رموز بے خودی

شهر ها از گرد پایش ریختند

شهر ها از گرد پایش ریختند

صد چمن از یک گلش انگیختند

ترجمہ

اس کے قدموں کی خاک سے شہر آباد ہو گئے، اور اس کے ایک ہی پھول سے سیکڑوں باغ اٹھ کھڑے ہوئے۔

تشریح

اس شعر میں علامہ اقبال قرآنی انسان کی تہذیبی زرخیزی کو اپنی انتہائی خوبصورت شکل میں بیان کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اس کے قدموں کی گرد سے شہر پیدا ہوئے اور اس کے ایک پھول سے سو باغ اٹھ کھڑے ہوئے۔ یعنی یہ محض ایک فرد یا ایک محدود واقعہ نہ تھا، بلکہ ایک ایسی زندگی، ایک ایسی تہذیبی قوت اور ایک ایسا روحانی مرکز تھا جس کے اثر سے پوری دنیائیں آباد ہوئیں، شہر بسے، علوم پھیلے، تہذیبیں اٹھیں، اور حسن و ترتیب کے نئے باغ بنے۔ شعر کے مطابق:

گردِ پا کی برکت:

“گرد پایش” فروتنی، حرکت اور اثرِ قدم کی علامت ہے۔ قدموں کی خاک خود بڑی چیز نہیں سمجھی جاتی، مگر اقبال کہتے ہیں کہ اسی گرد سے شہر بنے۔ اس میں اشارہ ہے کہ قرآنی انسان کی معمولی ترین حرکت بھی زرخیز تھی۔ اس کی چلنے کی سمت، اس کے سفر، اس کی ہجرت، اس کی کوششیں اور اس کا قافلہ تاریخ کے لیے آبادیاں پیدا کر گیا۔

یہی وجہ ہے کہ اسلام کی فتوحات کو اقبال صرف عسکری واقعات نہیں سمجھتے، بلکہ انہیں تہذیبی آباد کاری کے عمل کے طور پر بھی دیکھتے ہیں۔

شہر کا مفہوم:

شہر یہاں صرف عمارتوں کا مجموعہ نہیں، بلکہ قانون، علم، بازار، مسجد، مدرسہ، تہذیب، فن، ادارہ اور اجتماع کے نظم کی علامت ہے۔ جب اقبال کہتے ہیں کہ شہر اس کی گردِ پا سے ریختند، تو مطلب یہ ہے کہ قرآنی انسان جہاں گیا، وہاں بامعنی عمرانی زندگی پیدا ہوئی۔

اس کے قدم محض فاتح کے قدم نہ تھے، بلکہ معمار کے قدم تھے۔ وہ زمین پر صرف چلتا نہیں، اس پر نئی تہذیبی صورت بھی قائم کرتا تھا۔

ایک گل سے صد چمن:

یہ مصرعہ کثرتِ اثر کا استعارہ ہے۔ ایک گل یعنی ایک اصل روح، ایک مرکزی سرچشمہ، ایک ابتدائی قرآنی انسان؛ اور صد چمن یعنی بے شمار تہذیبی، علمی، اخلاقی اور روحانی نتائج۔ اقبال بتاتے ہیں کہ اصل اگر زندہ ہو تو اس کے اثرات محدود نہیں رہتے۔ ایک سچا انسان، ایک زندہ مرکز، ایک صالح نسل، ایک روشن فکر پوری تاریخ میں کئی باغ پیدا کر سکتی ہے۔

اس میں یہ نکتہ بھی ہے کہ اسلام کی اصل روح اپنی ذات میں مختصر مگر اپنی تاثیر میں بے حد وسیع تھی۔

زرخیزیِ وحی:

یہ شعر اس حقیقت کو سامنے لاتا ہے کہ وحی بانجھ نہیں ہوتی۔ جہاں واقعی قرآنی زندگی پیدا ہو، وہاں اس سے علم، عدل، جمال، تہذیب، اخوت اور تعمیر کے کئی میدان کھلتے ہیں۔ اس لیے اقبال کے نزدیک قرآن کا اثر صرف مسجد تک محدود نہیں، بلکہ بازار، مدرسہ، عدالت، خانقاہ، لشکر، ادب اور فن سب میں ظاہر ہونا چاہیے۔

قرآنی انسان کا ایک قدم اگر زرخیز ہو تو اس کی نسلیں، ادارے اور معاشرتی آثار بھی زرخیز ہوتے ہیں۔

امت کے لیے پیغام:

امت اگر دوبارہ اپنی اصل روح سے جڑ جائے تو اس کے اثرات بھی دوبارہ وسیع ہو سکتے ہیں۔ اقبال ہمیں ماضی کے فخر کے لیے نہیں، مستقبل کی ذمہ داری کے لیے یہ منظر دکھاتے ہیں۔ سوال یہ ہے: کیا ہمارے قدم آج بھی شہر آباد کرتے ہیں یا صرف گرد اٹھا کر بیٹھ جاتے ہیں؟ کیا ہمارے ایک گل سے چمن بنتے ہیں یا ہم خود اپنی خوشبو سے محروم ہیں؟

یہ شعر امت کو اپنے اثر، اپنی تہذیبی ذمہ داری اور اپنی زرخیزی کا شعور دیتا ہے۔

آج کے لیے سبق:

آج مسلمانوں کی ایک بڑی ضرورت یہ ہے کہ وہ اپنے دین کو محض دفاعی شناخت کے طور پر نہ جئیں، بلکہ اسے تمدنی اور تعمیری قوت بنائیں۔ اقبال کا یہ شعر بتاتا ہے کہ جب قرآن سے بنے ہوئے انسان میدان میں آتے ہیں تو ان کے قدموں سے شہر، اور ان کی روح سے باغ پیدا ہوتے ہیں۔

اگر امت اپنے اندر ایسے انسان پھر سے پیدا کرے تو اس کی موجودہ کمزوری بھی نئی عمرانی اور فکری زندگی میں بدل سکتی ہے۔

مثال

جیسے ایک سچا تعلیمی معلم صرف چند شاگرد نہیں بناتا بلکہ ان شاگردوں کے ذریعے کئی ادارے، کئی ذہن اور کئی نئی روایات پیدا ہو جاتی ہیں، ویسے ہی زندہ قرآنی انسان ایک گل ہو کر کئی چمنوں کی بنیاد بن سکتا ہے۔

خلاصہ

اقبال اس شعر میں قرآنی انسان کی تہذیبی زرخیزی بیان کرتے ہیں: اس کے قدموں سے شہر آباد ہوتے ہیں اور اس کی اصل روح سے بے شمار باغ اٹھتے ہیں۔ یہ محض سیاسی غلبہ نہیں بلکہ وسیع تعمیری اور تمدنی اثر کی علامت ہے۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button