رموز بے خودی

مضمحل گردد چو تقویم حیات

مضمحل گردد چو تقویم حیات

ملت از تقلید می گیرد ثبات

ترجمہ

جب زندگی کی اصل ترتیب کمزور اور مضمحل ہو جاتی ہے، تو ملت تقلید ہی سے ثبات حاصل کرتی ہے۔

تشریح

یہ شعر پورے باب کے عنوان کی کلید ہے۔ علامہ اقبال یہاں ایک نہایت نازک مگر اہم امتیاز قائم کرتے ہیں۔ وہ مطلق طور پر تقلید کو مثالی حالت نہیں کہتے، بلکہ یہ بتاتے ہیں کہ “چو تقویم حیات” یعنی جب زندگی کی اصل ترتیب، اس کی داخلی قوت، اس کا منظم سانچہ اور اس کی سالم ساخت مضمحل ہو جائے، تب ملت اپنے وجود کو بچانے کے لیے تقلید سے ثبات لیتی ہے۔ گویا یہ انحطاط کے زمانے کا علاجی اصول ہے، نہ کہ دائمی کمال۔ شعر کے مطابق:

تقویمِ حیات:

تقویم یہاں محض کیلنڈر نہیں، بلکہ حیات کی ترتیب، توازن، ساخت اور داخلی میزان کا مفہوم رکھتی ہے۔ جب کسی ملت کے اندر علم، خودی، اجتہادی قوت، اخلاقی استحکام، اور اجتماعی نظم سب زندہ ہوں تو اس کی تقویمِ حیات قائم ہوتی ہے۔ وہ اپنے مسائل کا سامنا تخلیقی اور زندہ انداز میں کر سکتی ہے۔

لیکن جب یہ ساری چیزیں کمزور پڑ جائیں، جب روحانی حرارت بجھنے لگے، جب قیادت کھوکھلی ہو جائے اور فکری قوت منتشر ہو جائے، تو تقویمِ حیات مضمحل ہو جاتی ہے۔

مضمحل ہونے کا مطلب:

مضمحل ہونا صرف کمزور ہونا نہیں، بلکہ رفتہ رفتہ تحلیل ہونا، اپنی صورت کھونا اور اندر سے بکھرنے لگنا ہے۔ ملت اس حالت میں اپنے اصولوں کو نئی قوت سے برآمد کرنے، تخلیقی اجتہاد کرنے یا نئے سانچے پیدا کرنے کے قابل نہیں رہتی۔ ایسے وقت میں ہر نئی حرکت اگر بے مرکز ہو تو مزید فساد پیدا کر سکتی ہے۔

اقبال اسی خطرے کو دیکھتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ انحطاط کے دور میں نا پختہ اجتہاد کبھی کبھی مرمت کے بجائے مزید ٹوٹ پھوٹ کا باعث بنتا ہے۔

تقلید سے ثبات:

یہاں تقلید سے مراد اندھی جمود پسند پیروی نہیں، بلکہ اس محفوظ اور آزمودہ سانچے سے وابستگی ہے جو ملت کو مکمل بکھرنے سے بچا سکے۔ یعنی جب اپنی قوتِ ترتیب کمزور ہو تو کم از کم اس ورثے کو مضبوطی سے پکڑے رہو جو تمہاری اجتماعی ہیئت کو محفوظ رکھتا ہے۔ اس طرح تقلید عارضی استحکام، ضبط اور اجتماعی وحدت کا ذریعہ بنتی ہے۔

اقبال کا مقصد یہ نہیں کہ اجتہاد کی راہ ہمیشہ بند رہے، بلکہ یہ کہ اجتہاد کے لیے پہلے وہ روحانی اور فکری قوت واپس آنی چاہیے جو ذمہ دار تخلیق کو ممکن بنائے۔

انحطاط کے دور کی حکمت:

اس شعر میں اقبال کی عملی بصیرت سامنے آتی ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ ہر دور ایک جیسا نہیں ہوتا۔ عروج کے زمانے میں اجتہاد امت کی زندگی کی علامت ہو سکتا ہے، مگر زوال کے دور میں جب ارکانِ حیات ڈھیلے پڑ جائیں تو بے بنیاد تجدید کے دعوے خطرناک ہو سکتے ہیں۔ ایسے میں پہلے ثبات، ضبط اور بقا چاہیے۔

گویا تقلید یہاں روحِ مردہ نہیں بلکہ بکھراؤ کے مقابل ایک حفاظتی دیوار بن جاتی ہے۔

آج کے لیے سبق:

آج امت کو یہ فرق سمجھنے کی شدید ضرورت ہے کہ زندہ اجتہاد اور بے بنیاد خود رائی ایک نہیں۔ اگر ہم اپنی فکری کمزوری، دینی بے وزنی اور تہذیبی انحطاط کو نظر انداز کر کے ہر شخص کو اپنا نیا سانچہ گھڑنے کی اجازت دیں تو مزید پراگندگی پیدا ہوگی۔ اقبال کا شعر ہمیں احتیاط، تواضع اور مرحلہ شناسی سکھاتا ہے۔

پہلے حیات کی تقویم کو سنبھالو، پھر اجتہاد کی حقیقی قوت پیدا ہوگی۔ تب تک تقلید ایک عارضی سہارا ہے جو ملت کو ٹوٹنے سے بچا سکتا ہے۔

مثال

جیسے ایک شدید زخمی مریض کو پہلے اسٹیبل کرنا ضروری ہوتا ہے، پھر پیچیدہ علاج کی باری آتی ہے، ویسے ہی مضمحل ملت کو پہلے ثبات درکار ہوتا ہے، پھر اجتہادی تخلیق کی نوبت آتی ہے۔

خلاصہ

اقبال اس شعر میں واضح کرتے ہیں کہ جب ملت کی زندگی کی اندرونی ترتیب کمزور ہو جائے تو اسے ثبات کے لیے آزمودہ ورثے سے جڑنا پڑتا ہے۔ اس معنی میں تقلید انحطاط کے دور کی حفاظتی حکمت بن جاتی ہے، نہ کہ دائمی کمال۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button