رموز بے خودی

بحر گم کردی زیان اندیش باش

بحر گم کردی زیان اندیش باش

حافظ جوی کم آب خویش باش

ترجمہ

تو اپنا سمندر کھو چکا ہے، اس نقصان کو سمجھ اور اپنی کم آب جوئے کو سنبھال کر رکھ۔

تشریح

اس شعر میں علامہ اقبال ملت کو اس کی تاریخی حالت کا تلخ مگر حکیمانہ شعور دیتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ تمہارے پاس جو کبھی “بحر” تھا، یعنی وسعت، قوت، گہرائی اور بھرپور زندگی کا سمندر، وہ اب باقی نہیں رہا۔ ایسے وقت میں پہلا فرض یہ ہے کہ انسان اپنے نقصان کو پہچانے، اس پر سنجیدگی سے غور کرے، اور جو تھوڑی بہت زندگی، روایت، ایمان اور اجتماعی قوت ابھی باقی ہے اسے ضائع نہ ہونے دے۔ اس لیے وہ فرماتے ہیں: اپنی کم آب جوئے کے محافظ بنو۔ شعر کے مطابق:

بحر گم کرنے کا مطلب:

بحر یہاں محض پانی کی کثرت نہیں بلکہ اس عروج کی علامت ہے جس میں امت کے پاس فکری وسعت، روحانی گہرائی، تہذیبی اعتماد، سیاسی قوت اور علمی حرکت موجود ہو۔ جب اقبال کہتے ہیں کہ تم بحر گم کر چکے ہو تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اب تم اسی قوت و فراوانی کی حالت میں نہیں رہے جس میں ہر سمت سے نئی نہریں خود نکلتی تھیں۔

یہ اعتراف مایوسی کے لیے نہیں بلکہ حقیقت شناسی کے لیے ہے۔ جسے اپنے نقصان کا اندازہ نہیں ہوتا وہ بچے ہوئے سرمائے کو بھی کھو دیتا ہے۔

زیان اندیشی کی ضرورت:

“زیان اندیش” ہونا اقبال کے ہاں بزدلی نہیں بلکہ ذمہ داری ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آدمی اپنی حالت کے بارے میں دھوکے میں نہ رہے۔ وہ کھوئی ہوئی قوت کو موجود فرض کر کے فیصلے نہ کرے، بلکہ یہ دیکھے کہ اب حقیقتاً اس کے ہاتھ میں کیا باقی ہے۔ یہی سنجیدہ شعور حکمت کی ابتدا ہے۔

جس قوم کو اپنے زیاں کا احساس ہوتا ہے وہ بے جا دعووں اور غیر ذمہ دار تجربوں سے بچ سکتی ہے۔

جوی کم آب کی علامت:

“جوی کم آب” باقی ماندہ زندگی کی علامت ہے۔ یہ وہ تھوڑا سا علمی سرمایہ، دینی ربط، اخلاقی روشنی، فقہی نظم اور تہذیبی شعور ہے جو انحطاط کے باوجود ملت میں موجود رہتا ہے۔ اگرچہ یہ بحر نہیں، مگر یہی بقا کا سرمایہ ہے۔ اقبال کہتے ہیں کہ ابھی اس کی حفاظت کرو، اسی میں آئندہ تعمیر کے امکان چھپے ہیں۔

جو قوم اپنے چھوٹے چشموں کی حفاظت نہیں کرتی وہ دوبارہ سمندر بھی حاصل نہیں کر سکتی۔

حافظ بننے کا مطالبہ:

اقبال صرف اتنا نہیں کہتے کہ جو باقی ہے اسے دیکھو، بلکہ یہ بھی کہتے ہیں کہ اس کے “حافظ” بنو۔ حافظ ہونے کا مطلب ہے نگرانی، پاسبانی، قدردانی اور دفاع۔ اپنے بچے ہوئے ورثے کی حفاظت کرنا بھی ایک عظیم عمل ہے۔ زوال کے دور میں یہی حفاظت بسا اوقات تخلیق سے زیادہ ضروری ہوتی ہے۔

اس میں زبان کی پاسبانی بھی آتی ہے، دینی مزاج کی حفاظت بھی، اور وہ اجتماعی ربط بھی جس سے ملت کا کمزور سا بہاؤ جاری رہتا ہے۔

آج کے لیے سبق:

آج امت کے بہت سے طبقے بڑی بڑی باتیں تو کرتے ہیں، مگر اپنے بچے ہوئے سرمائے کی حفاظت نہیں کرتے۔ گھروں، مدارس، مساجد، خاندانوں، زبانوں اور اخلاقی عادتوں میں جو تھوڑی بہت قرآنی روشنی باقی ہے، وہی جوی کم آب ہے۔ اگر اسے بھی تحقیر کی نظر سے دیکھا گیا تو پھر ہاتھ میں کچھ نہ رہے گا۔

اقبال کا سبق یہ ہے کہ پہلے بچے ہوئے رس کو محفوظ کرو، پھر اسی سے آئندہ وسعت پیدا ہوگی۔

مثال

جیسے کوئی شخص بڑا سرمایہ گنوا بیٹھے تو کم از کم اپنی باقی ماندہ پونجی کو سنبھالتا ہے، ویسے ہی زوال یافتہ ملت کو اپنی جوی کم آب کی حفاظت کرنی چاہیے۔

خلاصہ

اقبال اس شعر میں امت کو حقیقت شناسی اور پاسبانی کی تعلیم دیتے ہیں۔ جب بحر ہاتھ سے نکل جائے تو باقی ماندہ جوئے کی حفاظت ہی مستقبل کی تعمیر کا پہلا قدم بنتی ہے۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button