رموز بے خودی

ذوق جعفر کاوش رازی نماند

ذوق جعفر کاوش رازی نماند

آبروی ملت تازی نماند

ترجمہ

اگر جعفر جیسا ذوقِ تحقیق اور راز کی کھوج باقی نہ رہے، تو ملتِ تازی کی آبرو بھی باقی نہیں رہتی۔

تشریح

اس شعر میں علامہ اقبال امت کی علمی آبرو کے ایک بڑے ستون کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ “جعفر” سے مراد بالعموم امام جعفر صادق رحمہ اللہ کی وہ دقیق علمی بصیرت، روحانی گہرائی اور حقیقت شناس ذوق ہے جس نے اسلامی علمی روایت کو نہایت بلند معیار عطا کیا۔ اقبال فرماتے ہیں کہ اگر ایسا ذوقِ تحقیق، ایسی رازی کاوش، یعنی حقیقت کے پوشیدہ پہلوؤں کو کھولنے والی علمی و روحانی محنت باقی نہ رہے، تو پھر ملتِ تازی، یعنی ملتِ محمدیہ کی آبرو بھی قائم نہیں رہتی۔ شعر کے مطابق:

ذوقِ جعفر کا مفہوم:

یہاں “ذوق جعفر” سے مراد محض ایک فرد کی تعریف نہیں، بلکہ اس علمی ذوق کی علامت ہے جس میں قرآن و سنت کی گہرائی، عقل کی باریکی، روح کی صفائی اور حقیقت کی کھوج ایک ساتھ ملتی ہے۔ امام جعفر صادق رحمہ اللہ اسلامی روایت میں ایسے فہم کی علامت ہیں جو ظاہر تک محدود نہیں رہتا بلکہ باطن کی تہہ تک پہنچنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

اقبال کے نزدیک ایسی شخصیتیں امت کے علمی ذوق کا معیار بناتی ہیں، اور معیار کے گرنے سے پوری تہذیبی شان کمزور ہو جاتی ہے۔

کاوشِ رازی:

“کاوش رازی” کا مطلب ہے ایسے معانی کی کھوج جو سرسری نگاہ سے سامنے نہیں آتے۔ دین کے اندر اسرار، مقاصد، حکمتیں اور باطنی مناسبتیں ہوتی ہیں۔ ان تک پہنچنے کے لیے طہارتِ قلب، صبر، علمی اتقان اور ذمہ دار جستجو چاہیے۔ جب امت میں یہ رازی کاوش باقی نہ رہے تو دین یا تو نعرہ بن جاتا ہے یا جامد رسم۔

گویا اقبال صرف تقلید کی بات نہیں کر رہے، بلکہ اس تقلید کے پس منظر میں موجود اصل علمی وقار کو بھی یاد دلا رہے ہیں۔

ملتِ تازی کی آبرو:

“ملت تازی” سے مراد وہ امت ہے جس کی بنیاد عربی رسالت، قرآن مجید اور نبوی وراثت پر قائم ہوئی۔ اس کی آبرو صرف سیاسی طاقت یا عددی غلبے میں نہیں، بلکہ اس کے علم، اس کی تہذیب، اس کی روحانی بصیرت اور اس کی فکری امامت میں ہے۔ اگر یہی گہرائی جاتی رہے تو امت ظاہراً باقی رہ کر بھی باطناً اپنی آبرو کھو دیتی ہے۔

اقبال اسی لیے علمی سطحیت کو امت کی عزت کے لیے خطرہ سمجھتے ہیں۔

تحقیق اور تقلید کا ربط:

پہلی نظر میں لگ سکتا ہے کہ اقبال تقلید کی بات کرتے ہوئے یہاں تحقیق کا ذکر کیوں کر رہے ہیں۔ اصل میں ان کا استدلال یہ ہے کہ تقلید کا محفوظ سانچہ اسی علمی روایت کی بدولت قائم ہوا جسے جعفر جیسے اکابر نے اپنے ذوقِ تحقیق سے سنوارا۔ یعنی تقلید مردہ شے نہیں؛ وہ کبھی زندہ تحقیقی ورثے کا منضبط حاصل تھی۔ اگر ذوقِ جعفر مٹ جائے تو تقلید بھی محض بے جان رسم بننے لگتی ہے۔

اس لیے امت کو ایک ساتھ ورثے کی حفاظت بھی کرنی ہے اور اس کے گہرے علمی ذوق کی قدر بھی۔

آج کے لیے سبق:

آج امت کے علمی بحران کا ایک سبب یہ بھی ہے کہ گہری، باوقار، راز شناس تحقیق کم ہوتی جا رہی ہے اور اس کی جگہ یا تو شور نے لے لی ہے یا سطحی رد و قبول نے۔ اقبال یاد دلاتے ہیں کہ امت کی آبرو صرف جذبات سے نہیں، بلکہ ایسے علم سے قائم ہوتی ہے جس میں امام جعفر صادق رحمہ اللہ جیسی گہرائی، تقویٰ اور نفاست ہو۔

اگر یہ ذوق واپس نہ آیا تو علمی کمزوری تہذیبی بے آبروی میں بدلتی رہے گی۔

مثال

جیسے ایک عظیم عمارت کی شان صرف اس کے دروازوں سے نہیں بلکہ اس کے گہرے اور مضبوط ستونوں سے ہوتی ہے، ویسے ہی امت کی آبرو بھی گہرے علمی ستونوں سے قائم رہتی ہے۔

خلاصہ

اقبال اس شعر میں امت کی علمی آبرو کو ذوقِ جعفر اور رازی کاوش سے جوڑتے ہیں۔ جب گہرا، متقی اور حقیقت شناس علم کم ہو جاتا ہے تو ملتِ محمدیہ کی عزت بھی کمزور پڑنے لگتی ہے۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button