رموز بے خودی

دشت سیر از بام و در ناآشنا

دشت سیر از بام و در ناآشنا

هرزه گردد از حضر ناآشنا

ترجمہ

جو صحرا میں پھرنے والا ہو اور گھر و در کی تہذیب سے نا آشنا ہو، وہ شہری آبادی میں آ کر بے سمت اور آوارہ سا ہو جاتا ہے۔

تشریح

علامہ اقبال اس شعر میں عربِ بدوی کی اس فطری کیفیت کا ذکر کرتے ہیں جو ابھی کسی منظم تہذیب، شہری آداب اور باقاعدہ اجتماعی ڈھانچے میں پوری طرح ڈھلی ہوئی نہ تھی۔ “دشت سیر” یعنی صحرا نورد، کھلے میدانوں کا خوگر، آزاد فضا کا انسان۔ “بام و در ناآشنا” یعنی گھر، دروازے، شہری سکونت اور تہذیبی قیام کے انداز سے پوری طرح مانوس نہیں۔ اقبال کہتے ہیں کہ ایسا انسان جب حضر، یعنی شہری اور آباد زندگی میں آتا ہے، تو اگر اس کے پاس کوئی بلند تر مرکز نہ ہو تو وہ “ہرزہ” ہو جاتا ہے، یعنی بے سمت، پریشان، اور اپنی خام آزادی کا اسیر۔ شعر کے مطابق:

دشت سیر کی نفسیات:

صحرا میں پلنے والا انسان ایک خاص مزاج رکھتا ہے: وہ کھلی فضا کا عادی ہوتا ہے، فوری ردعمل رکھتا ہے، حرکت پسند ہوتا ہے، جفاکش ہوتا ہے، اور اس کے اندر مصنوعی تکلف کم ہوتا ہے۔ مگر یہی صفات اگر کسی اعلیٰ اصول، نظم اور مقصد کے تابع نہ ہوں تو وہ تہذیب سازی کے بجائے محض بے قاعدہ حرکت میں بدل سکتی ہیں۔

اقبال بدوی انسان کی اس خام طاقت کو منفی نہیں کہتے، بلکہ اس کے عدمِ نظم کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ گویا مادہ قوی ہے، مگر ابھی اس کے لیے مناسب صورت درکار ہے۔

بام و در سے نا آشنائی:

بام و در یہاں صرف مکان کی علامت نہیں بلکہ تہذیب، استقرار، اجتماع، قانون اور شہری نظم کی علامت بھی ہے۔ جو انسان ان چیزوں سے نا آشنا ہو، وہ شہری زندگی میں داخل ہو کر ابتدا میں بے آرام ہوتا ہے۔ اس کی فطرت ابھی اس قسم کے ٹھہراؤ، تناسب اور ادارتی زندگی کے لیے پوری طرح تربیت یافتہ نہیں ہوتی۔

اس لیے اقبال یہاں خام بدویت اور منظم حضریت کے درمیان فاصلے کو نمایاں کرتے ہیں۔ بدوی قوت عظیم ہو سکتی ہے، مگر اس کے لیے ایک ایسے آئین کی ضرورت ہوتی ہے جو اسے تہذیب میں بدل سکے۔

حضر میں ہرزگی:

“هرزه گردد” کا مطلب یہ نہیں کہ وہ شخص لازماً اخلاقی بگاڑ میں پڑ جائے، بلکہ یہ بھی کہ وہ بے مقصد، بے ربط اور بے جا حرکت کا شکار ہو جائے۔ جب فطرت کے اندر طاقت ہو مگر سمت نہ ہو، تو حضر کی دنیا میں بھی وہ بکھر جاتی ہے۔ نہ وہ پوری طرح شہری بنتا ہے، نہ اپنی اصلی حرکت کو تعمیری رخ دیتا ہے۔

یہی وہ مقام ہے جہاں اقبال قرآن کی ضرورت دکھاتے ہیں۔ محض شہر میں آ جانے سے تہذیب نہیں بنتی۔ تہذیب اس وقت بنتی ہے جب فطری قوت ایک ربانی مرکز سے منظم ہو۔

خام آزادی کی حد:

اس شعر میں ایک لطیف تنقید جدید انسان پر بھی پڑتی ہے۔ بہت سے لوگ آزادی کو بے قاعدگی سمجھتے ہیں، اور سمجھتے ہیں کہ بندش سے انکار ہی کمال ہے۔ مگر اقبال بتاتے ہیں کہ محض کھلی فضا، محض حرکت، محض بے تکلفی کافی نہیں۔ اگر ان سب کے پیچھے حکمت، نظم اور اعلیٰ مقصد نہ ہو تو نتیجہ ہرزگی ہی نکلتا ہے۔

یعنی خام آزادی تہذیب پیدا نہیں کرتی؛ وہ کبھی کبھی صرف ناآشنائی کی شدت میں بکھر جاتی ہے۔

قرآن کی ضرورت:

یہ شعر دراصل اگلے شعر کی تمہید ہے۔ صحرا نورد انسان کیوں بدلا؟ اس کی بے تابی کیوں تھمی؟ اس کی خام حرکت کیوں تہذیبی قوت بنی؟ جواب یہی ہے کہ اس کے دل نے “گرمی قرآن” محسوس کی۔ اقبال دکھاتے ہیں کہ انسانی طبیعت میں محض ماحول کی تبدیلی سے نہیں، مرکز کی تبدیلی سے انقلاب آتا ہے۔

صحرا نوردی، حرکت، حرارت اور آزادی، یہ سب جب قرآن سے جڑیں تو امت بنتی ہے؛ اور جب قرآن سے کٹیں تو ہرزگی پیدا ہو سکتی ہے۔

آج کے لیے سبق:

آج امت کے اندر بھی بے شمار توانائیاں ہیں: نوجوانی، حرکت، بے چینی، جوش، انفرادی قوت۔ مگر اگر ان کے پاس کوئی واضح ربانی مرکز نہ ہو تو وہ یا تو ردعمل میں ضائع ہوں گی یا شہری و تہذیبی فضا میں بے سمت بکھر جائیں گی۔ اقبال کا شعر بتاتا ہے کہ فطری طاقت کافی نہیں، اس کی تنظیم اور تطہیر بھی لازم ہے۔

اس لیے آج کی مسلم بیداری کو محض جذبات سے نہیں بلکہ قرآن کے عطا کردہ نظم سے جڑنا ہوگا، ورنہ دشت سیر انسان حضر میں آ کر بھی آوارگی سے نہیں بچ سکے گا۔

مثال

جیسے ایک بہت طاقتور مگر غیر تربیت یافتہ گھوڑا میدان میں تو تیز دوڑ سکتا ہے، لیکن بغیر مہارت اور لگام کے شہر کی سڑک پر خطرہ بن جاتا ہے، ویسے ہی خام انسانی طاقت کو بھی صحیح سمت درکار ہوتی ہے۔

خلاصہ

اقبال اس شعر میں دکھاتے ہیں کہ صحرا نورد انسان اگر کسی اعلیٰ نظم سے محروم ہو تو شہری زندگی میں بے سمت ہو سکتا ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ خام قوت کو تہذیب میں بدلنے کے لیے قرآنی مرکز اور آئینی تربیت ضروری ہے۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button