رموز بے خودی

آن کتاب زنده قرآن حکیم

آن کتاب زنده قرآن حکیم

حکمت او لایزال است و قدیم

ترجمہ

وہ زندہ کتاب قرآنِ حکیم ہے، اور اس کی حکمت لازوال بھی ہے اور ازلی حقیقت سے وابستہ بھی۔

تشریح

پچھلے شعر کے سوال کا جواب اقبال اس شعر میں پوری قطعیت کے ساتھ دیتے ہیں: مسلمان کا آئین قرآنِ حکیم ہے۔ مگر وہ صرف “کتاب” نہیں کہتے، بلکہ “کتاب زنده” کہتے ہیں۔ یعنی قرآن ایسی کتاب نہیں جو ماضی کی کسی الماری میں رکھی ہوئی ہو، نہ محض رسمی تلاوت کے لیے ہو، بلکہ ایک زندہ حقیقت ہے جو دلوں، عقلوں، تہذیبوں اور تاریخوں کو بدلنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ پھر اقبال اس کی حکمت کو “لایزال” اور “قدیم” کہتے ہیں، یعنی وہ ایسی حکمت ہے جو زمانوں کے بدلنے سے فرسودہ نہیں ہوتی اور جس کی جڑ انسانی ذہن کی عارضی ایجاد میں نہیں بلکہ حق کی ابدی حقیقت میں ہے۔ شعر کے مطابق:

کتابِ زندہ:

کسی کتاب کو زندہ کہنا معمولی بات نہیں۔ زندہ چیز اثر رکھتی ہے، جواب دیتی ہے، رہنمائی کرتی ہے، حرکت پیدا کرتی ہے اور حالات کے اندر بھی اپنی معنویت قائم رکھتی ہے۔ اقبال کے نزدیک قرآن کا زندہ ہونا اس بات کا اعلان ہے کہ وہ صرف ماضی کا ورثہ نہیں بلکہ حال اور مستقبل کا بھی رہنما ہے۔

اگر امت اسے زندہ کتاب کے طور پر پڑھے تو اسے اپنے زمانے کے سوالوں کے درمیان بھی نور، معیار اور سمت مل سکتی ہے۔ لیکن اگر اسے صرف برکت کی ایک بے معنی رسم بنا دیا جائے تو زندہ کتاب کے ساتھ مردہ سلوک ہو جاتا ہے۔

قرآنِ حکیم:

“حکیم” کا وصف بتاتا ہے کہ قرآن میں محض احکام نہیں بلکہ گہری حکمت، موقع شناسی، توازن، مقصدیت اور وجودی بصیرت موجود ہے۔ یہ انسان کو صرف یہ نہیں بتاتا کہ کیا کرنا ہے، بلکہ یہ بھی سمجھاتا ہے کہ زندگی کی حقیقت کیا ہے، خیر کس میں ہے، فساد کیسے جنم لیتا ہے، اور انسان اپنے رب، اپنے نفس اور اپنے معاشرے کے ساتھ کیسا تعلق قائم کرے۔

اسی لیے قرآن کا آئین ہونا محض قانون کا آئین ہونا نہیں، بلکہ حکمت کا آئین ہونا ہے۔ اس میں ضابطہ بھی ہے، روح بھی، عدل بھی، رحمت بھی، اور حیات کے مختلف پہلوؤں کے درمیان تناسب بھی۔

لایزال حکمت:

“لایزال” کا مطلب ہے جو ختم ہونے والا نہ ہو، جس کی تابندگی وقتی نہ ہو۔ اقبال اس لفظ کے ذریعے واضح کرتے ہیں کہ قرآن کی حکمت کسی خاص سیاسی عہد، کسی خاص جغرافیے یا کسی تاریخی مرحلے تک محدود نہیں۔ زمانے بدل سکتے ہیں، مگر انسان کے وجودی سوال، اخلاقی بحران اور اجتماعی ضرورتیں دوبارہ اسی سرچشمے کی طرف لوٹتی ہیں۔

اسی وجہ سے قرآن ہر دور کے لیے تازگی رکھتا ہے۔ اس کی روشنی وقت کی گرد سے بجھتی نہیں، بلکہ وقت ہی اس کی ضرورت کو بار بار ثابت کرتا ہے۔

قدیم کا مفہوم:

“قدیم” یہاں فرسودہ کے معنی میں نہیں، بلکہ اس حقیقت کے معنی میں ہے جو اصل سے وابستہ ہو، جو حادثاتی نہ ہو، جو ازلی حکمت کی طرف رہنمائی کرے۔ اقبال کے نزدیک قرآن کی حکمت کا قدیم ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ وہ انسانی تجربات کے اوپر ایک ایسے ربانی علم سے جڑی ہے جو زمانے کی گرفت میں نہیں آتا۔

اس لیے قرآن نہ صرف نئے زمانوں سے ہم کلام ہو سکتا ہے بلکہ ان پر معیار بھی قائم کر سکتا ہے۔ وہ خود زمانے کے تابع نہیں، بلکہ زمانے کو پرکھنے کا پیمانہ ہے۔

آج کے لیے سبق:

آج اگر مسلمان اپنے آئین کی تلاش میں مغرب و مشرق کے مختلف فکری سانچوں میں بھٹک رہے ہوں تو اقبال ان کی توجہ پھر قرآن کی طرف دلاتے ہیں۔ لیکن یہ رجوع محض تلاوتِ بے فہم تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔ زندہ کتاب سے زندہ تعلق چاہیے: تدبر، اطاعت، انطباق اور اس کی حکمت کو اپنی اجتماعی زندگی میں جاری کرنے کی کوشش۔

جب امت قرآن کو زندہ کتاب سمجھے گی تو وہ اس سے صرف اجر نہیں بلکہ نظام، شعور، وقار اور مستقبل بھی حاصل کرے گی۔

مثال

جیسے ایک سچا استاد اپنی تحریر کے بعد بھی نسلوں کی رہنمائی کرتا رہتا ہے، لیکن قرآن اس سے کہیں بڑھ کر زندہ کتاب ہے جو صرف معلومات نہیں دیتی بلکہ زندگی کی سمت بھی متعین کرتی ہے۔

خلاصہ

اقبال اس شعر میں واضح کرتے ہیں کہ مسلمان کا اصل آئین قرآنِ حکیم ہے، جو ایک زندہ کتاب ہے اور جس کی حکمت لازوال اور ربانی بنیاد سے وابستہ ہے۔ اسی لیے قرآن وقتی مسائل سے بالا تر رہنمائی اور دائمی معیار فراہم کرتا ہے۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button