رموز بے خودی

ای که از اسرار دین بیگانه ئی

ای که از اسرار دین بیگانه ئی

با یک آئین ساز اگر فرزانه ئی

ترجمہ

اے وہ شخص جو دین کے اسرار سے نا آشنا ہے، اگر تو دانا ہے تو اپنے آپ کو ایک ہی آئین کے ساتھ سازگار بنا لے۔

تشریح

اس شعر میں علامہ اقبال انحطاط کے دور کے ایک عام فرد کو براہ راست نصیحت کرتے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں کہ اگر تو دین کے اسرار، اس کے گہرے مقاصد، اس کے باطنی توازن اور اس کی علمی باریکیوں سے ابھی نا آشنا ہے، تو دانش یہی ہے کہ اپنے آپ کو “یک آئین” کے ساتھ سازگار کر لے۔ یعنی ایک آزمودہ، مربوط، منضبط دینی سانچے سے وابستہ ہو جا۔ اس میں حکمت یہ ہے کہ بکھرا ہوا ذہن، بے راہ خواہش اور ادھوری معلومات مل کر انسان کو زیادہ فتنوں میں ڈال دیتی ہیں۔ شعر کے مطابق:

اسرارِ دین سے بیگانگی:

اسرارِ دین سے بیگانگی کا مطلب یہ نہیں کہ آدمی بالکل بے دین ہو، بلکہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اس کے پاس کچھ معلومات ہوں مگر دین کی روح، حکمت، مقاصد، باہمی ربط اور مراتب کا فہم نہ ہو۔ بہت سے لوگ الفاظ جانتے ہیں مگر وزن نہیں جانتے، نصوص پڑھتے ہیں مگر ان کے محل اور مناسبت کو نہیں پہچانتے۔ اقبال ایسے ہی شخص کو مخاطب کر رہے ہیں۔

اس لیے یہ خطاب تحقیر نہیں بلکہ خیرخواہانہ تنبیہ ہے۔

یک آئین کی حقیقت:

“یک آئین” سے مراد ایک مربوط راہ، ایک آزمودہ نظم، ایک منضبط دینی منہج ہے جس کے اندر اصول، آداب، فہم اور عمل میں باہمی موافقت پائی جاتی ہو۔ اقبال کے نزدیک انحطاط کے دور میں یہی چیز انسان کو ادھر ادھر کی بے ربط تعبیرات سے بچاتی ہے۔ ہر روز ایک نئی راہ اختیار کرنا اور ہر بات کو اپنے ذوق سے پرکھنا عام آدمی کے لیے ہلاکت کا سبب بن سکتا ہے۔

یک آئین انسان کو مرکز، پیمانہ اور سمت دیتا ہے۔

سازگار بننے کا مطلب:

اقبال صرف “پکڑ لینے” کی بات نہیں کرتے، بلکہ “ساز” ہونے کی بات کرتے ہیں۔ یعنی انسان اپنا دل، فکر، عادت، عمل اور مزاج اس منضبط راہ کے ساتھ ہم آہنگ کرے۔ اگر صرف رسمی وابستگی ہو اور باطن مزاحمت کرتا رہے تو آئین بوجھ بن جاتا ہے۔ لیکن جب دل اس سے سازگار ہو تو نظم انسان کی حفاظت کرتا ہے اور بتدریج اس کی شخصیت بھی سنوارتا ہے۔

یہی وہ تربیتی پہلو ہے جو اقبال کے تصورِ تقلید کو معنی خیز بناتا ہے۔

فرزانگی کا معیار:

یہاں “اگر فرزانه ئی” میں بڑا لطیف طنز بھی ہے اور حکمت بھی۔ اقبال کہہ رہے ہیں کہ اصل دانائی ہر چیز میں خود رائے بننا نہیں، بلکہ اپنی حد پہچاننا بھی ہے۔ جو اپنی علمی و روحانی حد کو جان لے اور محفوظ راہ اختیار کرے، وہی درحقیقت فرزانہ ہے۔ اور جو تھوڑے علم پر خود کو میزان سمجھنے لگے، وہ چاہے بہت ذہین ہو، حکیم نہیں۔

گویا تواضع بھی یہاں عقل کا حصہ ہے۔

آج کے لیے سبق:

آج اطلاعات کی فراوانی نے بہت سے لوگوں کو یہ گمان دے دیا ہے کہ وہ چند مطالعوں یا چند تقاریر سے دین کے گہرے راز تک پہنچ گئے ہیں۔ اقبال یاد دلاتے ہیں کہ اس ماحول میں یک آئین سے وابستگی اور بھی ضروری ہے۔ منضبط ورثہ، معتبر علمی راہ اور ایک مربوط دینی تربیت انسان کو فکری افراتفری سے بچاتی ہے۔

یہ شعر عام آدمی کو عاجزی، ربط اور محفوظ التزام کی طرف بلاتا ہے۔

مثال

جیسے کوئی نو آموز طالب علم ابتدا میں ایک استاد اور ایک منظم نصاب کے ساتھ چلے تو زیادہ محفوظ رہتا ہے، ویسے ہی دینی زندگی میں بھی بے ربط چکھنے کے بجائے ایک مضبوط آئین سے وابستگی بہتر ہے۔

خلاصہ

اقبال اس شعر میں اس شخص کو نصیحت کرتے ہیں جو دین کی گہرائیوں سے ابھی پوری طرح واقف نہیں۔ اس کے لیے دانش یہ ہے کہ وہ ایک آزمودہ، منضبط اور مربوط دینی آئین سے اپنے آپ کو ہم آہنگ کرے۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button