض دیکھ کر باطن کی حالت پہچان لے۔ اقبال کے ہاں یہ تعبیر کسی ایسے حکیمِ حیات کی طرف اشارہ کرتی ہے جو امت کی زندگی کے قوانین کو جانتا ہو۔ اس کے مطابق اندرونی اختلاف، خاص طور پر وہ اختلاف جو وحدت کو کاٹ دے، ملت کی حیات کو قینچی کی طرح ٹکڑے ٹکڑے کر دیتا ہے۔ شعر کے مطابق:
نباضِ حیات کی رمز:
نبض شناس وہ ہوتا ہے جو ظاہری چہرہ نہیں بلکہ اندر کی دھڑکن پڑھتا ہے۔ اقبال کہتے ہیں کہ زندگی کے اس ماہر نے بتایا ہے کہ کسی قوم کی اصل بیماری باہر سے پہلے اندر میں جنم لیتی ہے۔ یعنی زوال کا سبب صرف دشمن، محرومی یا طاقت کی کمی نہیں، بلکہ وہ اندرونی اختلاف بھی ہے جو وحدتِ مقصد، وحدتِ شعور اور وحدتِ عمل کو کاٹ دیتا ہے۔
اس لیے یہ شعر ایک تشخیص بھی ہے اور ایک تنبیہ بھی۔
اختلاف کی نوعیت:
اقبال ہر علمی اختلاف کے خلاف نہیں ہیں۔ علمی تنوع، ذمہ دار بحث اور اصولی اجتہاد اپنی جگہ ایک زندہ روایت کا حصہ ہو سکتے ہیں۔ مگر یہاں “اختلاف” سے مراد وہ افتراق ہے جو انا، گروہ بندی، خود رائی، حسد، مرعوبیت، یا نظم شکنی سے پیدا ہو۔ ایسا اختلاف حقیقت کے لیے نہیں بلکہ غلبے، شناخت یا خواہش کے لیے ہوتا ہے۔
یہی اختلاف ملت کی جان کو نقصان پہنچاتا ہے۔
مقراضِ حیات کیوں:
“مقراض” قینچی کو کہتے ہیں، اور قینچی کا کام کاٹنا، الگ کرنا اور ایک شے کی پیوستگی ختم کرنا ہے۔ اقبال بڑی شدت سے بتاتے ہیں کہ بے مہار اختلاف ملت کے ریشے کاٹ دیتا ہے۔ دل الگ، جماعتیں الگ، منہج الگ، ترجیحات الگ، اور آخرکار امت کی مشترک زندگی بھی کمزور ہو جاتی ہے۔
یعنی اختلاف صرف فکری تناؤ نہیں رہتا، وہ حیات کے کپڑے کو چاک کرنے لگتا ہے۔
باب کے پورے استدلال سے ربط:
اس شعر سے پہلے اقبال نے تقلید، ضبط ملت، راه رفتگان، یک آئین اور نااہل راز داروں کا ذکر کیا۔ اب وہ بتاتے ہیں کہ ان سب پر اتنا زور کیوں تھا: اس لیے کہ اختلافِ مفسد حیات کو کاٹ دیتا ہے۔ جب امت کی تقویمِ حیات کمزور ہو تو اسے زیادہ ایسے راستوں کی ضرورت ہے جو جمعیت بنائیں، نہ کہ ایسے نعروں کی جو بساط الٹ دیں۔
گویا باب کا خلاصہ یہی ہے کہ انحطاط کے دور میں وحدت خود ایک علاج ہے۔
آج کے لیے سبق:
آج امت کے اندر مسلکی، گروہی، سیاسی، فکری اور شخصی اختلافات اس درجہ بڑھ جاتے ہیں کہ اصل دشمنی باہر سے پہلے اندر پیدا ہو جاتی ہے۔ اقبال یاد دلاتے ہیں کہ اگر یہ اختلاف اصولی ادب اور امت کے وسیع تر خیر کے تابع نہ رہا تو یہ حیات کی قینچی بن جائے گا۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم وحدت کو محض نعرہ نہ سمجھیں بلکہ بقا کی شرط سمجھیں۔
حیات کی نبض یہی کہتی ہے کہ بکھری ہوئی امت پہلے اختلاف کو قابو میں لائے، پھر بڑے خواب دیکھے۔
مثال
جیسے کپڑے کے دھاگے آپس میں جڑے ہوں تو لباس بنتا ہے، مگر قینچی چلتے ہی وہی کپڑا ٹکڑوں میں بٹ جاتا ہے، ویسے ہی اختلاف بھی ملت کی زندگی کو کاٹ سکتا ہے۔
خلاصہ
اقبال اس شعر میں واضح کرتے ہیں کہ ملت کی اندرونی افتراق انگیز کیفیت ہی اس کی زندگی کو کاٹ ڈالتی ہے۔ اسی لیے انحطاط کے دور میں جمعیت، ضبط اور ایک آئین سے وابستگی محض روایت نہیں بلکہ حیات کی ضرورت ہے۔