عهد حاضر فتنه ها زیر سر است
عهد حاضر فتنه ها زیر سر است
طبع ناپروای او آفت گر است
ترجمہ
موجودہ زمانہ طرح طرح کے فتنوں کی جڑ ہے، اور اس کی بے پروا طبیعت تباہی پیدا کرنے والی ہے۔
تشریح
علامہ اقبال اس شعر میں اپنے عہد کی فکری، تہذیبی اور روحانی فضا کا ایک سخت مگر نہایت بامعنی تجزیہ کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ دور محض تبدیلی کا دور نہیں بلکہ فتنوں کا سرچشمہ ہے۔ “زیر سر” کے الفاظ سے مراد یہ ہے کہ فساد، الجھن، انتشار اور بگاڑ کا اصل محرک یہی زمانہ بن گیا ہے۔ پھر وہ اس دور کی “طبع ناپروا” کی طرف اشارہ کرتے ہیں، یعنی ایک ایسا مزاج جو حدود سے بے نیاز، نتائج سے بے فکر، اور ذمہ داری سے خالی ہو۔ اقبال کے نزدیک ایسی بے پروا طبیعت محض آزاد نہیں بلکہ آفت گر ہوتی ہے۔ شعر کے مطابق:
عہدِ حاضر کا فتنه زا مزاج:
اقبال کے ہاں “عہد حاضر” صرف کیلنڈر کے ایک زمانے کا نام نہیں، بلکہ ایک ذہنی و تہذیبی کیفیت کا نام ہے۔ یہ وہ دور ہے جس میں قدیم سہارے ٹوٹ رہے ہیں، نئے سانچے بن رہے ہیں، مگر ان سانچوں میں حق کا توازن کمزور پڑ گیا ہے۔ انسان اپنے آپ کو زیادہ خود مختار سمجھ رہا ہے، مگر اسی کے ساتھ اس کی روحانی بنیاد کمزور ہو رہی ہے۔
ایسے زمانے میں فتنے صرف میدانِ جنگ میں نہیں اٹھتے، بلکہ فکر، اخلاق، تعلیم، معیشت، سیاست اور تہذیب کے اندر بھی جنم لیتے ہیں۔ اقبال اسی ہمہ گیر بگاڑ کی طرف متوجہ ہیں۔
زیر سر ہونے کا مفہوم:
جب کہا جاتا ہے کہ فتنے اس زمانے کے زیر سر ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ فساد محض اتفاقی نہیں بلکہ اس دور کے باطن میں کچھ ایسا ہے جو بگاڑ کو جنم دیتا ہے۔ یہ بگاڑ کبھی آزادی کے نام پر، کبھی ترقی کے نام پر، کبھی نئی تعبیر کے نام پر، اور کبھی روایت شکنی کے نام پر سامنے آتا ہے۔
گویا مسئلہ صرف چند افراد کا نہیں، بلکہ ایک پورا ذہنی ماحول ہے جو انسان کو اصل مرکز سے ہٹا کر خود سری کی طرف لے جا رہا ہے۔
طبعِ ناپروا:
ناپروائی اقبال کے نزدیک ایک اخلاقی بیماری ہے۔ یہ صرف جرأت نہیں، بلکہ ایسی بے باکی ہے جو حدودِ حق کو خاطر میں نہ لائے۔ جب کوئی دور اپنے آپ کو ہر سابقہ معیار سے بالاتر سمجھنے لگے، وحی کے بجائے صرف خواہش یا تجربے کو کافی سمجھے، اور اپنی اختراع کو آخری سچ ماننے لگے تو اس کی طبع ناپروا ہو جاتی ہے۔
ایسی طبیعت بظاہر تخلیقی یا جدید معلوم ہو سکتی ہے، مگر چونکہ اس کے پاس ربانی میزان نہیں ہوتا، اس لیے وہ تعمیر سے زیادہ تخریب کا سبب بن جاتی ہے۔
آفت گر کیوں؟
اقبال اس دور کو آفت گر اس لیے کہتے ہیں کہ یہ انسان کے ہاتھ سے وہ قوتیں چھین لیتا ہے جو اسے باطن میں جمع رکھتی ہیں: حیا، حدود، تواضع، بندگی، روایت سے ربط، اور قرآنی مرکزیت۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ فرد آزاد تو ہو جاتا ہے مگر منتشر بھی، اور ملت متحرک تو رہتی ہے مگر بے ربط ہو جاتی ہے۔
آفت گری کی اصل صورت یہی ہے کہ وہ چیز جو خیر کے نام پر آئے، عملاً خیر کی بنیادیں ہی کمزور کر دے۔
آج کے لیے سبق:
آج بھی بہت سے لوگ ہر نئی چیز کو محض نیا ہونے کی وجہ سے بہتر سمجھ لیتے ہیں۔ اقبال کا شعر ہمیں احتیاط سکھاتا ہے کہ ہر تبدیلی اصلاح نہیں ہوتی، اور ہر جرأت حکمت نہیں ہوتی۔ خاص طور پر انحطاط کے زمانے میں یہ دیکھنا ضروری ہے کہ کون سی چیز واقعی احیا لاتی ہے اور کون سی صرف بگاڑ کو خوبصورت نام دیتی ہے۔
اگر امت اپنی حفاظت چاہتی ہے تو اسے عہد حاضر کے فتنہ انگیز مزاج کو پہچاننا ہوگا اور اپنی فکری و روحانی بنیادوں کو اس کے مقابل مضبوط کرنا ہوگا۔
مثال
جیسے ایک بیماری اگر میٹھی دوا کے نام سے پھیلائی جائے تو لوگ ابتدا میں اسے نفع سمجھ سکتے ہیں، مگر بعد میں اس کے اثرات ظاہر ہوتے ہیں، ویسے ہی فتنے بھی اکثر خوبصورت نعروں کے ساتھ آتے ہیں۔
خلاصہ
اقبال اس شعر میں موجودہ زمانے کو فتنہ انگیز اور بے پروا مزاج قرار دیتے ہیں۔ ان کے نزدیک ایسا دور تعمیر کے بجائے تباہی کو جنم دیتا ہے، اس لیے امت کے لیے ضروری ہے کہ وہ اس کے اثرات کو پہچان کر اپنی اصل بنیادوں کی حفاظت کرے۔